دَرخت اور پودے لگانے کی چند مزید اِحتیاطیں

دَرخت اور پودے لگانے کی چند مزید اِحتیاطیں

(ازشیخ الحدیث والتفسیر حضرت علّامہ مولانا اَلحاج مُفتی ابو صالح محمد قاسم قادری عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی )
(1 )مِلکِ غىر (ىعنى کسى دوسرے کی ملکیت والی زمىن ) مىں مالِک کى اِجازت کے بغیر پودے نہ لگائے جائیں ۔ بابُ المدینہ(کراچی ) میں خالی پلاٹوں کی تعداد اگرچہ

کم ہے مگر اس کے علاوہ پاکستان بھر میں بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ جہاں خالی پلاٹ بہت بڑى تعداد مىں مل جاتے ہىں اور وہ اکثر و بىشتر لوگوں کى ملکىت میں ہوتے ہىں لہٰذا اگر کسی ایسی جگہ پر کوئی پودا لگانا ہو تو پہلے اُس کے مالِک سے اِجازت لینا ضَروری ہے ، کیونکہ دوسرے کی ملکیت میں بغیر اُس کی جازت کے تَصَرُّف کرنے کی شرعاً اِجازت نہیں ہے ۔ دوسرے کی زمین میں بغیر اُس کی اِجازت کے پودا لگانا تو دُور کی بات ہے کسى مسلمان کى زَرخىز زمىن سے اس کی اِجازت کے بغىر گزرنا بھی جائز نہىں کہ گزرنے والے پودوں کو روندتے اور اِدھر اُدھر ہاتھ مار کر انہیں توڑتے ہوئے گزریں گے جس سے مالِک کا نُقصان ہو گا ۔ اَلبتہ اگر کسی شخص کی زمین میں عام گزر گاہ بنی ہوئی ہے اور وہاں سے گزرنے کا عُرف ہے تو اس صورت میں وہاں سے گزر نے میں حَرج نہیں ۔
(2 ) کسی کی زمین خالی پڑی دیکھ کر اُس کا بَھلا کرتے ہوئے بغیر اُس کی اِجازت کے اس میں دَرخت نہ لگا دیا جائے ، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو بَھلا سمجھا جا رہا ہے وہ بعد میں اُس کے لیے مصیبت کا باعِث بن جائے مثلاً اگر کسى شخص نے اپنى زمىن مکان تعمیر کرنے کے لیے خالی رکھى ہوئى ہے اور کوئی وہاں دَرخت لگا دے تو چار پانچ سال بعد جب وہ مکان تعمىر کرنے کے لیے وہاں پہنچے گا تو اُس کے لیے ان دَرختوں کو اُکھیڑنا بہت بڑی مصیبت بن جائے گا کیونکہ اتنے عرصے میں دَرخت کی جڑیں دُور دُور تک زمین کی گہرائی میں جا چکی ہوتی ہیں ۔

لہٰذا کسی دوسرے کی زمین میں دَرخت اور پودے لگانے کے لیے اُس سے اِجازت لینا ضَروری ہے ۔
(3 )اپنے گھر مىں پودا لگاتے وقت بھى اِس بات کا خىال رکھنا ضَرورى ہے کہ ہمارا یہ پودا دَرخت بن کر دوسروں کى تکلىف کا باعِث نہ بنے ۔ عموماً پودے لگاتے ہوئے دُرست جگہ کا اِنتخاب نہیں کیا جاتا اور پھر جب پودے بڑے ہو کر دَرخت کی صورت اِختیار کر لیتے ہیں تو اُن کی شاخیں دائیں بائیں پھیل کر پڑوسیوں کے گھروں کا کچھ حصہ بھی گھیر لیتی ہیں اور پھر ان دَرختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھنے والے پرندے جب بیٹیں کرتے ہیں تو گھر میں گندگی ہونے کے باعِث انہیں خوب تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا اپنے گھر مىں بھى پودے لگاتے وقت اِس بات کا ضَرور خىال رکھیے کہ یہ پودے دوسروں کى تکلىف کا باعِث نہ بنیں ۔
(4 )ایسے پودے لگائے جائیں جو ماحول کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں کیونکہ بعض پودے ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوتے ہیں مثلاً بعض پودے بہت تیزی سے زمىن کا پانى جَذب کرتے ہىں جس کى وجہ سے زیرِ زمىن پانی کی سطح بہت نىچے چلی جاتی ہے ، اب اگر اُن علاقوں میں کثرت سے اِس طرح کے پودے لگا دئیے جائیں کہ جہاں لوگوں کا اِنحصار صِرف زمىن کے پانى پر ہوتا ہے اور انہیں کسى دَرىاىا نہر وغیرہ سے پانى نہىں مل پاتا تویہ پودے اُن کے لیے

