حکایت نمبر284: امام کسائی کی علمی مہارت

حکایت نمبر284: امام کسائی کی علمی مہارت

حضرتِ سیِّدُنا ابو حاتم سَہْل بن محمد سِجِسْتَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ کو فہ کی ایک ایسی شخصیت کو ہم پر عامل(یعنی گورنر) مقررکیا گیا کہ بصرہ کے سرکاری عہدے داروں میں اس سے زیادہ ذہین اور قابل شخص میں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ میں ملاقات کے لئے گیا تو اس نے مجھ سے پوچھا : ”اےسِجِسْتَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی! بصرہ کے مایہ ناز علماء کرام کون ہیں ؟ میں نے کہا : ”حضرتِ سیِّدُنازِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی حاضر دِماغی، معاملہ فہمی اور َتکَلُّم میں سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔ علمِ نَحْو میں سب سے زیادہ مہارت حضرت سیِّدُنا ابوعثمان مَازِنِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو حاصل ہے۔ حضرت سیِّدُنا ہِلَال رَائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فقہ میں سب

سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ علمِ حدیث کے سب سے بڑے عالِم حضرت سیِّدُناشَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی ہیں۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، قرآن کا بڑا عالم مجھے سمجھا جاتا ہے۔” ابنِ کَلْبِی کاتب تمام باتیں لکھ رہاتھا ۔ عامل نے کاتب(یعنی لکھنے والے) سے کہا: ”کل ان تمام کو میرے ہاں آنے کی دعوت دو ، میں ان علماء کرام رحمہم اللہ السلام کی زیارت کرنا چاہتا ہوں ۔”
دوسرے دن جب تمام حضرات تشریف لائے تو عامل نے کہا: ” آپ میں سے مَازِنِی کون ہے؟ حضرتِ سیِّدُنا ابوعثمان علیہ رحمۃ اللہ المنّان نے کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، میں یہاں ہوں۔” کہا:” یہ بتائیے کہ کَفَّارۂ ظِہار(۱) میں اگر کانا غلام آزاد کر دیا جائے تو کیا یہ کفایت کریگا ؟ ” حضرتِ سیِّدُنا مَازِنِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! میں فقہ میں مہارت نہیں رکھتا بلکہ میں تو عربی لغت کا ماہر ہوں۔” عامل نے حضرتِ سیِّدُنازِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی سے پوچھا: ” اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے مہر کے تہائی حصے کے عوض خُلَع لے تو اس مسئلہ میں آپ کا کیافیصلہ ہے ؟” حضرتِ سیِّدُنا زِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی نے فرمایا:” یہ مسئلہ میرے علم سے متعلق نہیں، اس کا صحیح حل تو ہِلَال رَائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی بتا ئیں گے۔” عامل نے حضرتِ سیِّدُناہِلَال رَائی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا :” اے ہلا ل! یہ بتائیے کہ ابن عَوف نے حضرتِ سیِّدُناحسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کتنی روایات لی ہیں۔” حضرتِ سیِّدُنا ہِلَال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” اس کا صحیح جواب تو حضرتِ سیِّدُنا شَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی ہی دے سکتے ہیں کیونکہ انہیں اس علم میں مہارت حاصل ہے ۔”پھر حضرتِ سیِّدُنا شَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی سے کہا: ”اے شَاذَکُوْنِی علیہ رحمۃ اللہ الولی! یہ کس کی قرا ء ت ہے :

یَثْنُوۡنَ صُدُوۡرَہُمْ

ترجمۂ کنزالایمان:اپنے سینے دوہرے کرتے(منہ چھپاتے) ہیں۔(پ11،ھود: 5)
فرمایا:” مجھے قراء َت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں، علمِ قراء َت کے بہترین عالم تو ابوحاتم ہیں۔” پھر عامل نے مجھ سے کہا :” اے ابو حاتم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! اہلِ بصرہ کی محتاجی، مفلسی ، ان کی فصلوں پر آنے والی موسمی بیماری کی اطلاع اور اہلیانِ بصرہ کی مالی معَاوَنَت کے سلسلے میں آپ امیر المؤمنین کو کس طر ح پیغام لکھیں گے۔” میں نے کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، میں کاتب و صاحب ِ بلاغت نہیں کہ امیر المؤمنین کو فصاحت بھرا خط لکھ سکو میں تو قرآنِ کریم کا عالم ہوں، اس کے متعلق کوئی سوال کرنا ہے تو کیجئے ۔”

یہ سن کر وہ عامل کچھ اس طر ح گویا ہوا، اس سے زیادہ ناپسند یدہ شخص کو ن ہوگا کہ پچاس سال تک حصولِ علم میں مشغول رہا ، پھربھی صرف ایک فن میں مہارت حاصل کی اگر اس فن کے علاوہ کسی اور علم کے متعلق اس سے سوال کیا جائے تو وہ اس کا جواب نہ دے سکے۔ ایسا شخص لائق افسوس ہے ، ہاں! ہمارے کوفہ کے عالم ” امام کسائی ” ایسے ماہر عالم ہیں کہ ان سے کسی بھی علم کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو وہ اس کا تسلِّی بخش جواب دیتے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! علم دین اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے، پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ علیم وخبیر ہے جسے چا ہے علم دین کی دولت سے بیش بہا خزانہ عطا فرمائے ۔ عرصۂ دراز تک انسان کسی قابل وماہراستاذکے سامنے زَانُوئے تَلَمُّذ ( تَ.لَم ْ. مُذ) طے کرتا (یعنی شاگردی اختیار کرتا)ہے تب جاکر اسے کسی فن میں مہارت حاصل ہوتی ہے، جب تک کسی ماہر تیرا ک کی خدمت میں رہ کر مسلسل تیرا کی کی مشق نہ کی جائے تب تک سمندر کی تہہ میں چھپے ہوئے جو اہر(یعنی موتیوں) تک رسائی نہیں ہوسکتی۔ کسی بھی فن میں مہارتِ تامہ کے لئے اَنتھک محنت بہت ضروری ہے۔ اور ہر فن میں مہارت حاصل ہوجانا عطیۂ خداوندی ہے۔
ہر دور میں ایسے عظیم لوگ پیدا ہوئے جن کی رہنمائی میں کتنے بھٹکے ہوؤں کو منزلِ مقصود مل گئی۔ کتنے تشنگانِ علم حصولِ علم کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہیں رہبروں میں ایک عظیم رہبر اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت شاہ امام احمد رضاؔ خان علیہ رحمۃ اللہ المنَّان بھی ہیں کہ جن کے علم کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بج رہا ہے۔ آپ ایسے عظیم بزرگ تھے کہ جس علم کی طرف بڑھتے اس کے حصول میں کامیاب ہوجاتے آپ کو بیسیوں علوم میں مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جہاں فقہ کی دنیا کے شہنشاہ ہیں، وہیں علمِ قرآن ، علم ِحدیث ، علمِ ہندسہ ، علمِ فلا سفہ اور مُرَوَّجہ تمام علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل تھی ، آپ اکیلے ہی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ، جس نے بھی آپ کی سیرت کا مطالعہ کیا وہ آپ کی خداداد علمی صلاحیت کوتسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1۔۔۔۔۔۔ ظہار کے یہ معنی ہیں کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جزُو ِشائع یا ایسے جز وکو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو یا اس کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو مثلاً کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے ۔ یہ ظہار کہلاتاہے ،اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک سالم غلام آزاد کرنا یا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کوپیٹ بھر کردو وقت کا کھانا کھلاناہے۔”
(بہارِشریعت، حصہ۸، ص۵۲، ملخصاً)