حج کے ضروری احکام

حج کے ضروری احکام

(۱)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ اللَّہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَفِی کُلِّ عَامٍ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ لَوْ قُلْتُہَا نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِہَا وَلَمْ تَسْتَطِیعُوا وَالْحَجُّ مَرَّۃٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ‘‘۔ (1)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم انے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ اے لوگو! خدا نے تم پر حج فرض کیا ہے ۔ اقرع بن حابس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ فرمایا اگر میں ہاں کردوں تو ہر سال حج فرض ہوجائے اور اگر ہر سال فرض ہوجائے تو تم اسے ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے حج پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے اور جو شخص اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے ۔ (احمد ، نسائی، دارمی، مشکوۃ)
معلوم ہوا کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ا حکام شرعیہ پر اختیار کلی رکھتے ہیں کہ اگر چاہتے تو ہر سال حج کرنا فرض فرمادیتے ۔
(۲)’’عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْیَتَعَجَّلْ‘‘۔ (2)
حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو شخص حج کا ارادہ کرے تو پھر جلد اس کو پورا کرے ۔ (ابوداود، دارمی)

(۳)’’عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَابِعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ(1)وَالذُّنُوبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ وَالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ الْمَبْرُورَۃِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ‘‘۔ (2)
حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو( یعنی قِران کا احرام باندھو یا بالفعل دونوں کو متصلاًکرو) اس لیے کہ یہ دونوں افلاس ا ور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے چاندی اور سونے کی میل کو دور کردیتی ہے ۔ اور حج مقبول کا بدلہ صرف جنت ہے ۔ (ترمذی، نسائی) أَوْ مُعْتَمِرًا
(۴)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ غَازِیًا ثُمَّ مَاتَ فِی طَرِیْقِہِ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ أَجْرَ الْغَازِیِّ وَالْحَاجِّ وَالْمُعْتَمِرِ‘‘۔ (3)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے ارادہ سے نکلا اور پھر راستہ ہی میں مرگیا تو اﷲ تعالیٰ اس کے حق میں ہمیشہ کے لیے مجاہد، حاجی اور عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)
(۵)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ عُمْرَۃ فِی رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً‘‘۔ (4)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۔
(۶)’’عَنْ أَبِی رَزِینٍ الْعُقَیْلِیِّ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ
حضرت ابو رزین عقیلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں

أَبِی شَیْخٌ کَبِیرٌ لَا یَسْتَطِیعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَۃَوَلَا الظَّعْنَ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِیکَ وَاعْتَمِرْ‘‘۔ (1) (ترمذی، ابوداود)
حاضرہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ! میرا بوڑھا باپ اتنا کمزور ہے کہ حج و عمرہ کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ سواری پر سفر کرنے کی اس میں قوت ہے آپ نے فرمایا تو اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرلے ۔
(۷)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّہَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضِ دَیْنَ اللَّہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاء‘‘۔ (2)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی(اورنذرپوری کرنے سے پہلے )وہ مرگئی۔ آپ نے فرمایا اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا اس کو ادا کرتا؟ اس نے عرض کیا ہاں، آپ نے فرمایا تو پھر خدائے تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرکہ اس کا ادا کرنا زیادہ ضروری ہے ۔ (بخاری، مسلم)
(۸)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا مَحْرَمٌ ‘‘۔ (3) (بخاری، مسلم)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ عورت بغیر محرم کے ہر گز سفر نہ کرے ( چاہے وہ حج ہی کا سفر کیوں نہ ہو)۔
(۹)’’ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ مَلَکَ زَادًا وَرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہُ إِلَی بَیْتِ اللَّہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاعَلَیْہِ أَنْ یَمُوتَ
حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کہ جو شخص زادِ راہ اور بیت اللہ شریف تک پہنچادینے والی سواری کے مصارف کا

یَہُودِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا وَذَلِکَ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ: { وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-}(پارہ ۴، رکوع۱)۔ (1) (ترمذی)
مالک ہو اور پھر اس نے حج نہیں کیا تو اس کے یہودی یا نصرانی ہو کر مرنے میں کوئی فرق نہیں اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ { وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-}
یعنی خدائے تعالیٰ کے لیے بیت اﷲ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جب کہ حج کے تمام ضروری مصارف کا مالک ہو۔
انتباہ :
(۱)… دکھاوے کے لیے حج کرنا اور مال حرام سے حج کو جانا حرام ہے ۔ (2) (درمختار، رد المحتار، بہار شریعت، ج۶، ص ۷۱۹)
(۲)…حج کرنے کے لیے بھی تصویر اور فوٹو کھنچاناجائز نہیں خواہ حج فرض ہو یا نفل۔ اس لیے کہ گناہ سے بچنا کسی نیکی کے اکتساب سے اہم و اعظم ہے ۔
جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم ص: ۷۲۹ پر اشباہ سے ہے : ’’اِعْتِنَائُ الشَّرْعِ بِالْمَنْہِیَّاتِ أَشَدُّ مِنْ اِعْتِنَائِہِ بِالْمَأْمُورَاتِ‘‘۔ (3)
(۳)…عورت کو مکہ شریف تک جانے میں تین روز یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا ضروری ہے خواہ وہ جوان عورت ہو یا بوڑھی۔ محرم سے مراد وہ مرد ہے کہ جس سے ہمیشہ کے لیے اس عورت کا نکاح حرام ہے ۔ خواہ نسبت کی وجہ سے نکاح حرام ہو جیسے باپ، بیٹا ، اور بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو جیسے رضاعی بھائی باپ بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی ہو جیسے خسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔ (4) (بہار شریعت)
(۴)…شوہر یا محرم جس کے ساتھ عورت سفر کرسکتی ہے اس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے ۔ مجنون یا نابالغ یا فاسق کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ (5) (عالمگیری، درمختار، بہار شریعت)

