دعائے معروف علیہ رحمۃ اللہ الرء ُوف کی برکت

حکایت نمبر301: دعائے معروف علیہ رحمۃ اللہ الرء ُوف کی برکت

حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان رُوْمِی علیہ رحمۃاللہ القوی سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے خلیل صیّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”ایک مرتبہ میرا بیٹا شہر سے باہر کھیتوں کی طرف گیا اورگم ہوگیا ، خوب ڈھونڈالیکن کہیں نہ ملا،بیٹے کی جدائی پر اس کی والدہ غم سے نڈھال ہوگئی ۔ میں حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے ابو محفوظ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! میرابیٹا لاپتہ ہوگیا ہے ۔اس کی والدہ بیٹے کی جدائی میں غم سے ہَلکان ہوئی جارہی ہے۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اب تم کیا چاہتے ہو؟”میں نے کہا : ”حضور! دعا فرمائیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے بیٹے کو ہم سے ملوادے ۔ یہ سن کر ولئ کامل، مقبولِ بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ، حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اوراس طرح التجا کی :
”اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ!بے شک تمام آسمان تیرے ہیں، زمین تیری ہے اورجو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کا مالک وخالق توہی ہے ۔ میرے مالک! ان کا بچہ انہیں لوٹا دے۔”
حضرت سیِّدُنا خلیل صیّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد کہتے ہیں: پھر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اجازت سے شہر کے دروازے پر آیا تو اپنے بیٹے کو وہاں موجود پایا اس کا سانس پھول رہا تھا ۔ میں نے جب اپنے بیٹے کو دیکھاتو فرطِ محبت سے پکار ا: ”اے محمد!اے میرے بیٹے!”میری آواز سن کر وہ میری طرف لپکا۔ میں نے اسے سینے سے لگا کرپوچھا:”میرے لختِ جگرتم کہاں تھے؟” کہا: ”ابا جان میں گندم کے کھیتوں میں مارا مارا پھر رہا تھاکہ اچانک یہاں پہنچ گیا۔” میں اپنے بچے کو لے کر خوشی خوشی گھرکی طرف چل دیا۔یہ سب حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی دعا کی برکت تھی کہ مجھے میرا بیٹا مل گیا۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ نیک لوگوں کی دعاؤں سے مصیبتیں کیسے ٹلتی اور غم دور ہوتے ہیں ۔اللہ کریم اپنے بندوں پر ہر آن کرم کی بارش برسارہا ہے جو چاہے اس بارانِ رحمت میں نہا لے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے اولیاء کرام

کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔اور ان کی برکت سے ہمارے مصائب وآلام دُور فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
؎ دعائے ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی