حضرت زینب بنت رسول اللہ

حضرت زینبؓ

نام و نسب:آنحضرتﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں، بعثت سے دس برس پہلے جب آنحضرتﷺ کی عمر ۳۰ سال کی تھی، پیدا ہوئیں۔

نکاح:ابو العاص لقیط بن ربیع سے جو حضرت زینبؓ کے خالہ زاد بھائی تھے، نکاح ہوا۔

عام حالات: نبوّت کے تیرہویں سال جب آنحضرتﷺ نے مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی تو اہل و عیال مکہ میں رہ گئے تھے، حضرت زینبؓ بھی اپنے سسرال میں تھیں۔ غزوہ بدر میں ابو العاص کفا۔ّر کی طرف سے شریک ہوئے تھے، عبداللہ بن جبیر انصاری ؓ نے ان کو گرفتار کیا اور اس شرط پر رہا کیے گئے کہ مکہ جاکر حضرت زینبؓ کو بھیج دیں گے۔1
ابوالعاص نے مکہ جاکر حضرت زینبؓ کو اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کیا، چونکہ کفا۔ّر کے تعر۔ّض کا خوف تھا کنانہ نے ہتھیار ساتھ لے لیے تھے۔ مقامِ ذی طویٰ میں پہنچے تو قریش کے چند آدمیوں نے تعاقب کیا، ہبار بن اسود نے حضرت زینبؓ کو نیزہ سے زمین پر گرا دیا وہ حاملہ تھیں، حمل ساقط ہوگیا۔ کنانہ نے ترکش سے تیر نکالے اور کہا کہ ’’اب اگر کوئی قریب آیا تو ان تیروں کا نشانہ ہوگا۔‘‘ لوگ ہٹ گئے تو ابو سفیان سردارانِ قریش کے ساتھ آیا اور کہا: ’’تیر روک لو ہم کو کچھ گفتگو کرنی ہے۔‘‘ انہوں نے تیر ترکش میں ڈال دیئے۔ ابوسفیان نے کہا: ’’محمد کے ہاتھ سے جو مصیبتیں پہنچی ہیں تم کو معلوم ہیں، اب اگر تم اعلانیہ ان کی لڑکی کو ہمارے قبضہ سے نکال لے گئے تو لوگ کہیں گے کہ ہماری کمزوری ہے، ہم کو زینبؓ کے روکنے کی ضرورت نہیں جب شور و ہنگامہ کم ہوجائے اس وقت چھپے چوری لے جانا۔‘‘ کنانہ نے یہ رائے تسلیم کی اور حضرت زینبؓ کو لے کر مکہ واپس آئے۔ چند روز کے بعد ان کو رات کے وقت لے کر روانہ ہوئے زید بن حارثہؓ کو آنحضرتﷺ نے پہلے سے بھیج دیا تھا وہ بطنِ یا جج میں تھے کنانہ نے زینبؓ کو ان کے حوالہ کیا وہ ان کو لے کر روانہ ہوگئے۔1
حضرت زینبؓ مدینہ میں آئیں اور اپنے شوہر ابو العاص کو حالت شرک میں چھوڑا۔ جمادی الاولیٰ ۶ ہجری میں ابوالعاص قریش کے ایک قافلہ کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔ آنحضرتﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو ۱۷۰ سواروں کے ساتھ بھیجا، مقامِ عیص میں قافلہ ملا۔ کچھ لوگ گرفتار کیے گئے اور مال و اسباب لوٹ میں آیا ان ہی میں ابو العاص بھی تھے، ابوالعاص آئے تو حضرت زینبؓ نے ان کو پناہ دی اور ان کی سفارش سے آنحضرتﷺ نے ان کا مال بھی واپس کرادیا۔ ابو العاص نے مکہ جاکر لوگوں کی امانتیں حوالہ کیں اور اسلام لائے۔ اسلام لانے کے بعد ہجرت کرکے مدینہ میں آئے۔ حضرت زینبؓ نے ان کو حالت شرک میں چھوڑا تھا اس لیے دونوں میں باہم تفریق ہوگئی تھی۔ وہ مدینہ آئے تو حضرت زینبؓ دوبارہ ان کے نکاح میں آئیں۔ ترمذی وغیرہ میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ کوئی جدید نکاح نہیں ہوا، لیکن دوسری روایت میں تجدیدِ نکاح کی تصریح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کو اگرچہ اسناد کے لحاظ سے دوسری روایت پر ترجیح ہے لیکن فقہاء نے دوسری صورت پر عمل کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کی یہ تاویل کی ہے کہ نکاحِ جدید کے مہر اور شرائط وغیرہ میں کسی قسم کا تغیر نہ ہوا ہوگا، اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اس کو نکاحِ اوّل سے تعبیر کیا ورنہ بعدِ تفریق نکاحِ ثانی ضروری ہے۔

ابوالعاصؓ نے حضرت زینبؓ کے ساتھ نہایت شریفانہ برتاؤ کیا اور آنحضرتﷺ نے ان کے شریفانہ تعلقات کی تعریف کی۔2

وفات:نکاحِ جدید کے بعد حضرت زینبؓ بہت کم زندہ رہیں اور ۸ ہجری میں انہوں نے انتقال کیا۔ حضرت اُمّ ایمن، حضرت سودہ، اور حضرت اُمّ سلمہ اور اُمّ عطیہؓ نے غسل دیا جس کا طریقہ خود آنحضرتﷺ نے بتایا تھا۔ آنحضرتﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی، خود قبر میں اُترے اور اپنے نورِ دیدہ کو خاک کے سپرد کیا، اس وقت چہرۂ مبارک پر حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے۔1

اولاد: حضرت زینبؓ نے دو اولاد چھوڑی، علی اور امامہؓ۔ علی کی نسبت ایک روایت ہے کہ بچپن میں وفات پائی لیکن عام روایت یہ ہے کہ سن رشد کو پہنچے، ابن عساکر نے لکھا ہے کہ یرموک کے معرکہ میں شہادت پائی۔ فتح مکہ میں یہی آنحضرتﷺ کے ردیف تھے۔ امامہؓ عرصہ تک زندہ رہیں اور ان کا حال آگے آئے گا۔

اخلاق و عادات: آنحضرتﷺ اور اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھیں۔ حضرت انسؓ نے ان کو ریشمی چادر اوڑھے دیکھا تھا جس پر زرد دھاریاں پڑی ہوئی تھی۔2