حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی وصیّتیں

حکایت نمبر437: حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی وصیّتیں

حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن مَہْدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: وصال سے قبل حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو پیٹ کا مرض لاحق ہو گیا ۔ میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کی :”حضور! میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تیمارداری میں مشغول رہتا ہوں جس کی وجہ سے با جماعت نمازادا نہیں کر سکتا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟” فرمایا:”کسی مسلمان کی لمحہ بھر کے لئے خدمت کرنا ساٹھ(60) سال کی باجماعت نمازوں سے افضل ہے۔ میں نے عرض کی:” حضور! یہ بات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کس سے سنی؟” ارشاد فرمایا :” میں نے حضرتِ سیِّدُنا عاصم بن عُبیداللہ بن عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انہوں نے حضرتِ سیِّدُناعامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ” کسی بیمار مسلمان بھائی کی ایک دن خدمت کرنا مجھے ان ساٹھ (60)سال کی باجماعت نمازوں سے زیادہ پسند ہے جن میں کبھی تکبیرِ اولیٰ بھی فوت نہ ہوئی ہو۔”
جب مرض طول پکڑ گیا توآپ کو گُھٹن سی محسوس ہوئی اور” اے موت!اے موت !” کہنے لگے۔ پھر فرمایا :” میں نہ تو موت کی تمنا کررہا ہوں نہ ہی مو ت کی دعا مانگ رہا ہوں۔ بلکہ میں تو”لفظ ِموت” کہہ رہا ہوں۔”جب وصال کا وقت قریب آیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زار وقطار رونے لگے ۔میں نے عرض کی:” اے ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!یہ رونا کیسا ؟” فرمایا :” موت کے وقت کی شدید تکلیف کی وجہ سے رو رہا ہوں، اے عبدالرحمن!اللہ عَزَّوَجَلَّ، زبردست طاقت والا ہے ۔”میں نے دیکھا کہ کثرت بکاء (یعنی بہت زیادہ رونے)کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھیں ڈھلک گئی تھیں اور پیشانی پر پسینہ آرہا تھا ۔فرمایا :”میری پیشانی سے پسینہ صاف کردو۔” میں نے پسینہ صاف کیا تو دوبارہ آگیاتو آپ نے کہا : ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔” (پھر فرمایا)میں نے حضرتِ سیِّدُنامنصور سے، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا ہِلَال بن یَسَا ف سے، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ اَسْلَمِی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت کی:آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ” میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، بِاذ ْنِ پروردْگاردو عالَم کے مالک و مختارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا:” بے شک مؤمن کی روح پسینے کے ساتھ نکلتی ہے۔”

(جامع الترمذی،ابواب الجنائز،باب ما جاء فی التشدید عند الموت،الحدیث۹۸۰،ص۱۷۴۵”روح”بدلہ ”نفس”)

(پھر فرمایا)اے ابن مَہْدِی!میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے امید رکھتا ہوں کہ اس دنیا سے ایمان کے ساتھ جاؤں گا۔ اے ابنِ مَہْدِی!تیرا بھلا ہو! کیا تجھے معلوم ہے کہ عنقریب میری ملاقات کس سے ہوگی ؟سن!میں اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جارہا ہوں جو اپنے بندوں پر رحم دل اورشفیق ماں سے زیادہ رحم فرمانے والا، سب سے زیادہ کریم وجواد ہے۔ اے عبدالرحمن !جب مجھے اپنے کریم پرورد گارعَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کا بہت زیادہ شوق ہے تو پھر میں موت کو کیوں مکروہ جانوں گا؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ

