فضائل معراج

فضائل معراج

(۱)’’ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أُتِیتُ بِالْبُرَاقِ (وَہُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ طَوِیلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَہَی طَرْفِہِ) قَالَ فَرَکِبْتُہُ حَتَّی أَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُہُ بِالْحَلْقَۃِ الَّتِی یَرْبِطُ بِہِ الْأَنْبِیَاء قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّیْتُ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاء نِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام بِإِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِیلُ اخْتَرْتَ الْفِطْرَۃَ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ فَقِیلَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ قِیلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِی وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّانِیَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام فَقِیلَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ قِیلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَیْ الْخَالَۃِ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَیَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا صَلَوَاتُ اللَّہِ
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کہ میرے پاس ایک براق لایا گیا یہ ایک سفید رنگ کا جانور تھا جس کا قد گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا اس کا قدم اس مقام پر پڑتا تھا جہاں تک نگاہ پہنچتی ہے ۔ حضور نے فرمایا تو میں اس پر سوار ہوا یہاںتک کہ بیت المقدس میں آیا حضور نے فرمایا تو میں نے براق کو اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے انبیائے کرام علیہم السلام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے ، حضور نے فرمایا پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر نکلا تو جبریل میرے پاس ایک پیالہ شراب کا اور ایک پیالہ دودھ کا لائے ، میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ جبریل نے کہا کہ آپ نے فطرت (اسلام) کو اختیار کرلیا۔ پھر جبریل مجھ کو آسمان کی طرف لے چلے ۔ جبریل نے (آسمان کا دروازہ ) کھولنے کے لیے کہا تو پوچھا گیا آپ کون ہیں؟ فرمایا میں جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا سرکار ِ مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )ہیں، پھر پوچھاگیاان کو بلایا گیا

عَلَیْہِمَا فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِی إِلَی السَّمَاء الثَّالِثَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ فَقِیلَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِیلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِیُوسُفَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا ہُوَ قَدْ أُعْطِیَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَاء الرَّابِعَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام قِیلَ مَنْ ہَذَا قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِیسَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الْخَامِسَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ قِیلَ مَنْ ہَذَا؟ قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ قِیلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِہَارُونَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام قِیلَ مَنْ ہَذَا قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ قِیلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا
ہے فرمایا (ہاں) بلایا گیا ہے ۔ پھر آسمان کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا گیا تو میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا انہوںنے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر فرمائی۔ پھر جبریل مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے چلے ۔ انہوںنے (آسمان کا دروازہ) کھولنے کے لیے کہا تو پوچھا گیا آپ کون ہیں۔ فرمایا میں جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا سرکار ِ مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )ہیں، پھر پوچھا گیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا (ہاں) بلایا گیا ہے ، حضور نے فرمایا پھر آسمان کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا گیا تو میں نے دو خالہ زاد بھائیوں یعنی عیسی بن مریم اور یحیی بن زکریا علیہما الصلاۃ والسلام کو دیکھا تو انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دُعائے خیر فرمائی۔ پھر جبریل مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے چلے ۔ انہوں نے (آسمان کا دروازہ) کھولنے کے لیے کہا تو پوچھا گیا آپ کون ہیں؟ فرمایا میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا اورآپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا سرکار ِ مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )، پھر پوچھا گیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا (ہاں) بلایا گیا ہے پھر آسمان کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا گیا وہاں مجھ کو یوسف علیہ السلام نظر آئے جنہیں ( سارے جہاںکا)آدھا حسن عطا فرمایا گیا ہے انہوں

بِمُوسَی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عَرَجَ إِلَی السَّمَاء السَّابِعَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ فَقِیلَ مَنْ ہَذَا؟ قَالَ جِبْرِیلُ قِیلَ وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِیلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاہِیمَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَہْرَہُ إِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا ہُوَ یَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ لَا یَعُودُونَ إِلَیْہِ ثُمَّ ذَہَبَ بِی إِلَی السِّدْرَۃِ الْمُنْتَہَی وَإِذَا وَرَقُہَا کَآذَانِ الْفِیَلَۃِ وَإِذَا ثَمَرُہَا کَالْقِلَالِ قَالَ فَلَمَّا غَشِیَہَا مِنْ أَمْرِ اللَّہِ مَا غَشِیَ تَغَیَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّہِ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَنْعَتَہَا مِنْ حُسْنِہَا فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَیَّ مَا أَوْحَی فَفَرَضَ عَلَیَّ خَمْسِینَ صَلَاۃً فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَنَزَلْتُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلَی أُمَّتِکَ قُلْتُ خَمْسِینَ صَلَاۃً قَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیفَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا یُطِیقُونَ ذَلِکَ فَإِنِّی قَدْ بَلَوْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَخَبَرْتُہُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَبِّی فَقُلْتُ یَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَی أُمَّتِی فَحَطَّ عَنِّی خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقُلْتُ حَطَّ عَنِّی
نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر فرمائی۔ پھر جبریل مجھے چوتھے آسمان کی طرف لے چلے تو جبریل علیہ السلام نے ( آسمان کا دروازہ) کھولنے کے لیے کہا۔ پوچھا گیا یہ کون ہے ؟ فرمایا میں جبریل ہوں کہا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ۔ فرمایا سرکار مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ہیں پھر پوچھا گیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا ( ہاں) بلایا گیا ہے تو آسمان کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا گیا تو میں نے ادریس علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھا تو انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر فرمائی۔ جن کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔ پھر جبریل مجھے پانچویں آسمان کی طر ف لے چلے تو انہوںنے ( آسمان کا دروازہ) کھولنے کے لیے فرمایا تو پوچھا گیا یہ کون ہے ۔ ؟ فرمایا میں جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا سرکارِ مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ہیں پھر کہا گیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا (ہاں) بلایا گیا ہے تو ہمارے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا تو اچانک مجھ کو ہارون علیہ الصلاۃ والسلام نظر آئے انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر فرمائی ۔ پھر جبریل ہم کو چھٹے آسمان کی طرف لے چلے انہوں نے آسمان کا دروزاہ کھولنے کے لیے کہا پوچھا

خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا یُطِیقُونَ ذَلِکَ فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیفَ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَبَیْنَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَام حَتَّی قَالَ یَا مُحَمَّدُ إِنَّہُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ لِکُلِّ صَلَاۃٍعَشْرٌ فَذَلِکَ خَمْسُونَ صَلَاۃً وَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃً فَإِنْ عَمِلَہَا کُتِبَتْ لَہُ عَشْرًا وَمَنْ ہَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا لَمْ تُکْتَبْ شَیْئًا فَإِنْ عَمِلَہَا کُتِبَتْ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً قَالَ فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ رَجَعْتُ إِلَی رَبِّی حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ مِنْہ‘‘ ۔ (1)
گیا یہ کون ہے ؟۔ فرمایا میں جبریل ہوں پھر پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا سرکارِ مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ہیں پھر کہا گیا اور ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا (ہاں)بلایاگیاہے تو آسمان کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا گیا تو میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا انہوں نے مرحبا فرمایا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر جبریل ہمیں ساتویں آسمان کی طرف لے چلے تو انہوں نے ( آسمان کا دروازہ) کھولنے کے لیے کہا تو پوچھا گیا یہ کون ہے ؟ فرمایا میں جبریل ہوں پھر پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا سرکار ِ مصطفے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ہیں پھر پوچھا گیا اور ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا (ہاں) بلایا گیا ہے تو ہمارے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا تو ہم نے حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھا جو بیت المعمور سے اپنی پیٹھ کی ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار ایسے فرشتے داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ نہیں آتے ( یعنی روز نئے نئے فرشتے آتے ہیں) پھر مجھ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے گئے اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے مثل ہیں اور اس کے پھل بڑے مٹکوں کے مانند ہیں تو جب سدرۃ المنتہیٰ کو خدائے تعالیٰ کے حکم سے ایک چیز نے ڈھانپ لی تو اس کا رنگ بدل گیا خدائے تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کوئی اس کی خوبصورتی بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا پھر خدائے تعالیٰ نے میری جانب وحی فرمائی جو کچھ وحی فرمائی پھر اس نے رات اور دن میں پچاس نمازیں میرے اوپر فرض فرمائیں۔ میں واپسی میں موسیعلیہ الصلاۃ والسلام کے پاس آیا انہوں نے پوچھا آپ کے پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض فرمایا ہے ؟ میں نے کہا

رات دن میں پچاس نمازیں۔ موسی علیہ ا لسلام نے کہا اپنے پروردگار کے پاس جا کر تخفیف کی درخواست پیش کریں اس لیے کہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھتی میں نے بنی اسرائیل کی آزمائش کی ہے اور اس کا امتحان لیا ہے ۔ حضور نے فرمایا تو میں نے واپس جا کر عرض کیا اے میرے پروردگار میری امت پر آسانی فرما تو خدائے تعالیٰ نے میری امت سے پانچ نمازیں کم کردیں میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیااور کہا کہ مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی آپ پھر اپنے پروردگار کے پاس جا کر تخفیف چاہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا اور نماز کی تخفیف کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا اے محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) یہ رات اور دن کی کل پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کے لیے دس نمازوں کا ثواب ہے تو وہ پانچ نمازیں ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔ جس شخص نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس کو نہ کیا تو صرف ارادہ ہی سے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر کر لیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو شخص برے کام کا ارادہ کرے اور اس کو نہ کرے تو کچھ نہیں لکھا جاتا اور کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے ۔ حضور نے فرمایا اس کے بعد میں اتر کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو ان کو حقیقت ِحال سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ اپنے رب کے پاس جا کر اور تخفیف چاہیں تو رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کہ میں نے مو سیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میں اپنے رب کے پاس (نماز کی تخفیف کے لیے ) اتنی بار حاضر ہوا ہوں کہ اب مجھ کو وہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ (مسلم)
(۲)’’ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَمَّا کَذَّبَنِی قُرَیْشٌ قُمْتُ فِی الْحِجْرِ فَجَلَّی اللَّہُ لِی بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُہُمْ عَنْ آیَاتِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَیْہِ‘‘۔ (1)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے رسولِ کریم علیہ الصلاوۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب قریش نے ( واقعہ معراج کی بابت) میری تکذیب کی تو میں ( ان کے سوالات کا جواب دینے کے لیے ) مقامِ حجر میں کھڑا ہوا تو خدائے تعالیٰ نے بیت المقدس کو میری نگاہوں کے سامنے کردیا میں بیت

المقدس کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کی نشانیوں کے بارے میں قریش کے سوالات کا جواب دے رہا تھا۔ (بخاری، مسلم ، مشکوۃ)
اِنتباہ :
(۱)…حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جاگتے میں معراج جسمانی ہوئی تھی ا س لیے کہ اگر معراج منامی یا روحانی ہوتی تو کفار قریش حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ہر گز نہ جھٹلاتے اور نہ بعض ضعیف الایمان مسلمان مرتد ہوتے ۔
شرح عقائد نسفی ص:۱۰۵ میں ہے : ’’ أَنَّ الْمِعْرَاجَ فِی الْمَنَامِ أَوْبِالرُّوْحِ لَیْسَ مِمَّا یُنْکَرُ کُلَّ الْإِنْکَارِ وَالْکَفَرَۃُ أَنْکَرُوْا أَمْرَ الْمِعْرَاجِ غَایَۃَ الْإِنْکَارِ بَلْ کَثِیْرٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ قَدِ ارْتَدُّوْا بِسَبَبِ ذَلِکَ اھـ‘‘۔ (1)
(۲)…حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جاگتے میں جسمانی معراج ہونا برحق ہے ۔ مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک کی سیر کا انکار کرنے والا کافر ہے اور آسمانوں کی سیر کا انکار کرنے والا گمراہ بددین ہے ۔
اشعۃ اللمعات جلد چہارم ص :۵۲۷ میں ہے :
’’اسراء از مسجد حرام ست تا مسجد اقصٰی ومعراج از مسجد اقصٰی ست تا آسمان و اسراء ثابت ست بہ نص قرآن و منکرآں کافر است ومعراج باحادیث مشہورہ کہ منکر آں ضال ومبتدع ست‘‘۔ (2)
یعنی مسجد حرام سے مسجد ِ اقصٰی تک اسراء ہے اور مسجد اقصی سے آسمان تک معراج ہے ۔ اسراء نص قرآنی سے ثابت ہے اس کا انکار کرنے والا کافر ہے اور معراج احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اس کا انکار کرنے والا گمراہ اور بددین ہے ۔
اور شرح عقائد نسفی ص :۱۰۰ میں ہے :
’’ اَلْمِعْرَاجُ لِرَسُوْلِ اللَّہِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فِی الْیَقَظَۃِ بِشَخْصِہِ إِلَی السَّمَاءثُمَّ إِلَی مَا شَائَ اللَّہُ تَعَالَی مِنَ الْعُلَی حَقٌّ أَیْ
یعنی حالت ِبیداری میں جسمِ اطہر کے ساتھ آسمان اور اس کے اوپر جہاں تک خدائے تعالیٰ نے چاہا سرکار ِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا تشریف لے

ثَابِتٌ بِالْخَبَرِ الْمَشْھُوْرِ حَتَّی أَنَّ مُنْکِرَہُ یَکُوْنُ مُبْتَدِعًا‘‘۔ (1)
جانا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اس کا انکار کرنے والا بددین ہے ۔
اور اسی کتاب کے ص ۱۰۱ پر ہے :
’’ الْإِ سْرَاءوَھُوَ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ قَطْعِیٌّ ثَبَتَ بِالْکِتَابِ وَالْمِعْرَاجُ مِنَ الْأَرْضِ إِلَی السَّمَائِ مَشْہُوْرٌ‘‘۔ (2)
یعنی مسجد حرام سے بیت المقدس تک رات میں سیر فرماناقطعی ہے قرآن مجید سے ثابت ہے (اس کا منکر کافرہے )اورزمین سے آسمان تک سیرفرمانا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے ۔ (اس کا منکر گمراہ ہے )۔
اور سید الفقہاء حضرت ملّا جیون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
’’ أَنَّ الْمِعْرَاجَ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی قَطْعِیٌّ ثَابِتٌ بِالْکِتَابِ وَإِلَی سَمَاء الدُّنْیَا ثَابِتٌ بِالْخَبْرِ الْمَشْھُوْرِ وَإِلَی مَا فَوْقَہُ مِنَ السَّمَوَاتِ ثَابِتٌ بِالْأَحَادِ فَمُنْکِرُ الْأَوَّلِ کَافِرٌ اَلْبَتَّۃَ وَمُنْکِرُ الثَّانِی مُبْتَدِعٌ مُضِلّ وَمُنْکِرُ الثَّالِثِ فَاسِقٌ‘‘۔ (3)
یعنی مسجد اقصٰی تک معراجِ قطعی ہے قرآن سے ثابت ہے ۔ اور آسمانِ دنیا تک حدیث مشہور سے ثابت ہے ۔ اور آسمانوں سے اوپر تک آحاد سے ثابت ہے تو پہلے کا منکر قطعی کافر ہے اور ثانی کا بددین گمراہ ہے اور تیسرے کا منکر فاسق ہے ۔ (تفسیرات احمدیہ، ص ۳۲۸)
حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حالت ِبیداری میں جسمِ اطہر کے ساتھ ایک بار اور خواب میں کئی بار معراج ہوئی ۔ اشعۃ اللمعات جلد چہارم ص: ۵۲۷ میں ہے :
’’مختلف آمدہ است واقوال علماء دریں باب کہ در خواب بود یا در بیداری ویک بار بود یا بار ہا۔ صحیح ومختار جمہور آن ست کہ بار ہا بود یک بار در بیداری بود وبار ہائے دیگر در خواب‘‘۔
یعنی معراج خواب میں ہوئی تھی یا بیداری میں اور ایک بار ہوئی تھی یا بار بار ؟ اس باب میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ صحیح اور جمہور علماء کا مختار یہ ہے کہ معراج کئی بار ہوئی تھی ایک بار بیداری میںاور کئی بار خواب میں۔

پھر دو سطر کے بعد فرمایا کہ:
’’تحقیق آن ست کہ یکباردر یقظہ بود بجسد شریف از مسجد حرام تا مسجد اقصٰی واز آنجا تا آسمان واز آسمان تا آنجا کہ خدا خواست۔ اگر درمنام بودے باعث ایں ہمہ فتنہ وغوغا نمی شد وباعث اختلاف وارتداد نمی گشت‘‘۔ (1)
یعنی تحقیق یہ ہے کہ معراج ایک بار حالت بیداری میں جسمِ اطہر کے ساتھ ہوئی۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی تک اور وہاں سے آسمان تک اور آسمان سے جہاں تک کہ خدائے تعالیٰ نے چاہا۔ اگر واقعۂ معراج خواب میں ہوتا تو اس قدر فتنہ و فساد و شور و غوغا کا باعث نہ ہوتا۔ اور کافروں کے جھگڑنے اور بعض مسلمانوں کے مرتد ہونے کا سبب نہ بنتا۔ (اشعۃ اللمعات، ج۴ ص ۵۲۷)
اور تفسیر خازن جلد رابع ص: ۱۳۴ میں ہے :
’’اَلْحَقُّ الَّذِیْ عَلَیْہِ أَکْثَرُ النَّاسِ، وَمُعظمُ السَّلَفِ وَعَامَّۃُ الْخَلَفِ مِنَ الْمُتَأخرِینَ مِن الْفُقَہائِ وَالمُحَدِّثینَ وَالْمُتَکلِّمِین أَنّہ أَسْرَی بِرُوحِہِ وَجَسَدِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘۔ (2)
یعنی حق وہی ہے کہ جس پر کثیر صحابہ اکابر تابعین اور عامہ متاخرین فقہا محدثین اور متکلمین ہیں کہ سرکار اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو روح اور جسم کے ساتھ معراج ہوئی۔
اور حضرت مُلّا جیون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
’’ اَلأَصَحُّ أَنَّہُ کَانَ فِی الْیَقَظَۃِ وَکَانَ بِجَسَدِہِ مَعْ رُوْحِہِ وَعَلَیْہِ أَھْلُ السَّنَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ فَمَنْ قَالَ أَنَّہُ بِالرُّوْحِ فَقَطْ أَوْ فِی النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلّ فَاسِقٌ‘‘۔ (3)
یعنی صحیح یہ ہے کہ معراج جاگتے میں جسم اطہر کے ساتھ مع روح کے ہوئی۔ اہلِ سنت و جماعت کا یہی مسلک ہے تو جس نے کہا کہ معراج صرف روح کے ساتھ ہوئی یا صرف خواب میں ہوئی تو وہ بددین ، گمراہ ، گمراہ گو، اور فاسق ہے ۔ (تفسیرات احمدیہ، ص ۳۳۰)
٭…٭…٭…٭

Exit mobile version