پاکدامن ملکہ

حکایت نمبر419: پاکدامن ملکہ

حضرتِ سیِّدُناجَعْفَر بن محمد صادِق علیہ رحمۃ اللہ الرازق سے منقول ہے،بنی اسرائیل کا ایک شخص سفر پر جانے لگا تو اپنے بھائی سے عہد لیا کہ ”تم میری بیوی کی خدمت اور دیکھ بھال کرو گے۔” اس نے اقرارکر لیا اور یقین دہانی کراتے ہوئے کہا :”بھائی جان! آپ بے فکر ہو کر سفر پر جائیں، آپ کو کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہوگی ،میں ہر طرح سے آپ کی زوجہ کا خیال رکھوں گا۔” چنانچہ، وہ مطمئن ہو کرسفر پر روانہ ہوگیا۔ اس نے اپنی بھابھی کے ساتھ رہنا شروع کردیا۔ عورت کے حسن و جمال نے اس کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ ڈال دیا،وہ اپنی بھابھی پر عاشق ہوگیا اور ا پنے بھائی سے کئے ہوئے عہد کو توڑ کر اس کی بیوی کو اپنے ارادے سے آگاہ کرتے ہوئے گناہ کی دعوت دی ۔ عورت پاکدامن و باحیا تھی، اس نے انکار کردیا۔جب بدبخت و خائن دیْوَر اپنی کوشش میں ناکام ہونے لگا تو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ”اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہیں ہلاک کردوں گا۔” عور ت نے کہا: ”خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں تمہاری گناہ بھری دعوت ہر گز ہر گز قبول نہ کروں گی، تم جو چاہے کرلو۔”پاکباز عورت کے ایمان افروزاور جراءَ ت مندانہ انداز کو دیکھ کروہ خاموش ہوگیا۔ جب اس کا بھائی سفر سے واپس آیا توکہا:” میرے بھائی! جانتے ہو! تمہاری بیوی نے تمہارے جانے کے بعد کیا گُل کھلایا ؟سنو!وہ مجھے بدکاری کی دعوت دیاکرتی تھی، توبہ توبہ، و ہ تو بڑی بد چلن ہے ۔اس نے تمہارے جانے کے بعدنہ جانے کیا کیا برے کام کئے ہیں۔ ”
بھائی کی یہ باتیں سن کر اسے بہت غصہ آیا اس نے کہا:” جانتے ہو! تم کیا کہہ رہے ہو؟” کہا:” بھائی جان ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں بالکل سچ کہہ رہاہوں۔ میں نے حقیقت واضح کردی ہے، ا ب تمہاری مرضی۔” بھائی کی باتیں سُن کر اس کے دل میں یہ بات جم گئی کہ” واقعی میری بیوی نے خيانت کی ہے۔ ”غم و غصے کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی سے بات چیت بالکل بند کردی ۔ بالآخر ایک رات موقع پا کر اپنی پاکباز بیوی کو تلوار کے پے درپے وار کرکے شدید زخمی کردیا۔ جب یقین ہوگیا کہ یہ مرچکی ہے تو

وہاں سے چلا گیا۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قدرت کہ شدید زخمی ہوجانے کے باوجودنیک خاتون ابھی زندہ تھی ،وہ گرتی پڑتی ایک راہب کے عبادت خانے کے قریب پہنچی، اس کی درد بھری آہیں سن کر راہب نے اپنے غلام کو بلایا،دونوں اسے اُٹھاکر عبادت خانے میں لے آئے۔ نیک نیت راہب بڑی توجہ سے اس کا علاج کرتا رہا، جس کی وجہ سے وہ بہت جلد صحت یاب ہوگئی۔ راہب کی زوجہ فوت ہوگئی تھی اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ راہب نے عورت سے کہا:” اب تم ٹھیک ہوگئی ہو اگر جانا چاہو تو بخوشی چلی جاؤ، اگر یہاں رہنا چاہو تو تمہاری مرضی ۔”