ایمان افروز باتیں سن کر مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہو نے لگی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ۔ہائے موت کا درد !ہائے موت کا درد !لیکن یہ آواز اس وقت آئی جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہوش میں نہ تھے ورنہ بحالت ہوش آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرتبہ بھی دردو اَلَم کی شکایت نہ کی۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہوش آیا تو فرمایا :”
میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے قاصدوں (یعنی فرشتوں)کی آمد مرحبا! طَیِّبِین کو خوش آمدید!”یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پھر بے ہوش ہوگئے۔میں سمجھا کہ شاید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیاہے ، میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی سے پسینہ صاف کرنے لگا کچھ دیر بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا:”اے عبدالرحمن !پڑھو ۔”میں نے عرض کی:”کیا پڑھوں؟” فرمایا: ”رحمت کے فرشتوں کو لانے والی اور شیطانوں کودور کرنے والی سورت ( یٰسین شریف )کی تلاوت کرو۔”
میں نے سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کی،دوران تلاوت مجھ پر رقت طاری ہوگئی، رونے کی وجہ سے مجھ سے بعض حروف کی صحیح ادائیگی نہ ہو سکی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”جن الفاظ میں غلطی ہوئی ہے انہیں دوبارہ پڑھو ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ غلطی درست کرائی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرپھر غشی طاری ہوگئی ۔کچھ دیر بعد آنکھیں کھو ل کر اُوپر کی جانب دیکھنے لگے ۔ گھروالے اور بچے رونے لگے، ان کی ہلکی ہلکی چیخیں بلند ہوئیں لیکن یہ آواز گھر تک ہی محدود تھی باہر سنائی نہ دیتی تھی۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ ہوش آیا توفرمایا :”یہ چیخ وپکا ر اور رونا کیسا ؟”میں نے عرض کی:” گھر کی عورتوں پر رقت طاری ہوگئی ہے۔” فرمایا :’ ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ تم پر رحم فرمائے، خاموش ہو جاؤ! چیخ وپکار اور رونا بند کرو! اپنے کپڑے ہر گز نہ پھا ڑنا کیونکہ نوحہ کرنا اور کپڑے پھاڑنا زمانہ جاہلیت کے کام ہیں، ان چیزوں کو ترک کرو اور اس طرح کہو:”اے سُفْیَان ثَوْرِی!اللہ تبارک وتعالیٰ قولِ ثابت کے ساتھ تجھے ثابت قدم رکھے ۔تیری حجتیں تجھے پہنچ جائیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحمت کے فرشتے نازل فرمائے۔” میرے انتقال کے بعد کثرت سے یہ دعا ئیں کرنا ۔ابھی اس طرح دعا کرو: ”اے ہمارے پرورد گار عَزَّوَجَلَّ!جو ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں اس سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس پر یقینِ کامل عطا فرما ۔”(آمین)
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں: پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا:” حَمَّادبن سَلَمَہ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کو میرے پاس بلا لاؤ، میں پسند کرتا ہوں کہ وقتِ رخصت وہ میرے پاس موجود ہوں۔” میں حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا اور عرض کی: ”حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی حالتِ نزع میں ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فوراً ننگے پاؤں صرف ایک چادر پہنے جلدی جلدی وہاں پہنچے۔ اس وقت حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی پر غشی طاری تھی۔ حضرتِ سیِّدُنا حَمَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد نے فرطِ محبت میں ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور روتے ہوئے کہنے لگے:”اے ابوعبداللہ!

اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو برکت عطا فرمائے۔ ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بہت زیادہ مشتاق تھے۔ حضرتِ سیِّدُناسُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو ہوش آیا تو کہا:”تمام تعریفیں اس پاک پرورد گارعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی مخلوق کے فنا ہونے کا فیصلہ فرمایا۔” میں نے عرض کی :”حضور! دیکھئے! حضرتِ سیِّدُناحَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس موجود ہیں۔” فرمایا:” اے میرے بھائی! مرحبا، مرحبا !میرے قریب آجاؤ! اے حَمَّاد!اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہنا اور حالتِ نزع کی تکالیف کو دیکھ لو عنقریب تم پربھی یہ کیفیت طاری ہونے والی ہے۔ تم نہیں جانتے کہ پیغامِ اَجَل تمہیں اپنے گھر میں آئے گایا کہیں اور، صبح آئے گا یا شا م کو ۔
یہ سن کر میں اور حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد فکرمیں مبتلا ہوگئے اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہو گئی ۔جب اِفاقہ ہوا تو فرمایا: ” اے حَمَّاد !ذرا سوچ اور اس بارے میں غوروفکر کر، جب تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہوگا ۔ اے حَمَّاد!اگر تو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو دیکھ لیتا تو کبھی بھی دنیاوی زندگی کو پسند نہ کرتا، وہ لوگ وصال کے اتنے شوقین تھے کہ موت بھی ان کی اتنی خواہش مند نہ ہوگی ۔وہ گمان کرتے تھے کہ گویا ہم جہنم میں داخل ہوں گے بس یہی سوچ کر وہ تڑپتے اور روتے رہتے اور ان کی آنکھوں سے سَیْلِ اَشک رَواں ہوجاتا حالانکہ جنت ان کے سامنے ہوا کرتی تھی، وہ ساری ساری رات قیام وسجود میں گزار دیتے تھے ۔اللہ ربُّ العزّت نے اپنی پاکیزہ کتاب قرآنِ پاک میں ان کی عمدہ صفات اور بہترین اوصاف کا ذکر فرمایا۔اے حَمَّاد!غرو رو تکبر ،ریاکاری اور خود پسندی سے بچتے رہنا،ان صفاتِ مذمومہ (یعنی بری صفات) کے ہوتے ہوئے دِین سلامت نہیں رہتا ۔اے حَمَّاد !چھوٹوں کے لئے سراپا شفقت اور بڑوں کے لئے سراپاعاجزی و محبت بن جاؤ۔ لوگوں کے لئے وہی بات پسند کرـ جب تمہیں تنہائی میسر آئے توسفرِ آخرت کے بارے میں غوروفکرکرکے اپنے آپ پر خوب رویا کرو اور سوچا کرو کہ تمہاری ابتداء و انتہاء کیا ہے۔ غور وفکر کر کہ تجھے ایک امرِعظیم درپیش ہے، وہ امر ایسا سخت ہے کہ اس کی سختی لوہاوپتھر بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ اگر تو اس دُشوار گزار گھاٹی سے نجات پاگیا تو سمجھ لے کہ تو کامیاب ہوگیا اور اگر خدانخواستہ اس گہری کھائی میں گرگیا تو بد بختوں میں سے ہوگا اور تجھے ایسا غم ملے گاجو کبھی ختم نہ ہوگا اورآگ میں جلنے والے کو سکون نہیں ملتا ۔اے حَمَّاد ! اغنیاء کی مجالس سے بچتے رہنا !بے شک وہ تیری زندگی تیرے لئے ناپسندیدہ بنا دیں گے ۔مغروروں کی مجالس میں ہرگزنہ بیٹھنا، ان کی صحبت سے بچتے رہنا۔ اگر ان کے ساتھ بیٹھے گا تو وہ تجھے اپنی بری عادتیں سکھائیں گے۔ ہاں!علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضری لازم کر۔ان کے سامنے نرمی سے گفتگو کر، انہیں گھُور گھُور کر ہرگز نہ دیکھنا ،نہایت عاجزی و اِنکساری کے ساتھ ان سے ملنا، اگر تو ایسا کریگا توان کی بھلائیوں سے تجھے بھی حصہ ملے گا اورتو ان کی برکتوں سے فیض یاب ہوگا ۔

ہائے !اب ایسے علماء کہاں ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کے جانے کے بعد ان کے وارث بنتے ہیں ۔ہائے! وہ اس فانی دنیا کو اس کے چاہنے والوں کے لیے چھوڑ کردارِبقاء کی طرف چلے گئے ،انہیں عالِم اس لئے کہا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا جو حق ان پر ہے اسے پہچانتے ہیں اور ان کا اپنے اوپر جو حق ہے اسے بھی جانتے ہیں۔پس یہ لوگ آگ سے دور بھاگتے اور جنت کی امید رکھتے ہیں ۔جو چیزیں اللہ رَبُّ العِزَّت عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہیں یہ بھی انہیں ناپسند کرتے ہیں اورجسےاللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔اے حَمَّاد!دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے علماء سے بچنا !بے شک جو بھی ان کے قریب جائے گا یہ اسے فتنے میں ڈال دیں گے۔ اگر کوئی جاہل ان کے پاس بیٹھے گا تو اس کی جہالت میں مزید اضافہ ہوگا،کوئی جاننے والا ان کے پاس جائے گا تو یہ اس کی فکرِآخرت میں کمی کا سبب بنیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے کاموں سے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ڈرایا اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع فرمایاہے۔
اے حَمَّاد !تو جہاں بھی رہے ہر حال میں ہر جگہ صدق کو اپنے اوپر لازم رکھنا کیونکہ سچائی کی بدولت اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے عزت عطا فرمائے گا۔ صبر کو اپنے اوپر لازم کرلینا! بے شک یہ دین کا بادشاہ ہے، یقین کو مضبوطی سے تھام لیناکیونکہ یہ ا سلام کی بلندی کا سر چشمہ ہے۔اے حَمَّاد !علمِ دین کو مخلوق میں سے کسی کے ہاتھ نہ بیچنا بلکہ اس کے ذریعے اس رحیم وکریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونا جو چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی قبول کرتا اور بڑے سے بڑے گناہ کو بھی معاف فرمادیتا ہے۔ یہ میری وصیت ہے، اسے مضبوطی سے تھام لینا ۔اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہوگئی ہم نے دیکھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم سے پسینہ نکل رہا تھا اور قدم ٹھنڈ ے ہوچکے تھے ۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہوش آیا تو فرمایا :”اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بے شک مؤمن ہر حال میں بھلائی کو پہنچتاہے۔مؤمن کی روح اس کے پہلوؤں سے نکلتی ہے اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرتا ہے، تمام تعریفیں اسی خدائے بزرگ وبرتر کے لئے ہیں جو اکیلا ہی ہرحمدِ حقیقی کے لائق ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا حَمَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا : ”لَا اِلٰہَ اِلَّااللہ پڑھئے ۔”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کلمہ طیبہ پڑھ کر یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی :

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعْمَلُ ؕ

ترجمہ کنزالایمان :اے ہمارے رب! ہمیں نکال کہ ہم اچھاکام کریں اس کے خلاف جوپہلے کرتے تھے۔(پ22،الفاطر:37)
پھریہ آیتِ مبارکہ پڑھی:

وَلَوْ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُہُوۡا عَنْہُ وَ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿28﴾

ترجمہ کنزالایمان :اوراگرواپس بھیجے جائیں توپھروہی کریں جس سے منع کئے گئے تھے اوربے شک وہ ضرورجھوٹے ہیں۔(پ7، الانعام:28)
پھراُوپردیکھااور یہ آیتِ کریمہ پڑھی:

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿38﴾ مَا خَلَقْنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ

ترجمہ کنزالایمان:اورہم نے نہ بنائے آسمان اورزمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طورپر۔ہم نے انہیں نہ بنا یا مگرحق کے ساتھ۔(پ25،الدخان:38۔39)
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آوازبند ہوگئی ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن بن مَہْدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَمَّادبن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے سنا :”خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اس عظیم ولی کے بعدمشرق ومغرب میں اس کی مثل کوئی نہیں۔یہ بزرگ انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں کے آئینہ دار تھے۔” یہ کہہ کر حضرت سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد رونے لگے، یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آواز بلندہوگئی ۔میں نے کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر رحم فرمائے۔ اطمینان رکھئے اور رونا موقوف کر دیجئے۔”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے” اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن” پڑھ کر کہا:” اے عبدالرحمن بن مَہْدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی !تیرا بھلا ہو! ان کے بعدایسا کون ہے جس پر رویا جائے ۔”کچھ دیر بعد حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کلام کرنے لگے اور مجھے پکارا۔ میں نے کہا:” میں حاضر ہوں۔” فرمایا:”دینار کا چوتھا حصہ دے کرمیری قبر کھدوانا، دینا ر کے چوتھے حصے کی خوشبو وغیرہ خریدنا اور نصف دینار کا کفن خرید لینا مجھے میری اسی چادر میں غسل دینا پھر اسے ہی میرے کفن کی چادر بنا دینااور جو قمیص میں نے پہنی ہوئی ہے اسے پھاڑ کر دھوکر میرے کفن کی قمیص بنا دینا مجھ پر اس سے زائد بوجھ نہ ڈالنا اور یہ تمام کام اس وقت کرنا جب مجھے اس مکان سے دور لے جاؤ ورنہ اژدہام(یعنی لوگوں کاہجوم) ہوجائے گا اور تجھے میری وجہ سے مشقت ہوگی اور میں نہیں چاہتا کہ تجھے مشقت ہو۔ پھر میری نمازِ جنازہ پڑھنا ، خبردار چیخ وپکار ہرگز نہ کرنا۔” اتنا کہہ کر ولی ئکامل حضرتِ سیِّدُناسُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی داعی اَجل کو لَبَّیْک کہتے ہوئے اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

(اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد کودیکھاکہ روتے روتے ان کی ہچکیاں بند ھ گئیں۔ میں نے کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کواَجرِعظیم عطا فرمائے ۔ صبر کیجئے ۔”فرمایا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں بھی اجر عطا فرمائے ۔” پھر میں نے حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی پر کپڑا ڈال دیا، گھرکی عورتیں شدتِ غم سے رو رہی تھیں لیکن ان کی آواز پست تھی۔ میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد سے کہا: ”ان کے غسل وغیرہ کے متعلق آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کیا رائے ہے۔” فرمایا:”اس وقت تک انہیں بالکل حرکت نہ دینا جب تک ہم انہیں اس مکان سے دور نہ لے جائیں۔” چنانچہ، ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم مُبَارَک کو لے چلے، راستے میں کچھ لوگوں نے دیکھا تو جمع ہوگئے اور کہا:” یہ تو میِّت ہے۔” جب انہوں نے چادر ہٹاکر دیکھا تو کہا: ” ہم اسی کوفی کی تلاش میں تھے۔” کچھ دیر بعد حاکمِ وقت بھی آگیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی میِّت کی

بے حرمتی کریگا اور سر کاٹ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بدن کولٹکا دے گا۔ اسی خطرے کے پیشِ نظرلوگوں نے اپنے اپنے ہتھیار نکال لئے اور پختہ ارادہ کر لیا کہ اگر حاکم نے ہلکی سی گستاخی بھی کی تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ حاکم مجمع کے قریب آیا، لوگوں کو دور کرتے ہوئے جنازے کے قریب پہنچا اور حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دے کر بلند آواز سے رونے لگا۔ لوگ تو پہلے ہی غمزدہ تھے اب سارا مجمع رونے لگا۔بچے، بوڑھے، جوان، مردو عورت الغرض ہر شخص رورہا تھا ہر آنکھ پُرنم تھی۔ حاکم نے فقہاء کرا م علیہم الرحمۃ کو بلواکر کہا:” مجھے اس ولئ کامل کی تدفین کے بارے میں مشورہ دو۔”
حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں موجود تھے، انہوں نے فرمایا :” اے امیر!میری رائے یہ ہے کہ انہیں ان کی چادر اور قمیص کا کفن دیا جائے اور ہم خود اپنے ہاتھوں سے انہیں غسل دیں، بے شک انہیں یہی بات پسندتھی ۔حاکم نے کہا: ”ٹھیک ہے، تم لوگ انہیں غسل دے کر انہی کپڑوں کا کفن پہناؤ،لیکن اس کے بعد میں اپنی طرف سے کفن پہناؤں گا ۔”پھر حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فقہاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جماعت کے ساتھ مل کر غسل دیا، قمیص کوکفنی اور آپ کی چادر کو ازار (یعنی کفن کی چادر)بنایااورخوشبو وغیرہ لگائی۔ پھر حاکم نے سفید قیمتی کپڑا منگوا کراپنی طرف سے کفن پہنایا۔جب حاکم کی طرف سے دیئے جانے والے کفن کی قیمت معلوم کی گئی تووہ دو سو(200) دینار تھی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاجنازہ قبرستان لایا گیا اور بعد نمازِ مغرب اس ولئ کامل کو دفنا دیا گیا ۔
حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمن کہتے ہیں: مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوہاب نے فرمایا:” مجھے حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے متعلق کچھ بتاؤ۔”جب میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ان کے اَخلاق وعبادات کے متعلق بتایا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روتے ہوئے فرمانے لگے: ”کیاتم جانتے ہوکہ حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کون تھے؟ سنو! ان کے بعد ان جیسا کوئی اور نہیں ملے گا، وہ امام تھے ،فاضل تھے ،اَدب سکھانے والے، نصیحت کرنے والے اور بہترین اُستاذ تھے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)