مرحوم والدین پر اولاد کے اعمال کی پیشی

حکایت نمبر455: مرحوم والدین پر اولاد کے اعمال کی پیشی

حضرتِ سیِّدُناصَدَقَہ بن سُلَیْمَان جَعْفَرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :”میرا عنفوانِ شباب تھا اورمیں بُری عادتوں اور دنیا کی رنگینیوں میں مگن تھا۔ مگر جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو میرا دل چوٹ کھاگیا۔ میں نے اپنی سابقہ خطاؤں پر شرمندہ ہوتے ہوئے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں توبہ کرلی اور اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہوگیا۔ پھر بد قسمتی سے ایک دن میں کسی برے کام کا مرتکب ہوا تو اسی رات والد ِمحترم خواب میں آئے اور فرمایا:”اے میرے بیٹے !تیرے اعمال میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو مجھے بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے کیونکہ وہ نیک لوگوں کے اعمال جیسے ہوتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ جب تیرے اعمال پیش کئے گئے تومجھے بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔خدارا!مجھے میرے فوت شدہ دوستوں کے سامنے رسوا نہ کیا کرو ۔”بس اس خواب کے بعد میری زندگی میں انقلاب آگیا۔میں ڈر گیا اورتوبہ پر استقامت اختیار کر لی ۔
راوی کہتے ہیں: تہجد کی نماز میں ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس طرح التجائیں کرتے ہوئے سنتے تھے : ”اے صالحین کی اصلاح کرنے والے!اے بھٹکے ہوؤں کو سیدھی راہ چلانے والے!اے گناہگاروں پررحم فرمانے والے !میں تجھ سے ایسی توبہ کا سوال کرتا ہوں جس کے بعد کبھی گناہ کی طرف نہ جاؤں ۔کبھی برائی وظلم کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھوں ۔اے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ !مجھے سچی توبہ کی توفیق عطا فرما۔”

؎ گناہوں سے ہر دم بچا یا الٰہی
مجھے نیک انساں بنایا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !
تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کا نپتا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ!

( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)