عورت نے کہا:” میں یہیں رہ کرآپ کی خدمت میں زندگی گزارناچاہتی ہوں۔” راہب نے اپنا بچہ اس کے حوالے کر دیا۔ نیک و پارساخاتون بڑی دل جمعی سے اس کی پرورش کرنے لگی۔ راہب کا سیاہ فام غلام عورت کے حسن کو دیکھ کر بدنیت ہوگیا اور موقع کی تلاش میں رہنے لگا۔ا یک دن اس نے اپنی نیتِ بد کا اظہار کرتے ہوئے اس پاکبازو باحیا عورت کو بدکاری کی طرف بلایا اور کہا: ” بخدا! یا تو میری بات مان لے اور میری خواہش پوری کر دے ورنہ میں تجھے ہلاک کردوں گا۔” خوفِ خدا رکھنے والی نیک عورت نے کہا :’ میں ہر گز ہر گز تیری بات نہیں مانوں گی تجھے جو کرنا ہے کرلے۔” بدکار سیاہ فام اپنی ناکامی پر ماتم کرتا ہوا دل میں بغض لئے وہاں سے چلا گیا۔ رات کی سیاہی نے جب ہر شے کو ڈھانپ لیا توسیاہ فام غلام عورت کے پاس آیا ، بچہ اس کی گود میں رو رہا تھا اور وہ اسے بہلا رہی تھی ۔ ظالم و شہوت پرست سیاہ فام غلام نے تیز چھری سے بچے کا گلا کاٹ دیا،چند ہی لمحوں میں اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ غلام دوڑکرراہب کے پاس گیا اور کہا: ” حضور! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی اس مہمان خبیث عورت نے کیا کارنامہ کیا ہے ؟ کیا آپ کو معلوم ہے اس نے آپ کے ننھے منے بچے کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟آپ نے اس کے ساتھ احسان کیا لیکن اس نے آپ کے بچے کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔ ہائے !ہائے! کیسی ظالم عورت ہے۔” راہب غلام کی باتیں سن کر بہت متعجب ہوا اور پریشان ہو کر کہا:” تیرا ناس ہو! بتا تو سہی اس نے میرے بچے کے ساتھ کیا کیا ہے؟” کہا: ” حضور! اس نے آپ کے لاڈلے بچے کو ذبح کر ڈالا ہے، اگر یقین نہیں آتا تو چل کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔” راہب دوڑتاہوا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ واقعی بچے کا گلا کٹا ہواہے اوراس کا جسم خون میں لَت پَت ہے ۔ راہب نے عورت سے پوچھا: ” میرے بچے کو کیا ہوا ؟” کہا:” میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا بلکہ آپ کے غلام نے مجھے گناہ کی دعوت دی جب میں نے انکار کیا توا س نے بچے کوقتل کردیا۔میں اس معاملے میں بالکل بے قصور ہوں۔ ”
راہب نے کہا:” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تو نے اپنے معاملے میں مجھے شک میں مبتلا کردیا ہے، اب میں نہیں چاہتا کہ تو میرے ساتھ رہے۔ یہ پچاس(50) دینار لے جا اور جہاں تیرا جی چاہے چلی جا ،یہ دینار تیری ضروریات میں کا م آئیں گے۔” عورت نے پچاس دینار لئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے امید لگائے غیرمتعین منزل کی طرف چل دی۔ایک بستی کے

قریب سے گزری تو دیکھا کہ مجمع لگاہواہے اور ایک شخص کو پھانسی دینے کے لئے لایا جارہا ہے،بستی کا سردار بھی وہیں موجود تھا ۔ عورت سردار کے پاس گئی اور کہا:” کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم مجھ سے پچاس دینار لے لو اور اس شخص کو آزاد کردو۔”سردار نے کہا: ”لاؤ! رقم میرے حوالے کرو۔” عورت نے پچاس دینار دیئے توسردار نے قیدی کورِہا کردیا۔وہ قیدی اس پاکباز صابرہ خاتون کے پاس آیا اور کہا:”میری جان بچاکر تو نے جو احسان کیا ہے آج تک کسی نے مجھ پرایسا احسان نہیں کیا۔ اب میں تیری خدمت کروں گا یہاں تک کہ موت ہمارے درمیان جدائی کردے۔”
