ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علمائے دین کہ ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرناجائز ہے یانہیں۔؟

سیدآغامحمدولدسیدحاجی گل محمد ۔ بھنڈی واڑی بیس محلہ، ہبلی

الجواب: 
روایت ہے ایک صاحب مسجد میں حاضرہوئے اس وقت کہ رسول اللہ ﷺنماز پڑھ چکے تھے ۔فرمایا ہے کوئی کہ اس پرصدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے کہ اسے جماعت کاثواب مل جایے ایک صاحب یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ نمازپڑھی۔(ابوداؤدوترمذی)
مسئلہ ہئیت مسجدمحلہ میں جس کے لیے امام مقرر ہوامام محلہ نے اذان واقامت کے ساتھ اولیٰ پردوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کردائیں بائین ہو، ہئیت بدلنے کے لیے امام کا محراب سے دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا ۔ کافی ہے شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق درجوق آتے اورپڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نماز ی مقرر نہ ہوں اس میں اگرچہ اذاں واقامت کے ساتھ نماز قائم کی جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان واقامت سے جماعت کرے یونہی اسٹیشن وسرائے کے مسجدمیں۔ (درالمختار، ردالمختار وغیرہما)
(اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ)
Exit mobile version