ایک مظلوم کی حکمت بھری باتیں

حکایت نمبر484: ایک مظلوم کی حکمت بھری باتیں

حضرتِ سیِّدُنا حسن بن خضر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: مجھے ایک ہاشمی نے بتایاکہ ایک مرتبہ میں خلیفہ ابوجَعْفَر منصور کے دربار میں تھا۔ وہ لوگوں کی فریادیں سُن کران کے لئے احکامات جاری کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: ”اے امیر!یقینا مجھ پر ظلم کیاگیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ اپنے اوپر کئے جانے والے ظلم کو بیان کرنے سے پہلے آپ کے سامنے ایک مثال پیش کروں۔” امیر نے کہا:” جو کہنا چاہتے ہو کہو ۔”
کہا:”اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کے کئی طبقے بنائے اور انہیں مختلف مراتب میں رکھا۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اپنی ماں کے علاوہ نہ تو کسی کوپہچانتاہے نہ ہی کسی اور سے کوئی چیز طلب کرتا ہے۔ اگر اسے خوف محسوس ہوتو ماں کی آغوش میں آجاتا ہے۔ جب کچھ بڑا ہوتا ہے تو باپ کو پہچانتا ہے، اگرکوئی اسے تنگ کرے یا ڈرائے تو اپنے باپ کی پناہ لیتا ہے۔پھر جب بالغ ومستحکم ہوجاتا ہے اور اسے کوئی چیز ڈراتی یا نقصان پہنچاتی ہے تو وہ اپنے بادشاہ کی طرف رجوع کرتا اور ظالم کے خلاف بادشاہ کی مدد چاہتا ہے۔ اگر بادشاہ خود اس پر ظلم کرے تو وہ تمام جہانوں کے خالق و مالک، اللہ عزوجل کی بارگاہ میں استغاثہ کرتا اور اس کی پناہ چاہتا ہے۔ اے امیر !بے شک میں بھی مخلوق کے انہیں طبقوں میں شامل ہو ں ۔ ابن نَہِیْک نے میری زمین کے معاملہ میں مجھ پر ظلم کیا ہے۔ اگر آپ میری مدد کریں گے تو بہت بہتر، ورنہ! میں اپنا مقدمہ، خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی بارگاہ میں پیش کر دوں گا۔ اب آپ کی مرضی چاہیں تو میری مدد فرمائیں یامجھے چھوڑ دیں ۔”اس شخص کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر منصور نے کہا:”اپنا کلام دہراؤ ۔”اس شخص نے دوبارہ اسی طرح بیان کیا، تو ابو جَعْفَر نے کہا:”سنو! سب سے پہلے تو میں ابن نَہِیْک کومعزول کرتا ہوں اور اسے حکم دیتا ہوں کہ وہ جلد ازجلد تمہاری زمین تمہیں واپس کردے ۔”