حضرت زَیْنَب بنت جَحش رضی اللہ عنہاکی سخاوت

حکایت نمبر355: حضرت زَیْنَب بنت جَحش رضی اللہ عنہاکی سخاوت

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بَحْرَیْن سے واپسی پر میں نے عشاء کی نماز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے ادا کی، نمازسے فراغت کے بعد میں نے سلام عرض کیا۔ آپ نے جواب دے کر پوچھا:” اے ابو ہریرہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !بحرین سے کیا لے کرآئے ہو ؟” میں نے کہا : ”پانچ لاکھ درہم۔” فرمایا:” جانتے ہو،تم کتنی رقم کہہ رہے ہو ؟ ”میں نے کہا:”جی ہاں! ایک سو ہزار، ایک سو ہزار ، ایک سو ہزار۔ اس طرح میں نے پانچ مرتبہ گِنا۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” اے ابو ہریرہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! شاید تمہیں نیند آرہی ہے، جاؤ! ابھی گھر جاکر آرام کر لو کل صبح میرے پا س آنا۔” چنانچہ، میں گھر چلا آیا ۔ صبح جب دربارِ خلافت میں پہنچا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا :” اے ابو ہریرہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! بحرین سے کیالائے ہو ؟” میں نے کہا :” پانچ لاکھ درہم۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعجب ہو کر پوچھا: ” کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟”میں نے کہا :” حضور ! میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں، میں واقعی پانچ لاکھ درہم لایا ہوں۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگو ں سے فرمایا :” اے لوگو ! بے شک میرے پاس کثیر مال آیا ہے،بتاؤگِن کر تمہارے درمیان تقسیم کروں یا تول کر ۔ ”
ایک شخص نے کہا :” اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے عجمیوں کو دیکھا ہے کہ وہ رجسٹر وغیرہ میں لوگو ں کے نام لکھ لیتے ہیں اور پھر اس رجسٹر کو دیکھ کر حق داروں میں غلہ وغیرہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہاجرین صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے لئے پانچ ہزار، انصار صحابۂ کرام علیم الرضوان کے لئے چار ہزار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے لئے بارہ ہزار درہم مقرر کئے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا بَرْزَہ بنت رَافِع رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جِزیہ وغیرہ کامال آیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زَیْنَب بنت جَحْش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے بہت سا مال بھجوایا۔ انہوں نے مالِ کثیر دیکھ کر فرمایا: ” اللہ تبارک وتعالیٰ حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مغفرت فرمائے۔ میرے علاوہ میرے اور مسلمان بھائی بھی ہیں جو اس مال کے مجھ سے زیادہ محتاج ہوں گے۔” لوگو ں نے کہا:” یہ سب کا سب آپ کے لئے ہے (دیگر حق داروں کو اپنا حصہ مل چکا ہے)۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! کہہ کر زمین پر ایک کپڑا بِچھاتے ہوئے

کہا: ” سارا مال یہاں ڈال کراس پر ایک کپڑا ڈال دو۔” لوگو ں نے تمام درہم وہاں ڈال دیئے ۔
حضرتِ سیِّدَتُنا بَرْزَہ بنت رَافِع رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا:” اس کپڑے کے نیچے اپنا ہاتھ ڈال کر ایک مُٹھی درہموں کی بھر و اور فلاں یتیم کو دے آؤ،ایک مٹھی فلاں غریب کو دے آؤ، ایک مٹھی فلاں رشتہ دار کو دے آؤ۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حکم فرماتی جاتیں اور میں لوگوں میں تقسیم کرتی جاتی ۔ یہاں تک کہ چند درہموں کے علاوہ باقی تمام درہم تقسیم فرمادیئے۔ پھر میں نے عرض کی:”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے۔ کیا اس میں ہمارا کچھ حصہ نہیں ؟” فرمایا: ”ہاں ! جو باقی بچا ہے وہ تمہارے لئے ہے۔”میں نے کپڑا اٹھایا تو اس کے نیچے صرف پچاسی(85)درہم باقی تھے ۔” پھر اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زَیْنَب بنت جَحْش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہاتھ اٹھا کر اس طرح دعا کی: ” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! حضرت عمر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی جانب سے مجھے اس کے بعد کوئی ہدیہ نصیب نہ ہو ۔” پھر اسی سال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
( اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کروڑوں رحمتیں ہوں مؤمنین کی ان ماؤں پر جنہوں نے ہر حال میں ربِ کریم کا شکر ادا کیا۔ خود بھوک و پیاس برداشت کر کے امت کے غرباء وفقراء کی پریشانیاں دورفرمائیں ۔ انہیں مال ودولت اور دنیوی سازو سامان سے محبت نہ تھی بلکہ وہ تو خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں سرشارتھیں ۔ دنیوی مال ودولت کی آمد انہیں خوش نہ کرتی بلکہ اس کی فراوانی ان کے لئے پر یشانی کا باعث بنتی ۔ ان کے پاس جومال آتا اسے فوراََ صدقہ کر دیتیں ۔ یہ سب ہمارے مکی مدنی آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تربیت وصحبت کا اثر تھا۔ جس طرح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے کسی امتی کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی اسی طرح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گھر والے بھی اُمتِ مُسْلِمَہ کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کربے قرارہوجاتے۔اِنہیں پاکیزہ ہستیوں کے رحم وکرم سے ہم جیسے گناہ گاروں کا گزارہ ہو رہا ہے۔ ہمارے مکی مدنی آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی ہماری ثروث و عزت ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ان کے دامنِ کرم سے ہمیشہ ہمیشہ وابستہ رکھے ۔)
؎ ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کی ثروث پہ لاکھوں سلام
( آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)