خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ کی اعلیٰ مثال

حکایت نمبر436: خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ کی اعلیٰ مثال

حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن زید بن اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناعَطَا بن یَسَار اورحضرت سیِّدُنا سلیمان بن یَسَارعلیہمارحمۃ اللہ الغفار اپنے چند رفقاء کے ہمراہ حج کے لئے حرمین شریفین زَادَ ھُمَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاکی جانب روانہ ہوئے۔ مقامِ”اَبْوَاء’پر قافلے نے ایک جگہ قیام کیا۔ حضرت سیِّدُناسلیمان علیہ رحمۃ الرحمن اور شرکائے قافلہ کسی کام سے چلے گئے اور

حضرت سیِّدُناعطا بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار اکیلے ہی سامان کے قریب نماز پڑھنے لگے۔ کچھ دیر بعد قریبی بستی سے ایک حسین وجمیل عورت وہاں آئی اور قریب آکر بیٹھ گئی ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سمجھا کہ کوئی مجبور عورت ہے اور کسی حاجت سے آئی ہے۔ اس لئے نماز کو مختصر کیا اور سلام پھیرنے کے بعد پوچھا:”کیا تمہیں کوئی حاجت ہے ؟”اس نے کہا :”جی ہاں ۔” پوچھا: ”کیا چاہتی ہو؟” کہا: ” وہی چاہتی ہوں جوعورتیں مردوں سے چاہتی ہیں، تم میری خواہش پوری کردو۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”جا!یہاں سے چلی جا! مجھے اور خود کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا ایندھن نہ بنا۔ عورت پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اس بات کا کچھ اثر نہ ہوا وہ مِنَّت سماجت کرتے ہوئے مسلسل دعوتِ گناہ دیتی رہی۔ لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہر بار اس کی بات کو رَد کیا۔ جب وہ بہت زیادہ اصرار کرنے لگی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کے باعث رونے لگے اور فرمانے لگے: ”تجھے خداعَزَّوَجَلَّ کا واسطہ! مجھ سے دُور چلی جا، جا! مجھ سے دور چلی جا۔” جب عورت نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی گریہ و زاری دیکھی تو وہ بھی رونے لگی ۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار آپہنچے۔ جب انہوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ایک عورت کو روتے دیکھا توخود بھی رونے لگے حالانکہ وہ جانتے نہ تھے کہ یہ دونوں کیوں رورہے ہیں۔ پھر شرکائے قافلہ میں سے جو بھی وہاں آتا انہیں روتا دیکھ کر رونا شروع کردیتا کسی نے بھی رونے کا سبب نہ پوچھا۔ بس ایک دوسرے کو دیکھ کر ہر ایک روئے جا رہا تھا۔ پھروہ عورت اُٹھی اور روتی ہوئی اپنی بستی کی طرف چلی گئی ۔ دوسرے لوگ آہستہ آہستہ کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔کسی نے بھی حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے رعب وجلال کی وجہ سے ان سے اس عورت اور رونے کے متعلق نہ پوچھا ۔
حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں :بالآخرایک دن میں نے ہمت کرکے پوچھا:” اے میرے بھائی! اس عورت کا کیا قصہ تھا؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”میں تمہیں سارا واقعہ بتاتا ہوں لیکن خبردار جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں یہ واقعہ کسی کو نہ بتانا۔” میں نے کہا:”ٹھیک ہے! میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم کی تعمیل کروں گا ۔”پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پو را واقعہ بتایا اور کہا: ” اس رات میں نے خواب میں حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی زیارت کی ، میں شوق سے ان کی زیارت کرتا رہا پھر ان کا حسن وجمال اور نورانیت دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہوگئی میں زاروقطار رونے لگا ،یہ دیکھ کراللہ عَزَّوَجَلَّ کے برگُزیدہ نبی حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے میری جانب نظرِکرم فرمائی، لبہائے مبارکہ کو جُنبش ہوئی ارشاد فرمایا :”اے شخص !تمہیں کس چیز نے رُلایا ہے ؟” میں نے دست بستہ عرض کی:
”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی! میرے ماں باپ آپ علیہ السلام پر قربان !مجھے آپ علیہ السلام کے عزیزِ مصرکی بیوی کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا ہونے، قید میں جانے ، حضرتِ سیِّدُنایعقوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے آپ کی جدائی ، آپ کی پاکدامنی اور صبر وشکر پر تعجب ہو رہا ہے۔” یہ سن کر حسن وجمال کے پیکر حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن یعقوب علٰی نبیناوعلیہما الصلٰوۃ

والسلام نے ارشاد فرمایا:”کیا تجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہاجسے مقام” ابواء” پر ایک دیہاتی عورت کا واقعہ پیش آیا ۔آپ علیہ السلام کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آپ علیہ السلام نے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ میں پھر رونے لگا جب بیدار ہواتو میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور میں بلند آواز سے رورہا تھا۔ اے سلمان! خبردار! میرے جیتے جی یہ واقعہ کسی کو نہ بتانا ۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کی زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نہ سنایا۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے گھر والوں کو یہ واقعہ بتایا۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کی وفات کے بعد یہ واقعہ پورے شہر میں مشہورہو گیا ۔
حضرتِ سیِّدُنا مُصْعَب بن عثمان علیہ رحمۃ الرحمن سے منقول ہے کہ یہ واقعہ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کے ساتھ پیش آیا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ ایک مرتبہ ایک حسین وجمیل نوجوان عورت نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر میں داخل ہوکر گناہ کی دعوت دی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انکار کردیا۔ وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف بڑھی اور کہا:” میرے قریب آ۔”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسے وہیں چھوڑکر گھر سے بھاگ گئے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”پھرایک دن خواب میں مجھے حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کی:”حضور! کیا آپ ہی اللہ عَزَّوَجَل کے برگزیدہ نبی حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں؟” ارشاد فرمایا :” ہاں! میں ہی یوسف (علیہ السلام )ہوں۔”پھرفرمایا:”اور تووہی ہے کہ جسے گناہ کی دعوت دی گئی لیکن اس نے گناہ کا ارادہ بھی نہ کیا۔”
حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء اور حضرتِ سیِّدُناسلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما دونوں بھائی تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بڑے اور حضرتِ سیِّدُنا سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہماچھوٹے تھے۔ یہ دونوں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا مِیْمُوْنَہ بنت حَارِث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدُنا اُبی بن کَعْب، حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود، حضرتِ سیِّدُنا ابوایوب، حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ، حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید ،حضرتِ سیِّدُناابن عبّاس، حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے احادیثِ مبارکہ سنیں۔مَیں نے اور ان دونوں نے حضرتِ سیِّدَتُنامَیْمُوْنَہ بنت حَارِث رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے احادیثِ مبارکہ روایت کی ہیں۔ ممکن ہے ان دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کے ساتھ عورت والا واقعہ علیحدہ علیحدہ پیش آیا ہو۔

وَاللہ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)