جنَّتِ عَدْن کی باد شاہت

حکایت نمبر 404: جنَّتِ عَدْن کی باد شاہت

حضرتِ سیِّدُنا وَاحدی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ”ایک مرتبہ بعد نمازِ عصر میں اپنے چچا حضرتِ سیِّدُناابنِ ریّان علیہ رحمۃ اللہ الحنَّان کے پاس ان کی مسجد میں حاضر تھا۔ اتنے میں ایک معمار آیا۔ اسے دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا ابن رَیَّان علیہ رحمۃاللہ الحنان نے فرمایا: ” اے ابوالحسن! اس وقت آنے کا کوئی خاص مقصد؟” عرض کی : ” حضور! میں چاہتا ہوں کہ آج رات آپ کے ہاں قیام کروں۔” مجھے چچا نے فرمایا: ” جاؤ! گھر میں کچھ گندم موجود ہے، کنیز سے کہو اسے پیس کر آٹا بنالے۔” میں نے عرض کی: ” چچا جان! اس کو کب گوندھا اور پکایا جائے گا؟” فرمایا: ” جاؤ! اللہ ربُّ العزَّت آسانی فرمائے گا۔ ”
میں نے کنیز کو آپ علیہ الرحمۃ کا حکم سنایا تو اس نے گندم پیس کر آٹا گوندھا اور مغرب سے پہلے ہی دو روٹیاں تیار کردیں۔ ہم نے نماز ادا کی اور گھرآگئے۔ ایک روٹی چچا جان نے لی اور دوسری اس مہمان کو دے دی۔ جب دونوں کھانا کھا چکے تو رات گئے تک آپس میں گفتگو کرتے رہے۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی اور مزید نوافل پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے تو مہمان نے کہا:”حضور! میں جس مقصد کے لئے آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں، وہ سُن لیں تاکہ میں چلا جاؤں اور آپ کی عبادت میں رکاوٹ نہ بنوں۔ سنئے! میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہہ رہا تھا:”تم ابنِ ریّان کے پاس جاؤ اور اس سے کہو” تمہارے سامنے امارت و حکومت پیش کی گئی لیکن تم نے اُسے ٹھکرا دیا، مجھے میری عزَّت کی قسم! میں تجھے جنتِ عَدْن کی بادشاہت و حکمرانی عطا فرماؤں گا۔ ”یہ سُن کر
حضرتِ سیِّدُنا ابن ریّان علیہ رحمۃ اللہ الحنان نے زارو قطار رونا شروع کردیا۔ اور فرمایا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔”
؎ سچ ہے انسان کو کچھ کھو کے مِلا کرتا ہے
آپ کو کھو کے تجھے پائے گا جویا تیرا
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)