کن کو کس کو دیکھنا ناجائز ہے

کن کو کس کو دیکھنا ناجائز ہے

(۱)’’ عَنِ ا بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ ‘‘۔ (1)
حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ عور ت عورت ہے یعنی پردہ میں رکھنے کی چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس عورت کو گھورتا ہے یعنی کسی اجنبی عورت کو دیکھنا شیطانی کام ہے ۔ (ترمذی)
(۲)’’ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَیْمُونَۃَ اِذْ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ احْتَجِبَا مِنْہُ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَلَیْسَ ہُوَ أَعْمَی لَا یُبْصِرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَفَعَمْیَا وَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِہِ؟‘‘۔ (2)
حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے روایت ہے کہ میں اور حضرت میمونہ حضور کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ( ایک نابینا صحابی) حضرت ابنِ ام مکتوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سامنے سے حضور کی خدمت میں آرہے تھے تو سرکار نے ( ہم دونوں سے ) فرمایا کہ پردہ کرلو (حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ) میں نے عرض کیا یارسول اﷲ! کیا وہ نابینانہیں ہیں؟وہ ہمیں نہیں دیکھ
سکیں گے ۔ حضور نے فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کیا تم انہیں نہیں دیکھو گی۔ (احمد، ترمذی، ابوداود)
یعنی مرد کے لیے جس طرح اجنبی عورت کو دیکھنا ناجائز ہے اسی طرح عورت کے لیے اجنبی مرد کو دیکھنا بھی جائز نہیں۔
(۳)’’عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَائَ ۃِ فَأَمَرَنِی أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِی‘‘۔ (1)
حضرت جریر بن عبداللہ نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے (کسی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے مجھے نظر پھیرلینے کا حکم فرمایا ۔ (مسلم)
(۴)’’ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیّ یَا عَلِیُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَإِنَّ لَکَ الْأُولَی وَلَیْسَتْ لَکَ الْآخِرَۃُ‘‘۔ (2)
حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا کہ اے علی ! ( اجنبی عورت پر) ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ مت ڈالو کہ اچانک پڑجانے والی پہلی نگاہ تمہارے لیے معاف ہے دوبارہ دیکھنا جائز نہیں۔ (ترمذی)
(۵)’’ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمَرْأَۃَ تُقْبِلُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍِ إِذَا أَحَدُکُمْ أَعْجَبَتْہُ الْمَرْأَۃُ فَوَقَعَتْ فِی قَلْبِہِ فَلْیَعْمِدْ إِلَی امْرَأَتِہِ فَلْیُوَاقِعْہَا فَإِنَّ ذَلِکَ یَرُدُّ مَا فِی نَفْسِہِ‘‘۔ (3)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ عورت شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور شیطان کی شکل میں پیچھے جاتی ہے جب تم میں سے کسی کو غیر عورت اچھی معلوم ہو پھر اس کا خیال د ل میں جم جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے اور اس سے ہمبستری کرلے اس لیے کہ ایسا کرنا اس کے دل کے شہوانی خیال کو دور کر دے گا۔ (مسلم شریف)

٭…٭…٭…٭