بہت بڑی پریشانی کا سبب بن جائیں گے ۔ اِسی طرح بعض پودے خاص قسم کى بُو چھوڑتے ہىں جسے عام طور پر پسند نہىں کیا جاتا اور وہ لوگوں کے لیے تکلىف کا باعِث بنتى ہے لہٰذا اِس طرح کے پودے بھی ہرگز نہ لگائے جائیں ۔ یوں ہی بعض علاقوں میں بہت سے ایسے دَرخت موجود ہیں کہ جن سے موسمِ خزاں یا موسمِ سَرما کی اِبتدا میں رُوئی اُڑتی ہے جس کے ذَرّات ہوا میں اِس قدر پھیل جاتے ہیں کہ دَمے کے مریضوں کے لیے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اُن دِنوں میں بعض لوگوں کو اپنا شہر تک چھوڑنا پڑتا ہے لہٰذا ایسے دَرخت لگانے سے بھی اِجتناب کیا جائے ۔
(5 ) کانٹے دار پودے لگانے سے بھی بچا جائے کیونکہ انہیں گھر میں لگانے کی صورت میں بچوں اور گھر کے دِیگر اَفراد کو تکلیف پہنچ سکتی ہے ۔ نیز اگر یہ پودے بڑھ کر دَرخت کی صورت اِختیار کر گئے اور اُن کی شاخیں پھیل کر پڑوسیوں کے گھروں تک پہنچ گئیں تو انہیں بھی تکلیف کاسامنا کرنا پڑے گا لہٰذا اگر ایسے پودے کچھ خاص اِحتیاطوں کے ساتھ لگائے جاتے ہوں تو ان اِحتیاطوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انہیں لگایا جائے یا پھر انہیں لگانے سے ہی اِجتناب کیا جائے ۔
(6 )بعض لوگ گھر کی باہری دىوار کے ساتھ کىارى بناتے اور اس مىں پودے لگاتے ہىں ۔ بعض صورتوں میں اِس طرح کی کیاریاں بنانا منع ہے مثلاً گھر کے سامنے والی گلی یا سڑک پہلے ہی اتنی تنگ ہے کہ وہاں سے صرف ایک ہی گاڑی

مشکل سے گزر پاتی ہے تو اب اگر گلی یا سڑک کے کچھ حصے پر قبضہ کر کے اُسے کیاری بنا دیا جائے تو پہلے تنگی سے گزرنی والی گاڑیاں مزید تنگی سے گزریں گی لہٰذا اس طرح کی کیاریاں بنانے اور اُن میں پودے لگانے سے بچنا لازم ہے ۔ گلیاں اور سڑکیں لوگوں کے چلنے اور ان کى سواریاں گزرنے کے لىے ہوتى ہیں جبکہ دَرخت لگانا اىک ضمنى چىز ہے اور ضمنى چىزسے اِس طرح فائدہ اُٹھایا جائے کہ وہ کسی چیز کے مقصودِ اصلی مىں رُکاوٹ نہ بنے ۔
(7 )بہت سے لوگ پودے تو لگا دیتے ہیں مگر اُن کی دیکھ بھال نہیں کرتے حالانکہ بسااوقات اُن کی دیکھ بھال کرنا انہیں لگانے سے زیادہ ضَروری ہوتا ہے مثلاً بڑے شہروں میں دو سڑکوں کے دَرمیان موجود خالی جگہ میں سرکاری اِدارے گھاس اور پودے لگاتے ہیں اور اُن کی دیکھ بھال کرنا بھول جاتے ہیں حالانکہ اُن کی دیکھ بھال کرنا انہیں لگانے سے زیادہ ضَروری ہے کیونکہ اگر ان پودوں کی دیکھ بھال نہیں کی جائے گی تو یہ پودے بڑھ کر دَرخت کی صورت اِختیار کر لیں گے اور پھر ان کی شاخیں بڑھ کر آدھی سڑک تک پہنچ کر نیچے لٹکنے لگیں گی جس کے سبب بڑی گاڑیوں کا وہاں سے گزرنا مشکل ہو جائے گا اور وہ شاخوں سے ٹکراتی ہوئی گزریں گی، اگر موٹر سائیکل سُوار وہاں سے گزرے گا تو اُس کا چہرہ زخمی ہونے کا بھی اَندیشہ ہے لہٰذا پودے لگانے کے ساتھ ساتھ اُن کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرنا بھی ضَروری ہے ۔

