عدت کے احکام و مسائل

عدت کے احکام و مسائل

(۱)’’عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَنَّ سُبَیْعَۃَ الْأَسْلَمِیَّۃَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِلَیَالٍ فَجَائَ تِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْہُ أَنْ تَنْکِحَ فَأَذنَ لَہَا فَنَکَحَتْ‘‘۔ (1)
حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سُبیعہ اسلمیہ کو شوہر کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد بچہ تولد ہوا تو حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور نکاح کی اجازت طلب کی ۔ حضور نے ان کو اجازت دے دی تو انہوں نے نکاح کرلیا۔ (بخاری شریف)
معلوم ہوا کہ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے ۔ جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’عدت حاملِ وضع حمل ست‘‘۔ (2) (اشعۃ اللمعات، جلد سوم ص۱۸۴)
اور بیوہ اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار مہینہ دس دن ہے ۔ جیسا کہ پارہ ۲۔ رکوع ۱۴ میں ہے :{ وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-}۔
اور طلاق والی عورت اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت بھی وضع حمل ہے ۔ جیسا کہ پارہ ۲۸۔ رکوع ۱۷میں ہے : { وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ-}۔
اور طلاق والی مدخولہ عورت اگر آئسہ یعنی پچپن سالہ یا نابالغہ ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے ۔ جیسا کہ پارہ ۲۸ سورۃ طلاق میں ہے : { وَ اﻼ یَىٕسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍۙ- وَّ اﻼ لَمْ یَحِضْنَؕ -}۔
اور طلاق والی مدخولہ عورت اگر حاملہ نابالغہ یا پچپن سالہ نہ ہو یعنی حیض والی ہو تو اس کی عدت تین حیض ہے ۔ خواہ یہ تین حیض تین ماہ یا تین سال یا اس سے زیادہ میں آئیں کَماقَالَ اللَّہُ تَعَالَی: { وَ الْمُطَلَّقٰتُ

یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍؕ-}۔ (پارہ ۲، رکوع ۱۲)
اورطلاق والی غیر مدخولہ عورت کے لیے کوئی عدت نہیں جیسا کہ پارہ ۲۲ رکوع ۳میں ہے :{ اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ }۔
انتباہ:
عوام میں جو مشہور ہے کہ طلاق والی عورت کی عدت تین مہینہ تیرہ دن ہے تو یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔
٭…٭…٭…٭

Exit mobile version