(۵)…عورت کو بغیر محرم یا شوہر کے حج کے لیے جانا حرام ہے اگر حج کرے گی تو ہوجائے گا مگر ہر قدم پرگناہ لکھا جائے گا۔ (1) (فتاوی رضویہ، جلد چہارم، ص ۶۹۱)
بعض عورتیں بغیر محرم اپنے پیر یا کسی بوڑھے آدمی کے سا تھ حج کو جاتی ہیں یہ بھی ناجائز و حرام ہے ۔
(۶)…عورت کے ساتھ شوہر اور محرم نہ ہو تو اس پر واجب نہیں کہ حج کے جانے کے لیے نکاح کرے ۔ (2)
(بہار شریعت)
(۷)… اگر حج کے مصارف کا مالک ہو اور احباب کے لیے تحفہ و تحائف لانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تب بھی حج کو جانا فرض ہے ۔ اس کی وجہ سے حج نہ کرنا حرام ہے ۔ (3) (بہار شریعت)
(۸)…سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے روضۂ انور کی حاضری اور بیت اللہ شریف نیز دیگر مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے بعد حاجیوں کو چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے عزیز و اقارب میں مذہبی رنگ پیدا کرتے مگر افسوس کہ ایسا کرنے کے بجائے وہاں سے ریڈیو لا کر اپنے عزیز واقارب کو دیتے ہیں جس سے وہ اکثر اوقات گانا بجانا سن کر گناہ کماتے رہتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ریڈیو لانے والے حاجی کا نامۂ اعمال بھی سیاہ ہوتا رہتا ہے ۔ اَلْعِیَاذُ بِاﷲِ تَعَالَی قَالَ اللَّہُ تَعَالَی: { تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-} (پارہ ۶، رکوع ۵)
(۸)…جس نے پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کیا اور اس میں لڑائی جھگڑا نیز ہر قسم کے گناہ ونافرمانی سے بچا پھر حج کے بعدفوراً مر گیا اتنی مہلت نہ ملی کہ جو حقوق اللہ یا حقوق العباد اس کے ذمے تھے انہیں ادا کرتا یا ادا کرنے کی فکر کرتا۔ تو حج قبول ہونے کی صورت میں امید قوی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے تمام حقوق کو معاف فرمادے اور حقوق العباد کو اپنے ذمۂ کرم پر لے کر حق والوں کو قیامت کے دن راضی کرے اور خصومت سے نجات بخشے ۔ (4) (اعجب الامداد للامام احمدرضا)

اور اگر حج کے بعد زندہ رہا اور حتی الامکان حقوق کا تدارک کرلیا یعنی سالہا ئے گزشتہ کی مابقی زکوۃ ادا کردی چھوٹی ہوئی نماز اور روزہ کی قضا کی، جس کا حق مار لیا تھا اس کو یا مرنے کے بعد اس کے وارثین کو دے دیا، جسے تکلیف پہنچائی تھی معاف کرالیا جو صاحب حق نہ رہا اس کی طرف سے صدقہ کردیا۔ اگر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے ادا کرتے کرتے کچھ رہ گیا تو موت کے وقت اپنے مال میں سے ان کی ادائیگی کی وصیت کرگیا۔ خلاصہ یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے چھٹکارے کی ہر ممکن کوشش کی تو اس کے لیے بخشش کی اور زیادہ امید ہے ۔ (1) (اعجب الامداد)
ہاں اگر حج کے بعد قدرت ہونے کے باوجود ان امور سے غفلت برتی انہیں ادا نہ کیا تو یہ سب گناہ ازسرِ نو اس کے ذمہ ہوں گے اس لیے کہ حقوق اللہ و حقوق العباد تو باقی ہی تھے ان کی ادائیگی میں تاخیر کرنا پھر تازہ گناہ ہوا جس کے ازالہ کے لیے وہ حج کافی نہ ہوگا۔ اس لیے کہ حج گزرے گناہوں یعنی وقت پر نماز و روزہ وغیرہ ادا نہ کرنے کی تقصیر کو دھوتا ہے ۔ حج سے قضا شدہ نماز اور روزہ ہر گز نہیں معاف(2) ہوتے اور نہ آئندہ کے لیے پروانۂ آزادی ملتا ہے بلکہ مقبول(3) حج کی نشانی ہی یہ ہے کہ حاجی پہلے سے اچھا ہو کر واپس ہو۔ (4) (اعجب الامداد)
آج کل بہت سے حضرات برسہا برس حقوق اللہ یعنی نماز و روزہ اور زکاۃ وغیرہ نہیں ادا کر تے نیز حقوق العباد کی

کچھ پروا نہیں کرتے ، کسی کا قتل کرتے ہیں، کسی کی زمین غصب کرلیتے ہیں۔ کسی کا مال چراتے ہیں کسی کا روپیہ لے لیتے ہیں اور کسی کو ستاتے ہیں ۔ پھر حج کر آتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا سب گناہ معاف ہوگیا نہ اب چھوٹی ہوئی قضا نمازیں پڑھنی ہیں نہ بندوں کے حقوق معاف کرانا ہے یہ ان کی سخت غلط فہمی ہے ۔
مولیٰ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کما حقہ ادا کریں ۔
’’آمِیْن بِجَاہِ حَبِیْبِہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ صَلَوَاتُ اﷲِ تَعَالَی وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِیْنَ‘‘
حاجیوں آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے ، کعبہ کا کعبہ دیکھو
٭…٭…٭…٭

Exit mobile version