چنانچہ، وہ شخص اس عورت کو لے کر ساحلِ سمندر پر پہنچا، کشتی چلنے ہی کو تھی دونوں کشتی میں سوار ہوگئے۔ عورت کا حسن وجمال دیکھ کر سارے مسافر حیران رہ گئے ۔ وہ عورتوں والے حصے میں بیٹھ گئی۔ لوگوں نے قیدی سے کہا:” یہ حسین و جمیل عورت کون ہے ؟ ” اس بدبخت نے کہا: ”یہ میری زر خرید لونڈی ہے۔”کشتی میں موجود ایک شخص جو اس عورت کے حسن میں گرفتار ہوچکا تھا، اس نے کہا:” کیا تم اپنی لونڈی فروخت کرو گے؟” کہا : ”میں اسے بیچنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے، جب اسے معلوم ہوگا کہ میں نے اسے بیچ دیا ہے تو اسے میری طرف سے بہت تکلیف پہنچے گی، اس نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ میں اسے کبھی نہ بیچوں گا۔” مسافر نے کہا:” تو مجھ سے منہ مانگی قیمت لے لے اور خاموشی سے چلا جا! تجھے کیا ضرورت ہے کہ تو اسے بتائے ۔” لالچی واحسان فراموش، دھوکے بازقیدی نے مال کے وبال میں پھنس کر مسافر سے بہت سارا مال ليا اور کشتی سے اُتر گیا۔ مسافر نے اس خرید وفروخت پر تمام مسافروں کو گواہ بنالیا۔ عورت چونکہ مستورات والے حصے میں تھی اس لئے اس معاملے سے بے خبر رہی۔ جب مسافر کو یقین ہوگیا کہ اس کامالک جاچکا ہے اب واپس نہیں آسکتا تو وہ عورت کے پاس آیا اور کہا:” آج سے تم میری ملکیت میں ہو، میں نے تمہیں خرید لیا ہے۔”
عورت نے کہا: ” خدا عَزَّوَجَلَّ کا خوف کر! تو نے مجھے کیسے خرید لیا؟ جبکہ میں آزاد ہوں اورکسی کی ملکیت میں نہیں۔” مسافر نے کہا:” ان باتوں کو چھوڑ،تیرا مالک تجھے بیچ کر یہاں سے جاچکا ہے۔ اب نہ تو اپنے مالک کے پا س جا سکتی ہے نہ ہی وہ رقم واپس کرسکتی ہے جو تیرے مالک نے مجھ سے لی ہے ،میں نے مالِ کثیر دے کر تجھے خریدا ہے اورتمام مسافر اس پرگواہ ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو ان سے پوچھ لے۔ سب مسافروں نے کہا:”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دشمن!اس نے واقعی تجھے خریداہے ،ہم سب اس پرگواہ ہیں۔”نیک وپاکباز،جرأت مندعورت نے کہا:”تمہاراناس ہو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو۔خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں آزاد ہوں، آج تک کبھی کوئی میرامالک نہیں بنا۔میں کسی کی لونڈی نہیں کہ مجھے کوئی بیچے۔تم اس معاملہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو۔لوگوں نے اس مسافر سے کہا: ”یہ اس طرح باز نہیں آئے گی، اس کے ساتھ جوسلوک کرناہے کرڈال، خودہی مان جائے گی۔”یہ سن کرمسافراس کی طرف بڑھا۔ جب اس مظلومہ کو اپنی عزت کاخطرہ محسوس ہواتواس نے کشتی والوں کے لئے بددعا کی ۔فوراً کشتی ان سب کولے کرڈوب

گئی۔سب کے سب غرق ہوگئے اورکشتی کے تختے پرعورت کے علاوہ کوئی باقی نہ بچا۔