(8 )یوں ہی وَقف کی جگہوں میں دَرخت اور پودے لگانے میں اِحتیاط کی حاجت ہے ۔ وَقف کی جگہوں میں سے ایک جگہ مسجد بھی ہے ، اگر کسی نے مسجد بننے سے پہلے ہی مسجد کی جگہ میں دَرخت لگا دئیے تو کوئی حَرج نہیں کہ وَقف ہونے سے پہلے لگائے گئے ہیں، اَلبتہ جب وہ جگہ مسجد کے لیے وَقف ہو چکی تو اب اُس میں دَرخت لگانا منع ہے ۔ چھوٹى مساجد جہاں جگہ کى تنگى ہوتى ہے وہاں اِس طرح دَرخت لگانے کى اِجازت نہیں ۔
(9 )اِسی طرح مَدارس میں بھی دَرخت لگانے میں اِحتیاط کی حاجت ہے ، کیونکہ مدارس کا مقصد ِ اصلی شجر کاری نہیں بلکہ عُلُومِ دِینیہ کی تعلیم ہے ۔ اَلبتہ ضمنی طور پر فَوائد حاصِل کرنے کے لیے وہاں دَرخت لگائے جا سکتے ہیں مثلاً طلبا کمروں میں بىٹھ کر پڑھتے ہىں تو انہیں گرمى سے بچنے کے لیے پنکھا اور روشنی حاصِل کرنے کے لیے بتیاں جلانا پڑتی ہیں لہٰذا اگر مدرسے میں خالی جگہ موجود ہے تو وہاں اس مقصد سے دَرخت لگائے جا سکتے ہیں کہ دوپہر کے وقت دَرختوں کے سائے میں بیٹھ کر طلبا کے لیے پڑھنا ممکن ہو جائے ۔ اس مىں بھى اس بات کا خىال رکھا جائے کہ دَرخت لگانے کى وجہ سے مدرسے کے مقصدِ اصلی(یعنی تعلیم اور اس کے علاوہ اخراجات ) مىں حَرج واقع نہ ہومثلاً مدرسے مىں کمرے بنانے کى حاجت ہے اور وہاں کمرے بنانے کے بجائے دَرخت لگا دئیے جائیں تو اَصل مقصد پىچھے رہ جائے گا اور جو ضمنى اور غىر ضَروری چیز ہے وہ فوقىت لے جائے

گی لہٰذا اس طرح کی صورتوں میں مَدارس میں دَرخت لگانے کی اِجازت نہیں ۔
خُلاصہ یہ ہے کہ نىکى کا کام ضَرور کىا جائے مگر اُسے اِس اَنداز مىں کىا جائے کہ وہ دوسروں کے لىے تکلىف، زحمت اور پرىشانى کا باعِث نہ بنے ۔ بہت سى نىکىاں اىسى ہوتى ہىں کہ ان کى فضىلت، اَہمىت اور تَرغىب کے پىشِ نظر انہیں کیا جاتا ہے مگر بے اِحتیاطی کے ساتھ اُن نیکیوں کو کرنے کے سبب مسلمان تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کے باعِث اُن کا نیکی والا پہلو پیچھے رہ جاتا ہے اور گناہ والا پہلو آگے بڑھ جاتا ہے لہٰذا نیکیاں کرتے ہوئے اُن کی احتیاطوں کو پیشِ نظر رکھنا ضَروری ہے ۔
دُعائے عطّار
یااللہ پاک! تجھے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور حضرتِ سَیِّدُنا سَلمان فارِسیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اُس مُبارَک باغ کا واسِطہ جس میں میرے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دَرخت لگائے ، جو کوئی کم از کم 12 پودے لگائے یا کسی کو اِس کی تَرغیب دِلائے اس کو اس وقت تک موت نہ آئے جب تک وہ خواب میں تیرے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا دِیدار نہ کر لے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم (1)
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم