خوشیوں کا گھر

حکایت نمبر365: خوشیوں کا گھر

اپنے زمانے کے بہت ہی متقی وصالح بزرگ حضرتِ سیِّدُناسَالِم بن زُرْعَہ بن حَمَّاد ابومرضِی علیہ ر حمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ” ہم جس علاقے میں رہتے تھے وہاں کا پانی تقریباً ساٹھ سال سے نمکین تھا۔ وہاں سے گزرنے والی نہر کا پانی بھی انتہائی کڑوا تھا۔ نہر کے قریب ہی ایک عبادت گزار نوجوان رہتا تھا ۔ اس کے گھر میں نہ تو کوئی پانی کی ٹینکی وغیرہ تھی اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا بر تن جس میں پانی رکھا جا سکے۔ ایک مرتبہ سخت گرمی کے دن رمضان کے مہینے میں افطار کے وقت میں نے اس نوجوان کو نہر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا ۔ میں بھی اس نوجوان کے ساتھ ہولیا۔ اس نے نماز کے لئے وضو کیا پھر اس طر ح التجا کی: ” اے میرے پاک پر وردگار عَزَّوَجَلَّ ! کیا تُو میرے اعمال سے خوش ہے کہ میں تجھ سے سوال کروں؟ اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! گرم اور کھولتا ہوا پانی اس کے لئے ہوگا جس نے تیری نافرمانی کی ہوگی ۔اگرمجھے تیرے غضب کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی بھی افطار نہ کرتا ، بے شک پیاس کی شدت نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ہے۔”
یہ دعا کرنے کے بعد اس نو جوان نے اپنا ہاتھ بڑھا کر نہر سے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ میں حیران تھا کہ یہ اس کڑوے پانی پر کس طر ح صبر کر رہا ہے؟ جب وہ وہاں سے چلا گیا تو میں نے بھی اسی جگہ سے پانی پیا، میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کیونکہ

وہاں کا پانی انتہائی لذیذ اور شکر کی طرح میٹھا تھا ۔ میں نے خوب پیا یہاں تک کہ سیر ہوگیا ۔
حضرتِ سیِّدُنا ابومرضِی علیہ ر حمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: اس نوجوان نے مجھ سے کہا:” آج رات میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی کہہ رہا تھا،” ہم تیرے گھر کی تعمیر سے فارغ ہوچکے ہیں وہ گھر ایسا خوبصورت ہے کہ اسے دیکھ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ،اب ہم نے اس کی آرائش کا حکم دے دیا ہے، ایک ہفتے بعد مکمل تیار ہوجائے گا ، اس کا نام ” سرور ”ہے، تجھے اچھائی وبھلائی کی خوشخبری ہو۔” پھر میری آنکھ کھل گئی۔” حضر تِ سیِّدُناابو مرضِی علیہ ر حمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: اس نوجوان کا یہ خواب سن کر میں واپس آگیا۔ ساتویں دن جمعہ تھا ،نوجوان نمازِ فجر کے لئے وضو کرنے نہر پر گیا ۔ اس کا پاؤں پھسلا تو نہر میں ڈوب گیا ۔ ہم نے اسے نکا لا تو اس کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ فجر کی نماز کے بعد ہم نے اسے دفنادیا ۔ تین دن بعد میں نے اسے خواب میں ایک پل کی جانب آتے ہوئے دیکھا۔ اس نے بہترین سبز لباس زیبِ تن کر رکھا تھا ۔ او ر بلند آواز سے ”اللہ اکبر، اللہ اکبر”کہہ رہا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا:” اے ابو مرضِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !میرے رحیم و کریم پر وردگار عَزَّوَجَلَّ نے ”دََارُالسُّرُوْر”میں میری مہمان نوازی فرمائی اورمجھے وہ بہترین گھر عطا فرما دیا ہے ۔ تم جانتے ہو اس میں میرے لئے کیا کیا نعمتیں تیار کی گئی ہيں؟” میں نے کہا:” وہاں کی نعمتوں کی صفات بیان کر و۔”
کہا:” تمہارا بھلا ہو ! تعریف کرنے والوں کی زبانیں اس سے عاجز ہیں کہ وہاں کی نعمتوں کی صفات بیان کریں۔ اگر تجھے وہاں کی نعمتیں چاہیں توتُو بھی میری طرح عبادت وریاضت کر ۔ اے کاش ! میرے گھرو الے جانتے کہ ان کے لئے میرے ساتھ کیا کیا نعمتیں تیا ر کی گئی ہیں ؟ یہاں پر ایسے خوبصورت ومُزَیَّن گھر ہیں کہ ان کے دل جن چیز وں کی خواہش کریں گے وہ تمام اشیاء وہاں موجود ہوں گی اور اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم بھی ان کے ساتھ ہو گے ۔” پھر میری آنکھ کھل گئی ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)