حکایت نمبر303: خوش بختوں کاحصہ

حکایت نمبر303: خوش بختوں کاحصہ

حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الصَّمَد علیہ رحمۃ اللہ الاحد فرماتے ہیں:” ایک رات حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب اللہ ربُّ العزَّت کی بارگاہ میں اس طر ح عرض گزار ہوئے:” اے میرے رحیم وکریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تو نے مجھے اور میرے اہل وعیال کو بھوکا رکھا ، میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! تو نے مجھے اور میرے اہل وعیال کو کپڑوں کے بغیر رکھا ، تین دن ہمیں اسی حالت میں گزر گئے، میں نے اور میرے گھروالوں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا،مسلسل تین راتیں ہمارے گھر چراغ نہ جلا ، آخرمیرا کون سا عمل تیری بارگاہ میں مقبول ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارے ساتھ ایسا مبارک معاملہ ہو رہا ہے جو تیرے اولیاء کے ساتھ ہوتا ہے ؟ایسی سعادت تو تیرے پسندیدہ و برگزیدہ بندوں کو نصیب ہوتی ہے ، میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اگر چوتھا دن بھی اسی حالت میں گزرا تو میں سمجھوں گا کہ تیری بارگاہ میں میرا بھی کچھ مقام و مرتبہ ہے ۔”
راوی کہتے ہیں: ” جب صبح ہوئی اور چوتھا دن شروع ہوا تو کسی نے دروازے پر دستک دی ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ”کون ہے ؟” جواب ملا :”میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قاصد ہوں، انہوں نے آپ کو دیناروں کی یہ تھیلی اور ایک رقعہ بھجوایاہے۔” جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خط پڑھا تو اس میں لکھا تھا ۔” اس سال میں حج کے لئے نہیں آسکا، میں آپ کو اتنے اتنے دینار بھجوا رہا ہوں قبول فرمالیں۔ ” وَالسَّلَام !عبد اللہ بن مُبَارَک ۔
خط پڑھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زار وقطار رونے لگے اور کہا :” میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ میں اتنا خوش قسمت نہیں کہ مجھے بھی وہی نعمت ملے جو اولیاء کرام کو ملاکرتی ہے۔ ہم اس قابل کہا ں کہ ہمیں فقر کی لا زوال دولت حاصل ہو ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مصائب وتکالیف کاڈَٹ کر مقابلہ کرنا چاہے اور راضی برضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ رہنا چاہے۔ اور یہ سعادت اہلِ حق کا حصہ ہے ۔انہیں چاہے کیسی ہی مصیبت پہنچتی، کیسی ہی پریشانی لاحق ہوتی وہ ہر گز ہرگز ناشکری اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرتے بلکہ اس حالت کو بہت بڑی سعادت سمجھتے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں ہر طرح کی آزمائش پر صبر کرنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔ آپ بھی دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہے، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت سنور جائے گی ۔)