کیا ایک وقت میں تین طلاقیں دی جاسکتی ہیں ؟

سوال نمبر۲۷:-کیا ایک وقت میں تین طلاقیں دی جاسکتی ہیں ؟

جواب :-ایک وقت میں تین طلاقیں دینا گناہ ہے ۔چنانچہ نسائی شریف میں حدیث ہے حضرت محمود بن لبید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں ،کہ نبی کریم رؤف رّحیم   کی خدمت میں ایک شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو

تین طلاقیں اکٹھی دیدی تھیں تو نبی کریم رؤف رّحیم   انتہائی جلال میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا وہ شخص اﷲعزّوجل کی کتاب کے ساتھ کھیلتا ہے حالانکہ میں ان کے درمیان موجود ہوں حتی کہ ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا۔ یا رسول اﷲ اکیا میں اُسے قتل کردوں۔ (مشکوٰ ۃ ۴ ۲۸)

    لہذا تین طلاقیں اکٹھی نہ دی جائیں کہ گناہ ہیں البتہ اگر کسی نے تین طلاقیں اکٹھی دے دیں تو یقینا واقع ہوجائیں گی ۔ جیسا کہ مذکورہ بالاحدیث میں موجود ہے ۔اس مسئلے کی تفصیل کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہوتی ہیں کتبِ علمائے اہلسنت میں موجود ہے نیز اس کے لئے دارالافتاء اہلسنت کنزالایمان مسجد بابری چوک (گرومندر ) کراچی سے بھی تفصیلی مدلّل فتوی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