غیبی کنوئیں کا قیدی

حکایت نمبر384: غیبی کنوئیں کا قیدی

حضرتِ سیِّدُنا شَیْبَان بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے: میرے والد ِ محترم اورعبدُ الوَاحِد بن زَیْد جہاد کے ارادے سے ایک لشکر کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ہم نے ایک ایسے کنوئیں کے قریب قیام کیا جوبہت چوڑا اور گہر ا تھا۔ لوگو ں نے پانی نکالنے کے لئے کنوئیں میں ڈول ڈالا تو رسی کھل گئی اور ڈول کنوئیں میں ہی رہ گیا ۔ لوگوں نے رسیاں باندھ کر ایک آدمی کو ڈول نکالنے کے لئے کنوئیں میں اُتارا۔ جب وہ کنوئیں میں اُتراتو کسی کی درد بھری آوازیں آنے لگیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی شدید مرض کی حالت میں کراہ رہا ہے۔ آواز سن کر وہ شخص واپس آگیا اور لوگوں سے کہا :” کیا تم نے بھی وہ آواز سنی ہے جو میں نے سنی ؟”لوگوں نے کہا:”ہاں! ہم نے بھی وہ آواز سنی ہے ۔” پھروہ لوہے کی ایک سلاخ لے کر واپس کنوئیں کی طرف گیا تا کہ اس کی مدد سے اندر پھنسے ہوئے مصیبت زدہ کو نکال سکے۔ جب پانی کی سطح کے قریب پہنچا توایک شخص تختے پر بیٹھاتھا، اس نے پکار کر کہا :” توجِنّ ہے یا انسان ؟ ‘ ‘ تختے پر بیٹھے ہوئے شخص نے کہا :”میں انسان ہوں۔” پوچھا:” کہا ں کا رہنے والا ہے۔” کہا :” میں”اَنْطَاکِیَہ” کا رہائشی تھا۔ قرض ادا نہ کرنے کے جرم میں انتقال کے بعدمجھے اس کنوئیں میں قید کردیاگیا ۔ اَنْطَاکِیَہ میں میری اولاد ہے جو نہ تو مجھے یاد کرتی اور نہ ہی میرا قرض ادا کرتی ہے ۔ بس اب میں اس کنوئیں میں قید ہو کر اپنے جرم کی سزا پارہاہوں ۔”
یہ سن کر وہ شخص باہر نکل آیا اور اپنے دوستوں سے کہا:”ایک بہت اہم مسئلہ درپیش ہے ۔ پہلے اسے حل کرتے ہیں پھر جہاد کے لئے چلیں گے۔ چنانچہ، لشکر کے کچھ افراد اَنْطَاکِیَہ گئے اور کنوئیں میں قید شخص کا نام لے کر اس کے بیٹوں کا پتہ معلوم کر کے ان کے پاس پہنچے اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا:”بخدا!وہ واقعی ہماراوالدہے۔آؤ! ہم اپنی زمین بیچ کر ابھی اپنے والد کا قرض ادا کر دیتے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے زمین بیچی اور سارا قرض ادا کردیا۔” لشکر سے گئے ہوئے افراد جب اَنْطَاکِیَہ

سے واپس اسی مقام پر پہنچے جہاں لشکر نے کنوئیں کے قریب قیام کیا تھا تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں دور دور تک کسی کنوئیں کا نام ونشان نہ تھا ۔ وہ بڑے حیران ہوئے اور سفر پر روانہ ہونے لگے لیکن سورج غروب ہونے کوتھا لہٰذا انہوں نے وہ رات وہیں گزاری رات کو ان کے خواب میں وہی شخص آیا اور بہت شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
”اے راہِ خدا کے مسافرو! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اچھی جزا عطا فرمائے۔ تمہاری کوشش اور خیر خواہی کی وجہ سے جب میرے بیٹوں نے میرا قرض ادا کیا تو میرے پاک پر وردگار عَزَّوَجَلَّ نے مجھے کنوئیں کی قید سے نجات عطا فرماکر جنت کے اعلی درجات میں جگہ عطا فرمادی ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ لوگو ں کو اچھا ٹھکانہ عطا فرما ئے ۔( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)