فال گوئی کیا ہے

فال گوئی کیا ہے

(۱)’’ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَی عَرَّافًا فَسَأَلَہُ عَنْ شَیْئٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَـلَاۃُ أَرْبَـعِیـنَ لَیْلَۃً‘‘۔ (1)
حضرت حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کہا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کہ جو شخص کاہن اور نجومی کے پاس جا کر کچھ دریافت کرے اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ (مسلم شریف)
(۲)’’ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَی کَاہِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُولُ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جو شخص کاہن اور جوتشی کے پاس جائے اور اس کے بیان کو سچا جانے تو وہ قرآن اور دین اسلام سے الگ ہوگیا۔ (احمد، ابوداود)
(۳)’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الکُہَّانِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّہُمْ لَیْسُوا بِشَیْئٍ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّہُمْ یُحَدِّثُونَ أَحْیَانًا بِالشَّیْئِ یَکُونُ حَقًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطَفُہَا الْجِنِّیُّ فَیَقُرُّہَا
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا نے فرمایا کچھ لوگوں نے رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم سے کاہنوں کی بابت پوچھا (کہ ان کی باتیں قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں) حضور نے فرمایا وہ بالکل ( قابلِ اعتماد ) نہیں ہیں۔ لوگوںنے عرض کیا یارسول اللہ ! بعض وقت وہ ایسی خبر دیتے ہیں جو سچ ہوجاتی ہیں۔ حضور نے فرمایا وہ کلمۂ حق ہے جس کو ( فرشتوں سے ) شیطان

فِی أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُونَ فِیہَا أَکْثَرَ مِنْ مِئَۃِ کَذبَۃٍ‘‘۔ (1)
اچک لیتا ہے ۔ اور ا پنے دوست کاہن کے کان میں اس طرح ڈال دیتا ہے جس طرح ایک مرغی دوسری
مرغی کے کان میں آواز پہنچاتی ہے پھر وہ کاہن اس کلمۂ حق میں سوسے زیادہ جھوٹی باتیں ملادیتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)
٭…٭…٭…٭

________________________________
1 – ’’صحیح البخاری‘‘، کتاب الأدب، باب قول الرجل للشیء إلخ، الحدیث: ۶۲۱۳، ج۴، ص۱۵۹، ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب السلام، باب تحریم الکھانۃ إلخ، الحدیث: ۱۲۳۔ (۲۲۲۸) ص۱۲۲۴.