حضرتِ حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی نماز

حکایت نمبر471: حضرتِ حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی نماز

حضرتِ سیِّدُنااَزْہَربن عبداللہ بَلْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے:ایک مرتبہ جب حضرتِ سیِّدُناحاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم حضرتِ سیِّدُناعِصَام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے پوچھا:”اے حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! کیا آپ اچھی طرح نماز پڑھتے ہیں؟”فرمایا: ”جی ہاں۔” پوچھا: ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یوں نماز پڑھنا کس سے سیکھا؟” فرمایا: ”حضرتِ سیِّدُناشَقِیْق بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ القدیم سے۔” انہوں نے عرض کی : ”اپنی نماز کا انداز تو بتا دیجئے۔ ” فرمایا:”جب نماز کاوقت قریب آتاہے تونہایت عمدگی سے وضوکرتاہوں، پھر نماز پڑھنے کی جگہ پر پہنچ جاتاہوں اورمیرے جسم کا ہرعضو نماز کے لئے تیار ہو جاتا ہے ،پھرمیں خیال کرتا ہوں کہ” کَعْبَۃُ اللہ شریف” میرے بالکل سامنے ہے ، میں میدانِ محشرمیں خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہونے والاہوں۔میرے قدم پل صراط پرہیں۔جنت میری دا ئیں طرف اوردوزخ بائیں جانب ہے۔ ملک الموت علیہ السلام میرے پیچھے ہیں۔اورمیں گمان کرتاہوں کہ بس یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔پھر تکبیرکہہ کربڑے غور وفکر کے ساتھ قراء َت کرتا ہوں۔ نہایت تواضع سے رکوع کرتا اوربڑے خشوع و خضوع کے ساتھ گڑ گڑاتے

ہوئے سجدہ ریز ہوتا ہوں، بڑی امیدکے ساتھ تشہد پڑھتا ہوا اخلاص کے ساتھ سنت کے مطابق سلام پھیر دیتا ہوں ۔ اور میں یہ نمازاس حالت میں اداکرتاہوں کہ میراکھانا اورلباس بالکل حلال مال سے ہوتاہے ۔ میں خوف وامیدکے درمیان ہوتاہوں،میں نہیں جانتاکہ میری یہ نمازقبول کرلی جائے گی یا ردکردی جائے گی۔”
یہ سن کرحضرتِ سیِّدُنا عِصَام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا: ”اے حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! آپ کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہیں؟”فرمایا:”تقریباًتیس(30) سال سے ایسی ہی نمازپڑھ رہاہوں۔” یہ سن کرحضرتِ سیِّدُنا عِصَام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوگلے لگا لیااوراتناروئے کہ چادر مُبَارَک آ نسو ؤ ں سے بِھیگ گئی۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)