اسلام میں عورت کا مرتبہ

اسلام میں عورت کا مرتبہ

اسلام نے عورت کے حقوق کے لیے ایسا قانون پیش کیا اورتعلیم وتربیت کے جس اصول کوپیش نظر رکھا وہ یقینا ضامن تھا عورت کی مکمل ترقی کا،ہمارے پاس مثالیں موجود ہیں کہ سرزمینِ عرب جہاں عورت کے ساتھ بدترین سلوک روارکھا جاتاتھا ‘اِس تعلیم کی بدولت چند دنوں میں ’’نسائیت‘‘ کے وہ وہ نمونے پیش کئے کہ اب مشکل سے اُن کی نظیر مل سکتی ہے۔
اگر اسلام نے ایک طرف:طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم ومسلمۃکہہ کر عورت کے لیے تعلیم وترقی کادروازہ مردوں کے دوش بدوش کھول دیا تو دوسری طرف اُن کو اخلاقی تعلیم دے کر یہ بھی بتایا کہ اِس لحاظ سے اُن کی حالت ’’آبگینوں‘‘ کی طرح ہے جو ذرا سی ٹھیس سے چُور چُو ر ہوجاتے ہیں ۔سب کو معلوم ہے کہ اسلام نے عورت کا مرتبہ کس قدر بلند کردیا اور اِس طبقہ میں کیسی اصلاح کی ؟
اسلام کی محبت
اوراسلام کی محبت تو اُن کے دل میں ایسی رچ بس گئی کہ وہ جان دینے سے گریز نہ کرتیں۔ ہزاروں سختیاں قبول کرلیتیں لیکن اسلام سے انحراف انہیں گوارہ نہ تھا چنانچہ حضرت سمیہ رضی اﷲ عنہا نے جب اسلام قبول کیا تو کفار نے انھیں سخت اذیتیں دیناشروع کیں یہاں تک کہ گرم ریت پردھوپ میں کھڑا کردیتے تھے اوروہ تلملایا کرتی تھیں ۔ایک دن وہ اسی حال میں زمین پر تڑپ رہی تھیں کہ رسول اللہاکاگزر ہوا آپ نے یہ حال دیکھ کر فرمایا کہ’’سمیہ!(رضی اﷲعنہا ) گھبرائونہیں صبر کرو ،جنت تمہار اٹھکانہ ہے۔‘‘یہ و ہ اذیت تھی کہ اگرمرد بھی کوئی اُن کی جگہ ہوتا تو اسلام کو ترک کردیتا،لیکن وہ آخروقت تک ثابت قدم رہیں اورکوئی اذیت انہیں اسلام سے منحرف نہ کرسکی ۔یہ تھی عزم واستقلال کی وہ روح جو اسلام نے اُن مائوں کے اندر پیدا کی تاکہ اُن کی اولاد بھی اسی ارادہ وثبات کولے کر پید اہو جس سے ایک قوم کامستقبل تیار ہوتا ہے۔
پھرحضرت عمر صنے قبل اسلام لانے کے اپنی بہن کوجس قدر تکلیفیں پہنچائیں ،وہ بھی کسی
سے مخفی نہیں ہیںاورصُلح حدیبیہ کے بعد بہت سی صحابیات کااپنے کافر شوہروں کوچھوڑ دینا بھی تاریخ کاروشن واقعہ ہے۔
عورتوں کی عبادات
عبادات کے سلسلہ میں نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ ،جہاد مخصوص چیزیں ہیں اوراس میں شک نہیں کہ اُن کی پابندی کماحقہٗ اداکرنا بہت مشکل ہے ،لیکن آپ دیکھیں گے کہ اِس باب میں اسلام نے عورتوں کے اندر بھی وہ روح پید اکردی تھی ،جو دوسرے مذہب کے مَردوں میں بھی نظر نہیں آتی۔اِس کے ساتھ جذبۂ ایثار وفدویت کاجو رنگ تھا وہ اورسونے پر سہاگہ تھا۔
عورت کی قدر دانی
اسلام نے عورت کی اتنی قدر بڑھا دی کہ امیرالمومنین حضرت عمرصجیسے ذی جاہ وجلال ‘ اُس کے سامنے خود کوایک معمولی انسان دکھاتے ہیں ۔
عورتوں کا جذبۂ جہاد
جب غزوہ ٔاُحد میں حضرت صفیہرضی اﷲعنہا اپنے بھائی سید الشہدا حضرت حمزہ صکے کفن کے لیے دوکپڑے لائیں ،تو آپ نے دیکھا کہ اُن کی لاش کے پاس ایک اورانصاری کی بھی برہنہ لاش پڑی ہوئی ہے ، آپ کویہ گوارا نہ ہوا کہ اپنے بھائی کو وہ دودوکفن دیں اوراُس انصاری کونظر انداز کردیں ۔چنانچہ آپ نے ایک کفن اُس انصاری کے لیے قرعہ کے ذریعہ سے علیٰحدہ کردیا۔
امام بیہقی نے نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرص کچھ اصحاب کے ساتھ جارہے تھے۔راستہ میں ایک عورت ملی جس نے عمرصکو روکا ۔آپ رُک گئے اورسر جھکا کر دیر تک باتیں سنتے رہے اورجب تک اُس نے بات ختم نہ کی آپ کھڑے رہے ۔ساتھیوں میں ایک نے عرض کیا ۔آپ نے قریش کے سرداروں کواِس بڑھیا کے لیے اتنی دیر کھڑا کیا ،فرمایا:جانتے بھی ہو یہ
