درد بھری حقیقت

حکایت نمبر472: د رد بھری حقیقت

احمد بن صَبَّاح طَبَرِی کابیان ہے کہ مجھے میرے والدنے بتایا: ”خلیفہ ہارُون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدجب خُرَاسَان کی طرف جانے لگے تومیں انہیں الوداع کہنے گیا۔ خلیفہ نے مجھ سے کہا: ”اے صباح! میرا گمان ہے کہ اس کے بعدتم مجھے کبھی نہ دیکھ سکوگے ۔” میں نے کہا:”اے امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کواپنی پناہ میں رکھے!یہ آپ کیاکہہ رہے ہیں؟”بخدا!مجھے اُمیدہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کوامتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خیرخواہی کے لئے لمبی عمرعطافرمائے گا۔”خلیفہ نے مسکراتے ہوئے کہا: ”اے صباح! بخدا!میں مرنے کے بہت قریب ہوں۔”میں نے کہا:”اے امیرالمؤمنین!اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے ، ابھی تو آپ کاجسم طاقتور ومضبوط اور چہرہ صحیح و سالم ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کوان بادشاہوں سے بھی لمبی عمرعطافرمائے جوزمانۂ درازتک دنیاپرحکومت کرگئے اورآپ کوایسی کامیابی وکامرانی عطا فرمائے جیسی حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرنَیْن علیہ رحمۃرَبِّ الکونین کوعطافرمائی تھی۔ اللہ کرے آپ کبھی اپنی رعایامیں کوئی بہت بڑی خرابی نہ دیکھیں۔”
یہ سن کرخلیفہ نے اپنے پیچھے آنے والے امراء ووزراء کوایک طرف جانے کاحکم دیا،پھرراستے سے ہٹ کرایک در خت کے پاس آئے اور فرمایا:”آج میں ایک رازتجھ پرظاہرکرناچاہتاہوں،یہ رازتمہارے پاس امانت ہے، اسے چھپا ئے رکھنا۔”میں نے کہا: ”اے میرے سردار!آپ اپنے بھائی سے مخاطب ہیں، جوچاہیں ارشادفرمائیں۔”خلیفہ نے اپنے شِکَم (یعنی پیٹ) سے کپڑا ہٹایا تواس پر زخموں کے نشانات تھے، جن پرپٹی بندھی ہوئی تھی،پھر مجھے کہا: ”کیاتم جانتے ہوکہ مجھے یہ مرض کب سے ہے ؟”میں نے کہا: ”نہیں۔”

کہا: ”مجھے یہ بیماری کافی عرصہ سے ہے، جسے میں نے تمام لوگوں سے چھپائے رکھاسوائے بَخْتَیَشُوْع، مسرور اور رَجَاء کے ۔ بہرحال بَخْتَیَشُوْع میرے بیٹے مامون کا مخبرہے، اس سے رازکا چھپنا ممکن نہیں۔ اسی طرح مسرورنے میری بیماری کی خبر میرے بیٹے امین کو دے دی ہے اوران میں سے کوئی ایسانہیں جس کامخبروجاسوس مجھ پرمتعین نہ ہو۔ میرے عزیزبیٹوں کی یہ حالت ہے کہ وہ میرے سانسوں کوشمارکررہے ہیں کہ دیکھو یہ کب انتقال کرتاہے۔ان لوگوں کی خواہش ہے کہ میری بیماری میں اضافہ ہو،مجھے اس بات کا اندازہ اس طرح ہواہے کہ جب بھی میں نے ان سے تواناوقوی ہیکل اورمضبوط عجمی گھوڑاطلب کیاتوانہوں نے مجھے ضعیف وناتواں گھوڑا دیاتاکہ بیماری مزید بڑ ھے ۔مجھے سب کچھ معلوم ہے لیکن میں اپنارازان کے سامنے ظاہرنہیں کرناچاہتاکیونکہ اس طرح وہ مجھ سے وحشت محسوس کر نے لگیں گے۔اورجب وحشت ہوگی توان کے سینوں میں چُھپی عداوت ظاہرہوجائے گی۔خاص لوگ ان کی طرف مائل ہوجائیں گے ا ورعام لوگ ان سے امید لگا لیں گے ۔اورمیں ان کے درمیان ایساہی ہوں گاجیسے کوئی شخص دشمنوں کے درمیان خوفزدہ ہوتا ہے۔ میری صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ مجھے شام تک زندہ رہنے کی امیدنہیں رہتی اورشام کو صبح کی اُمید نہیں ہوتی۔”
خلیفہ کی حسرت بھری پُر درد کیفیت وحقیقت جان کرمیں نے کہا:”حضور!ان کی اس حرکت کابہترین جواب دیاجا سکتا ہے لیکن میں تویہی کہتاہوں کہ جوشخص آپ کے ساتھ مکروفریب کریگااللہ تعالیٰ اسے اسی کے مکروفریب میں پھنسادے گا۔” خلیفہ نے کہا: ”تیری یہ پکاراللہ عَزَّوَجَلَّ سن رہا ہے۔اب تُوواپس پلٹ جا،تیرے ذمہ بغداد میں اور بھی بہت سے کام ہیں ۔” پس میں نے خلیفہ کوالوداع کہا اور واپس لوٹ آیا۔یہ واقعہ ان کی وفات کے قریب کاہے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)