گائے پر ٹیکس

حکایت نمبر:324 گائے پر ٹیکس

حضرتِ سیِّدُنا ہِشَام بن مُحَمَّد بن سَائِبِ کَلْبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ شاہِ فارس (یعنی ایران کا بادشاہ )اپنے چند ہمراہیوں کے ساتھ شکار کے لئے نکلا۔گھنے جنگل میں اچانک ایک شکار نظر آیا ، بادشاہ نے گھوڑا شکار کے پیچھے لگادیا کافی دور تک پیچھا کرنے کے باوجو دبادشاہ اس جانورکا شکار کرنے میں ناکام رہا۔ وہ جانور کے پیچھے اتنی تیز ی سے آیا کہ

اسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ میں اپنے ہمراہیوں سے بہت دور ویران جنگل میں ایک انجانی جگہ پہنچ چکا ہوں۔آہستہ آہستہ شام اپنے سائے گہرے کر رہی تھی پھر یکایک آسمان پرسیاہ بادل چھاگئے او رکچھ ہی دیر بعد موسلا دھار بارش بر سنے لگی۔ بادشاہ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں ایک سمت چل دیا۔ کچھ دور ایک جھونپڑی نظر آئی جلدی سے وہاں پہنچا تو ایک بوڑھی عورت دروازے پر بیٹھی تھی۔ بادشاہ نے کہا: ” میں مسافر ہوں ،کیا اس اندھیری و طوفانی رات میں مجھے تمہاری جھونپڑی میں پناہ مل سکتی ہے؟” بڑھیا نے کہا:” آج رات آپ ہمارے مہمان ہیں، آئیے! اندر تشریف لے آئیے ۔”
بادشاہ اپنا گھوڑا لے کر بڑھیا کے ساتھ اس کی جھونپڑی میں داخل ہوگیا ۔ کچھ ہی دیر بعد بڑھیا کی بیٹی چند گائیں لے کر چھونپڑی میں داخل ہو ئی۔ وہ دن بھراپنے جانوروں کو چراگاہ میں چراتی اورشام کو واپس آجاتی، ساری ہی گائیں بہت فربہ اور دودھ والی تھیں۔ بادشاہ نے جب ایسی موٹی تازی دودھ والی گائیں دیکھیں تو دل میں کہا:” ان گایوں پر ضرور کچھ ٹیکس لگایا جانا چاہے، یہ بہت دودھ والی ہیں، ان کا دودھ دربارِ شاہی میں ضرور پہنچنا چاہے ۔ بادشاہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بڑھیا نے اپنی بیٹی سے کہا :” بیٹی! فلاں گائے کا دودھ نکالو۔” جب اس کی بیٹی گائے کے پاس پہنچی تو اسے دودھ سے بالکل خالی پایا ، اس نے پکار کر کہا: ”اے میری ماں ! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آج ہمارے بادشاہ نے ہمارے بارے میں کوئی برا فیصلہ کیا ہے۔ ” بڑھیا نے کہا: ”بیٹی کیا ہوا؟” کہا :” امی جان !ابھی کچھ دیر قبل جس گائے کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے اب دودھ کا ایک قطرہ بھی نہیں۔” بڑھیا نے کہا : ” صبر کرو ، صبح تک اس معاملے کو چھوڑ دو ۔” بادشاہ جو ماں بیٹی کی گفتگو سن رہا تھا اس نے دل میں کہا:” اس لڑکی کو کیسے معلوم ہو گیا کہ میں نے ان کے بارے میں ظالمانہ فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے؟ میں اپنے اس ارادے سے باز آیااب میں انہیں تنگ نہیں کروں گا ،لیکن ان کے بارے میں تحقیق ضرور کرو ں گا ۔”
جب صبح ہوئی تو بڑھیانے کہا :” بیٹی ! جاؤ دودھ نکا لو ۔” جب لڑکی، گائے کے پاس گئی تو اسے دودھ والی پایا ، اس نے پکار کر کہا: ”امی جان! بادشاہ نے ہمارے بارے میں جوناانصافی والی بات سوچی تھی اب اس کے دل سے وہ نکل چکی ہے ، ہماری گائے کے تھن اب دودھ سے بھر چکے ہیں ۔ ”پھر اس نے دودھ نکالااور رکھ دیا۔ اتنی ہی دیر میں بادشاہ کے ساتھی اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گئے ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ ان دنوں ماں بیٹی کو ہمارے دربار میں لے چلو ۔ سپاہی انہیں دربار میں لے گئے ۔ بادشاہ نے ان کی خوب خاطر مدارات کی ، پھر پوچھا:” تم نے کیسے جان لیا کہ بادشاہ نے کسی بری بات کا ارادہ کیا اور پھر اس کے دل سے وہ ارادہ جاتا رہا ؟” بڑھیا نے کہا:” ہم اس جنگل میں عرصۂ دراز سے سکونت پذیر ہیں ، جب بھی دربارِ شاہی سے کوئی عدل وانصاف والا حکم جاری ہوتا ہے تو ہمارے شہروں، دیہاتوں اور چراگاہوں میں خوشحالی آجاتی اور ہماری زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے۔لیکن جب کوئی ظالمانہ حکم جاری ہو تا ہے تو تنگدستی اورمفلسی آجاتی ہے اور ہماری اشیاء سے ہمارا نفع منقطع(یعنی ختم ) ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ہم جان لیتے ہیں کہ کس وقت کس طرح کا

حکم جاری ہوا ہے۔” یہ سن کر بادشاہ بڑا حیران ہوا پھرماں بیٹی کو انعام واکرام کے ساتھ واپس بھیج دیا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور اچھوں کے دامن سے وابستہ فرمائے۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)