کون ہے؟ یہ خولہ بنت ثعلبہرضی اﷲعنہا ہے۔یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی۔خدا کی قسم !اگر یہ رات تک مجھے کھڑا رکھتی تومیں کھڑا رہتا بس نمازوں کے اوقات میں اِس سے معذرت کرلیتا ۔ ابنِ عبداللہص نے استیعاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ خاتون راستہ میں حضرت عمر صکوملیں تو آپ نے اُن کو سلام کیا۔یہ سلام کا جواب دینے کے بعد کہنے لگیں ’’اے عمر!ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار ِعکاظ میں دیکھا ۔ اُس وقت تم عمیر کہلاتے تھے ۔ لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چَراتے پھرتے تھے۔پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے۔ذرا رعیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو اوریادر کھو جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے اُس کے لیے دُور کاآدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے، اورجو موت سے ڈرتا ہے اُس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اُسی چیز کو کھودے گا جسے بچانا چاہتا ہے۔‘‘ اِس پر جارود عبدی، جو حضرت عمر صکے ساتھ تھے ، بولے :’’اے عورت تونے امیر المؤمنین صکے ساتھ بہت زبان درازی کی۔‘‘ حضرت عمرصنے فرمایا ۔’’انھیں کہنے دو !جانتے بھی ہو ،یہ کون ہیں؟ اِن کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی۔عمر کو توبدرجہ اولیٰ سننی چاہئے۔‘‘ ا مام بخاری صنے بھی اپنی تاریخ میں اختصار کے ساتھ اِس سے ملتا جلتا قصہ نقل کیا ہے۔
غور فرمائیے کہ حضرت عمر صجیسے بارعب بزرگ ایک معمولی سی نسبت سے ایک عورت کے سامنے سرنگوںہیں۔
اسلامی عہدے عورت کے ہاتھ میں
اسلام کی تاریخ میں عورتیں فقیہ اورمحدث کے فرائض سرانجام دینے کے علاوہ محتسب کے عہد ہ پر بھی فائز رہی ہیں۔اورعلمی خدمات کامرتبہ عہدہ یعنی شعبۂ تدریس تک عورت کو نصیب ہوا ۔ مسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ عورتیں مسجدوں میں درس دیتیں ،وعظ کرتیں اورمشہور مرد طالبانِ علم اُن کے حلقۂ درس میں شرکت کرتے اوراُن سے اَسناد یااِجازت نامے حاصل کرتے۔تاکہ جس نصاب میں انہوں نے شرکت کی تھی اسے دوسروں کو سکھائیں ۔نہایت مشہور عورتوںمیں سے ایک شہدہ بھی تھیں ۔جن کا لقب اُن کی وسیع علمی شہرت اورپاکیزہ خط کی وجہ سے ’’افتخارُ النساء‘‘ اور’’کاتبہ‘‘ تھا۔
شہدہ کی ایک ہم عصر خاتون زینت نیشاپوری نے تعلیم دینے کی اجازت کئی ممتاز مردوں سے حاصل کی تھی ۔ جس کے تلامذہ میں اِس دور کاسوانح نگار اِبن ِخلکان بھی شامل ہے۔سیاح اِبن ِبطوطہ ۱۳۲۶؁ء میں شام سے گزرتے وقت دمشق میں دو عورتوں کے درس میں شریک ہوا ۔ روحانی زندگی میں عورت بلند ترین مراتب تک پہنچی۔مسلمانوں کاتذکرہ وتراجم ولی عورتوں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے۔حضرت رابعہرضی اﷲعنہا آٹھویں صدی کی بصرہ کی ایک ممتاز صوفی خاتون تھیں۔اِن کے بہت سے مرید تھے جواِن سے روحانی علم حاصل کرتے تھے۔ اُن کے علاوہ اسلامی تاریخ عورتوں کی عزت افزائی واحترام کے بیانات کی منہ بولتی تصویر ہے۔
میری مراد
فقیر نے تمہید طویل کردی تاکہ عورت اپناماضی اورمستقبل خوب سمجھ سکے جب اسلام نے اُس کی عزت اَفزائی فرمائی ہے تواُسے اسلام کی شیدائی ہوناچاہیے۔بالخصوص جب ماں بننے کا شرف نصیب ہو تووہ اپنی اولاد کی تربیت اِسلامی طریقے سے کرے ،تاکہ اُس کی اولاد حضور غو ث الاعظم جیلانی اورسیدنا اجمیر ی اورغزالی ورازی رحمہم اﷲ کانقشہ پیش کرے۔فقیر’’ اچھی مائیں ‘‘کا مضمون سپر دِ قلم کرتا ہے ۔خداکرے کہ فقیر کی یہ کوچہ نویسی اچھی مائوں کے کام آئے ۔فقیر اورناشر کے لیے توشۂ آخرت اورعوامِ اہلِ اسلام کے لیے مشعلِ راہ ہدایت ثابت ہو ۔
آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
س

Exit mobile version