لاکھ درہم کے بدلے جنتی محل

حکایت نمبر219: لاکھ درہم کے بدلے جنتی محل

حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن سلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنّان فرماتے ہیں : ” ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کے ساتھ جار ہا تھا۔ ایک جگہ ایک عظیم الشان محل کی تعمیرجاری تھی۔ ایک حسین و جمیل نوجوان مزدوروں ،معماروں کو تعمیر سے متعلق

حکم دے رہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے مجھ سے فرمایا: ”اے جَعْفَر (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!دیکھو تو سہی!یہ نوجوان اس محل کی تعمیر میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے ۔ میں اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے دعا کروں گا کہ وہ اسے دنیوی محبت سے چھٹکارا عطا فرمائے ۔ مجھے امید ہے کہ میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ اس نوجوان کو جنتی نوجوانوں کی صف میں شامل فرمائے گا۔ آؤ!ہم اسے نیکی کی دعوت دیتے ہیں ۔”
ہم نوجوان کے پاس آئے اور سلام کیا۔ اس نے بیٹھے بیٹھے ہی سلام کا جواب دیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے سامنے ایک ولئ کامل کھڑا ہے ۔جب لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفارہیں تو وہ فوراً کھڑا ہوا اور بڑے مؤدِّبا نہ انداز میں عرض گزار ہوا:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مجھ سے کوئی کام ہے ؟” فرمایا :” اے نوجوان ! تیرا اس محل کی تعمیر پر کتنی رقم خرچ کرنے کا ارادہ ہے ؟” کہا :” ایک لاکھ درہم۔ ” فرمایا :” کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم ایک لاکھ درہم مجھے دے دو میں یہ تمام رقم اس کے حق داروں ،یتیموں اور مساکین میں تقسیم کردو ں اور اس کے بدلے ایک ایسے محل کا ضامن بن جاؤں جس میں بہترین خدمت گزار، سرخ یا قوت کے قُبّے اور عمدہ قمقے ہونگے ، وہاں کی مِٹی زعفران کی ا ور فر ش مُشک کا ہوگا ، وہ محل تیرے اس محل سے بہت زیادہ وسیع وعالی ہوگا ، اس کے درودِیوار میلے نہ ہونگے ، اسے معماروں اور مزدوروں نے نہیں بنایا بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا اور وہ محل بن گیا ۔بتا ؤ تمہیں یہ سودا منظور ہے ؟ ”
نوجوان نے کہا:” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک رات کی مہلت دے دیں ، کل صبح میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا۔” حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن سلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ :”وہ رات حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے بڑی بے چینی کے عالم میں گزاری، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ساری رات اسی نوجوان کے بارے میں سوچتے رہے ، تہجد کے وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس نوجوان کے لئے خوب دعا کی ۔فجر کی نماز کے بعد ہم دوبارہ اس کے پاس گئے۔ وہ ہمارامنتظر تھا جیسے ہی اس کی نظر حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار پر پڑی وہ اتنہائی خوشی کے عالم میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف لپکا اور بڑی گرم جوشی سے ملاقات کی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”اے نوجوان! تونے کیا فیصلہ کیا ؟ اس نے ایک لاکھ درہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا:” مجھے جنتی محل کا سودا منظور ہے ،آپ مجھے ضمانت نامہ لکھ دیجئے۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قلم ،دوات منگواکر ایک کاغذ پر یہ الفاظ لکھے:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

”یہ ضمانت نامہ اس بات کا ہے کہ مالک بن دینارنے فلاں بن فلاں سے یہ اقرار کیاکہ” بے شک میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اس محل کے بدلے ایک ایسا محل عطا فرمائے گا جو ا س سے بد رجہا بہتر ہوگا۔ اور اس کی یہ ،یہ صفات

ہونگی۔ میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے تیرے لئے اس مال کے ذریعے جنت میں ایک ایسا محل خریدا ہے جو عرش کے قریب ہے۔ ”
پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ کا غذ نوجوان کو دیا۔ اورشام سے پہلے پہلے تمام مال فقرا ومساکین میں تقسیم فرمادیا۔ اس واقعہ کے چالیس دن بعد آ پ کو مسجد کی محراب میں ایک پرچہ ملا،دیکھا تو بڑے حیران ہوئے کیونکہ یہ وہی پرچہ تھا جو اس نوجوان کو لکھ کر دیا تھا۔ اس کی دوسری طرف بغیر روشنائی کے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
” یہ براء ت نامہ ،خدائے بزرگ وبر ترکی جانب سے مالک بن دینار کے لئے ہے۔بے شک ہم نے اس نوجوان کو وہ تمام چیزیں دے دیں ہیں جن کا مالک بن دینار نے اس سے اقرار کیا تھا بلکہ ہم نے اس سے ستر گنا زیادہ دیا۔”ہم وہ رقعہ لے کر اس نوجوان کے گھر گئے تو وہاں سے رونے کی آواز یں آرہی تھیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لوگوں سے نوجوان کے بارے میں پوچھا توپتا چلا کہ کل اس نوجوان کا انتقال ہوگیا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی موت کی خبرسن کر بہت غمگین ہوئے پھر غسّال کو بلاکر پوچھا :کیا تو نے اس نوجوان کو غسل دیا؟” کہا :” ہاں۔ ” فرمایا: ”نوجوان کی موت کا پورا واقعہ بیان کرو۔ ”
کہا:” مرنے سے پہلے اس نوجوان نے مجھ سے کہا تھا کہ جب میں مرجاؤں اور غسل کے بعد مجھے کفن دینے لگيں تو یہ پرچہ میرے بدن اور کفن کے درمیان رکھ دینا، میں کل بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وہ چیز طلب کرو ں گا جس کی ضمانت حضرتِ سیِّدُنا مالک بن د ینارعلیہ رحمۃ اللہ الغفار نے مجھے دی تھی ۔”میں نے حسبِ وصیت پرچہ اس کے کفن میں رکھ دیا، غسّال کی یہ بات سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پرچہ نکالا اور غسّال کو دکھایا ،وہ پکار اٹھا :” یہ وہی پرچہ ہے ، قسم ہے اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! میں نے خود اپنے ہاتھوں سے یہ پرچہ اس نوجوان کے کفن میں رکھا تھا۔ ”
یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار زار وقطار رونے لگے۔لوگ بھی رونے لگے۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہوا اور کہا :” اے مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار !آپ مجھ سے دو لاکھ درہم لے لیں اور اس نوجوان کی طرح مجھے بھی ضمانت نامہ لکھ دیں۔” فرمایا:” افسوس ! اب وہ وقت گزر چکا ، اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا ، اللہ ربُّ العزت جس طر ح چاہتا ہے اپنی مخلوق میں فیصلہ فرماتا ہے ۔” حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن سلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ” حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کو جب بھی اس نوجوان کا واقعہ یاد آتا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زارو قطار رونے لگتے اور اس کے لئے دعا فرماتے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشنودی ،جنت کی دائمی نعمتوں کے حصول اور باکردار مسلمان بننے کے لئے ”دعوتِ ا سلامی” کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے” مدنی انعامات ”نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے۔اور اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے

اجتماع میں پابندیئ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے۔ دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لیے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں گے۔)
؎ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو !