ایک بَدَوِی کی التجائیں

حکایت نمبر 409: ایک بَدَوِی کی التجائیں

حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عبید بن یونُس بن محمد بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ایک مرتبہ دورانِ طواف میری نظر ایک بَدَوِی(دیہاتی) پر پڑی جو غلاف ِکعبہ تھامے آسمان کی جانب نظر اُٹھاکر اس طرح التجائیں کررہا تھا:
”اے وہ بہتر ذات جس کی طرف لوگ وَفد دَر وَفد ( یعنی گروہ در گروہ) آتے ہیں! میری زندگی کے دن گزر گئے، مجھ پر کمزوری نے غلبہ پالیا۔ اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں تیرے معظَّم ومکرَّم گھرکی طرف اتنے گناہوں کے ساتھ آیاہوں کہ وسعت اَرض (یعنی زمین کی چوڑائی) بھی ان کے لئے تنگ پڑ گئی ہے۔سمندر بھی میرے گناہوں کی گندگی کونہیں دھوسکے۔ میرے کریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ !میں تیرے عفو و کرم کے بھروسے پر تیری پناہ میں آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری تیرے حرم میں لا کر روک دی ہے۔ اپنامال تیری رضا کی خاطرخرچ کر دیا ہے۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! یہ سب تیری عطاؤں کے خزانے سے ہے ۔”
پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بآواز ِبلند کہا: ”اے لوگو! اس کے لئے دعا کرو جسے اس کی خطاؤں نے گھیرا ہوا ہے، جس پر مصیبتوں اور پریشانیوں نے غلبہ پا لیا ہے ۔ میرے بھائیو! غریب و مفلس بیچ ارے پر رحم کرو، میں تمہیں اسی شوق و رغبت کا واسطہ دیتا ہوں جو تمہیں دربارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ تک کھینچ لایاہے۔میرے لئے دعا کرو کہ میرا پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ میرے جرموں کو معاف فرماکر میرے گناہوں سے در گزر فرمائے۔” یہ کہہ کر وہ دوبارہ خانۂ کعبہ کا غلاف پکڑ کر مصروف التجا ہوگیا اور عرض گزار ہوا: ”اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ ! تیرا بندہ بڑے بڑے گناہوں کی وجہ سے کرب و غم میں مبتلا ہوگیا ہے، کچھ بھی نیکیاں پَلَّے نہیں ۔ اے میرے کریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! مجھ غریب و نادار کو اپنی رحمتِ خاصہ کے سائے میں جگہ عطا فرما۔”
؎ یا خدا ! رحمت تیری حاوی ہے تیرے غضب پر
تیری رحمت کے سہارے جی رہا بدکار ہے
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” میں نے میدانِ عرفات میں پھر اسی بدوی کو دیکھا، وہ اپنا بایاں ہاتھ سر پر رکھے ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا اور اس کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے:
” میرے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ ! باغات کلیوں کے ساتھ مسکراتے ہیں۔ آسمان رحمت کی بارش برساتا ہے ۔ اس انعام واِکرام کاواسطہ جو تو اپنے محبین کو عطا فرماتا ہے ۔ میرااس بات پر پختہ یقین ہے کہ تو اپنے چاہنے والوں کو اپنی رضا عطا فرماتا ہے ۔ اور کیوں نہ ہو تُو تو ہر اس شخص سے محبت کرتا ہے جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔جو تیری طرف لَو لگاتا ہے تو اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتا ہے۔ میرے مالک عَزَّوَجَلَّ !ہر ہر شے تیری مشتاق ہے۔ میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے دل کو بھی اپنا مشتاق بنالے ۔مجھے بھی اپنی رحمت کی دولت عطا فرمادے۔ میری گردن کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرمادے۔”