وہ عیدکادن تھا،بادشاہ اپنی رعایاکے ساتھ ساحلِ سمندرپرآیاہواتھا،تمام لوگ خوشیاں منارہے تھے ،جب بادشاہ نے کشتی کوڈوبتے دیکھاتوفوراًتیراک سپاہیوں کوحکم دیا: ” جلدی سے کشتی والوں کی مددکو پہنچو۔”سپاہی گئے توانہیں اس نیک عورت کے علاوہ کوئی اورزندہ نہ ملا۔وہ اسے لے کربادشاہ کے پاس آئے ،بادشاہ نے حقیقتِ حال دریافت کرتے ہوئے نکاح کاپیغام دیا۔لیکن اس نے یہ کہہ کرانکارکردیا:” میراقصّہ بڑاعجیب وغریب ہے ، میرے لئے نکاح کرناجائزنہیں ۔”بادشاہ نے جب یہ سناتواس کے لئے علیحدہ مکان بنوادیااوروہ اس میں رہنے لگی۔لیل و نہار(یعنی رات دن) گزرتے رہے،وقت کی گاڑی تیزی سے چلتی رہی۔ بادشاہ کوجب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتاتو وہ اس پاکبازعورت سے مشورہ کرتا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے مشوروں میں ایسی برکت دی کہ ان پرعمل کرکے بادشاہ کو ہمیشہ کامیابی ہوتی ۔اب بادشاہ کے نزدیک یہ پاکبازعورت بہت معظم ہوگئی تھی وہ اسے بہت بابرکت سمجھنے لگا۔ جب بادشاہ کی موت کا وقت قریب آیاتواس نے اپنے وزیروں،مشیروں اوررعایاکوجمع کرکے کہا:”اے لوگو!تم نے مجھے کیساپایا؟”سب نے بیک زبان جواب دیاـ:”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کواچھی جزا عطافرمائے ،آپ ہمارے لئے رحیم باپ کی طرح ہیں ۔”بادشاہ نے کہا:”اے لوگو!توجہ سے میری بات سنو!تم نے محسوس کیاہوگاکہ ہماری نیک سیرت مہمان خاتون کے قابلِ قدرمشوروں کی بدولت ہمارے ملک کانظام بہت بہترہوگیاہے ۔میں نے اسے اپنے ہر معاملے میں بابرکت پایا۔میں تمہارے لئے ایک بہت اچھی تدبیرکرناچاہتاہوں۔”لوگوں نے تجسُّس بھرے اندازمیں کہا:”عالی جاہ!حکم فرمائیں آپ کیاچاہتے ہیں؟” کہا: ”میں چاہتاہوں کہ اپنے بعداس نیک سیرت خاتون کوتم پرملکہ مقررکردوں ۔” شفیق ورحیم بادشاہ کے حکم پر”لَبَّیْک ” کہتے ہوئے سب نے عرض کی :”عالی جاہ!جیساآپ چاہتے ہیں ،اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ویساہی ہوگا ۔” چنانچہ، بادشاہ نے اس باحیا،نیک سیرت وصابرہ خاتون کوپورے ملک کی سلطنت عطاکردی اورخود دارِ فانی سے کوچ کرکے دارِ بقاکاراہی بن گیا۔
اس نے ملکہ بنتے ہی اعلان کردیاکہ پورے ملک کے لوگ بیعت کے لئے جمع ہوجائیں۔ حکمِ شاہی ملتے ہی ملک کے گوشے گوشے سے لوگ نئے بادشاہ کی بیعت کے لئے جمع ہوگئے۔ بیعت کاسلسلہ شروع ہوا۔جب اس کاشوہراوردیورآئے توحکم دیاکہ ان دونوں کو علیحدہ کھڑا کردو۔ پھروہ شخص آیاجسے پھانسی دی جارہی تھی (اورجس احسان فراموش نے اپنی اس محسنہ کوبیچ دیاتھا)ملکہ نے حکم دیاکہ اسے بھی ان دونوں کے ساتھ کھڑا کردو۔پھرنیک سیرت راہب اوراس کابدکردارسیاہ فام غلام آیاتوانہیں بھی لوگوں سے علیحدہ کر دیاگیا۔جب تمام لوگ بیعت کرچکے توملکہ نے ان پانچوں کواپنے پاس بلوایااوراپنے شوہرسے کہا:”کیاتم مجھے پہچانتے ہو؟” اس نے کہا:” خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آپ ہماری ملکہ ہیں ۔” کہا:”میں تمہاری بیوی ہوں ۔ سنو!تمہارے بدکرداروخائن بھائی نے میرے ساتھ کیسابراسلوک کیاتھا۔”یہ کہہ کرساراواقعہ اسے بتایااورکہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتاہے کہ تم سے جداہونے سے لے کر

