غسل کا طریقہ فرائض غسل تین ہیں

غسل کا طریقہ

غسل کی نیت کرکے پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، خواہ نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو پھر بدن پر جہاں کہیں نجاست لگی ہو ، اس کو دھوئے پھر نماز کے ایسا وضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے ہاں ا گر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے، پھربدن پر تیل کی طرح پانی چپڑ لے پھر تین مرتبہ داہنے مونڈھے پر پانی بہائے پھر بائیں مونڈھے پر تین بار پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار پھر نہانے کی جگہ سے الگ ہوجائے اگر وضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھولے اور نہانے میں قبلہ رخ نہ ہو اور تمام بدن پر ہاتھ پھیرلے اور ملے اور ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضاء کا ستر تو ضروری ہے، اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کرے اور نہانے میں کسی قسم کا کلام نہ کرے، نہ کوئی دعا پڑھے۔ بعد نہانے کے رومال سے بدن پونچھ ڈالے تو حرج نہیں ۔ (1)
مسئلہ۱: احتیاط کی جگہ ننگا نہانے میں حرج نہیں ، عورتوں کو بہت زیادہ اِحتیاط کی ضرورت ہے، حتی کہ عورتوں کو بیٹھ کر نہانا بہتر ہے نہانے کے بعد فورا ًکپڑا پہن لے، وضو میں جو باتیں سنت اور مستحب ہیں وہی غسل میں بھی ہیں سوا اس کے کہ ننگا نہاتا ہو تو قبلہ کو منہ نہ کرے اور

تہبند باندھے تو حرج نہیں ۔ یہ طریقہ جو غسل کا بیان ہوا اس میں تین باتیں فرض ہیں ، جن کے بغیر غسل نہ ہوگااورناپاکی نہ اُترے گی اورباقی سنت و مستحب ہیں اُن میں سے کسی بات کو چھوڑنا نہ چاہیے اگر کوئی بات چھوٹ گئی تو بھی غسل ہوجائے گا۔

فرائض غسل تین ہیں

{۱} کلی اِس طرح پر کہ منہ کے ہر پرزے،گوشے، ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے، مسوڑھے، دانت کی کھڑکیاں زبان کی ہر کروٹ میں حلق کے کنارے تک پانی بہے، روزہ نہ ہوتو غرارہ کرے تاکہ پانی اچھی طرح ہر جگہ پہنچے، دانت میں کوئی چیز اٹکی ہو (جیسے گوشت کا ریشہ چھالیہ کا چور، (1) پان کی پتی وغیرہ) تو جب تک ضررو حر َج نہ ہو چھڑانا ضروری ہے، بے اُس کے غسل نہ ہوگااوربے غسل نماز نہ ہوگی۔
{۲} ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں میں جہاں نرم جگہ ہے وہاں تک دُھلنا کہ پانی کو سونگھ کر اُوپر چڑھائے تاکہ بال برابر جگہ بھی دُھلنے سے رہ نہ جائے نہیں تو غسل نہ ہوگا۔ اگر بلاق (2) نتھ کیل کا سوراخ ہو تو اس میں بھی پانی پہنچانا ضروری ہے، ناک کے اندررینٹھ نکٹی سوکھ گئی تو اس کا چھڑانابھی فرض ہے اور ناک کے بال کا دھونا بھی فرض ہے۔
{۳} پورے بدن پر پانی بہہ جانا اس طرح کہ پاؤں کے تلوے تک جسم کے ہر پرزے ہر رونگٹے پر پانی بہے ، اس لیے کہ اگر ایک بال کی نوک بھی دُھلنے سے رہ گئی تو غسل نہ ہوگا۔

تنبیہ:

بہت لوگ ایسا کرتے ہیں کہ نجس تہبند باندھ کر غسل کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ
نہانے میں سب پاک ہوجائے گا، حالانکہ ایسا نہیں بلکہ پانی ڈال کر تہبند اور بدن پر ہاتھ پھیرنے سے نجاست اور پھیلتی ہے اور سارے بدن اور نہانے کے برتن تک کو نجس کردیتی ہے، اِس لیے ہمیشہ نہانے میں بہت خیال سے پہلے بدن سے اور اس کپڑے سے جس کو پہن کر نہاتے ہیں نجاست دور کرلیں تب غسل کریں ، ورنہ غسل تو کیا ہوگاا س ترہاتھ سے جن چیزوں کو چھوئیں گے سب نجس ہوجائیں گی، ہاں دریا تالاب میں البتہ ایساہوسکتا ہے وہ بھی جب کہ نجاست ایسی ہو کہ بلا مَلے دھوئے پانی کے دھکے سے خود بہہ کر نکل جائے ورنہ اس میں بھی دُشوار ہے۔

کن باتو ں سے غسل فرض ہوتا ہے ؟

جن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے وہ پانچ باتیں ہیں :
{۱} منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر عضو سے نکلنا۔
{۲} احتلام یعنی سوتے میں منی کا نکل جانا۔
{۳} شرم گاہ میں حشفہ تک چلا جانا خواہ شہوت سے ہو یا بلا شہوت، اِنزال ہو یا نہ ہو دونوں پر غسل فرض ہے۔
{۴} حیض یعنی ماہواری خون سے فراغت پانا۔
{۵} نفاس: بچہ جننے پر جو خون آتا ہو اس سے فارغ ہونا۔
مسئلہ۲: منی شہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے جدا نہ ہوئی بلکہ بوجھ اُٹھانے یا بلندی سے گرنے کی وجہ سے نکلی تو غسل واجب نہیں البتہ وضو جاتا رہے گا۔
مسئلہ۳: اگر منی پتلی پڑ گئی کہ پیشاب کے وقت یا ویسے ہی کچھ قطرے بلا شہوت نکل آئیں
تو غسل واجب نہیں ہاں وضو ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ۴: جمعہ، عید، بقر عید کے لیے اور عرفہ کے دن اور احرام باندھنے کے وقت نہانا سنت ہے۔
بے غسل کیا کام کرسکتا ہے اور کیا نہیں ؟
جس کو نہانے کی ضرورت ہو اُس کو مسجد میں جانا، طواف کرنا اور قرآنِ مجید چھونا اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد ہی کیوں نہ ہو (ہدایہ، عالمگیری) بے چھوئے دیکھ کر یا زبانی پڑھنا یا کسی آیت کا لکھنا یا انگوٹھی چھونا یا پہننا جس پر حرف مقطعات ہوں یہ سب حرام ہے۔
مسئلہ۵: اگر قرآن شریف جزدان میں ہو یا رومال وغیرہ کسی الگ کپڑے میں لپٹا ہو تو اُس پرسے ہاتھ لگانے میں حرج نہیں ۔ (ہدایہ وعالمگیری)
مسئلہ۶: اگر قرآن شریف کی آیت قرآن کی نیت سے نہ پڑھی تو حرج نہیں ، جیسے تبرک کے لیے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھی یا شکر کے لیے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن یا مصیبت و پریشانی میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا ٓاِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھی یا ثناء کی نیت سے سورۂ فاتحہ یا آیۃ الکرسی یا ایسی ہی کوئی آیت پڑھی تو کچھ حرج نہیں جب کہ قرآن پڑھنے کی نیت نہ ہو۔
(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۷: بے وضو کو قرآنِ مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے بے چھوئے دیکھ کر یا زبانی پڑھے تو کوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ۸: قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حرج نہیں اگرچہ حرف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آجائیں اور خیال میں پڑھتے جائیں ۔

مسئلہ۹: ان سب کو فقہ و حدیث و تفسیر کی کتابوں کا چھونا مکروہ ہے۔

________________________________
1 – والتمسح بالمندیل بعد الوضوء و الغسل لا بأس بہ۔ ( بزازیہ) (۱۲منہ) (الفتاوی البزازیۃ، کتاب الطہارۃ،الفصل التاسع فی الحظروالاباحۃ،۱/ ۲۴ہامش’’ الہندیۃ ‘‘ )

________________________________
1 – یعنی چھالیہ کے ریزے
2 – ایک زیورجوکہ ناک میں پہنتے ہیں۔

Exit mobile version