آج تک مجھے کسی مردنے نہیں چھوا۔میں آج بھی پاک دامن ومحفوظ ہوں۔”پھراس نے اپنے دیورکوبلاکرپھانسی کاحکم دے دیا۔ پھر راہب سے کہا:”اگرآپ کی کوئی حاجت ہوتوبتاؤ،میں وہی عورت ہوں جوتمہارے پاس زخمی حالت میں آئی تھی۔” تمہارے بیٹے کو تمہارے اس ظالم وشہوت پرست سیاہ فام غلام نے ذبح کیاتھا۔”پھر غلام کوبلواکراسے بھی قتل کروادیا۔اب اس شخص کی باری تھی جسے پھانسی دی جارہی تھی اورملکہ نے اسے بچایاتھا۔ جب وہ آیاتواسے بھی قتل کردیا گیا اور اس کی لاش چوراہے پرلٹکادی گئی اوریوں وہ اپنے انجامِ بد کو پہنچ گیا۔ باحیا و پاک دامن خاتون نے ہرآن اپنی عزت کی حفاظت کی، احکامِ خدا وندی عزوجل کو پیشِ نظر رکھااور صبرواستقامت سے کام لیا۔آج اسے تاج وتخت اورعزت وعظمت کی دولت میسرتھی۔جب تک خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ نے چاہاوہ بحسن وخوبی امورِ سلطنت انجام دیتی رہی پھر اس دارِفانی سے دارِبقاکی طرف کوچ کرگئی۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سبق آموزحکایت کے اندر عبرت کے بے شمارمدنی پھول ہیں۔ مثلاً:(۱)۔۔۔۔۔۔بغیرتحقیق کے کبھی کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں کرنی چاہے۔(۲)۔۔۔۔۔۔کبھی بھی غیرمحرم کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرنی چاہے اور دَیور تو موت ہے۔(۳)۔۔۔۔۔۔نیک لوگ مال و دولت دے کربھی دوسروں کومصیبتوں اورآفتوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (۴)۔۔۔۔۔۔دولت کاحریص اپنے محسنوں کوبھول جاتاہے اور اُن کے ساتھ ایساسلوک کر گزر تا ہے جوکسی طرح بھی روا وجائز نہیں۔ (۵)۔۔۔۔۔۔بلاتحقیق کسی پرکوئی حکم نہیں لگاناچاہے۔(۶)۔۔۔۔۔۔شہوت پرستی گناہوں کے سمندرمیں غرق کردیتی ہے اور اس میں ڈوب کرانسان جہنم کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ (۷)۔۔۔۔۔۔انسان کیسی ہی حالت سے دوچارہوپھر بھی احکامِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی پابندی کرے اور اپنی عزت و ایمان کوکسی قیمت پرنہ چھوڑے۔(۸)۔۔۔۔۔۔بندہ مصیبتوں،ظلم وستم کی آندھیوں اورغم وحزن کی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرکرایک نہ ایک دن خوشیوں اورعزتوں کے گلشن میں ضرورپہنچتاہے۔(۹)۔۔۔۔۔۔انسان کواس کے برے اعمال کا برا اوراچھے اعمال کااچھاصلہ ضرورملتاہے۔جوہرحال میں اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے احکام کی پابندی کرتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا،نصرتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ہروقت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نیک امور پر استقامت عطافرمائے۔(۱۰)۔۔۔۔۔۔اپنی عزت وعصمت کی ہمیشہ حفاظت کرنی چاہے۔ کسی بھی حالت میں دولتِ عزت کی چادر داغ دارنہیں ہونی چاہے کیونکہ ایمان کے بعد عز ت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔سب کچھ چھوٹے توچھوٹ جائے لیکن ایمان وعزت ہاتھ سے نہ جانے پائے ورنہ دونوں جہاں کی بربادی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ایسی مدنی سوچ عطافرمائے کہ ہم بھی ہرحال میں حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ اورسنتِ نبوی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیروی کریں اورگناہوں سے نفرت کرتے رہیں۔)
(آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)