وجوبی تخفیف کے قواعد

قاعدہ (۱):
  اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ما قبل حرف کی حرکت کے مطابق حرف علت سے بدلنا واجب ہے ۔ جیسے: اَاْمَنَ سے اٰمَنَ، اُئْمِنَ سے اُوْمِنَ اور اِئْمَانٌ سے اِیْمَانٌ۔
قاعدہ (۲):
  اگر دو ہمزہ ایک ساتھ آجائیں اور ان میں سے ایک مکسور ہو تو دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلنا واجب ہے ۔جیسے:جَآءٍ اصل میں (جَاءِیٌ) تھا ”ی”الف زائدہ کے بعد واقع ہوئی تو اسے ہمزہ سے بدل دیا۔ جَآءِ ءٌ ہوگیا ،اب دوہمزہ ایک ساتھ آئے جن میں ایک مکسور تھا لہذا دوسرے ہمزہ کو ”ی”سے بدل دیا۔ (جَآءِیٌ)ہوگیا ، اب ”ی”پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے (ی)کو ساکن کردیا تو جَآءِ یْنْ ہوگیا ،پھر اجتماع ساکنین کے سبب (ی)کو گرادیا ؛ لہذا (جَآءٍ)ہوگیا۔
قاعدہ (۳):
  جب دو ہمزہ ایک ساتھ آئیں اور دوسرا ہمزہ وصلیہ اور مفتوحہ ہو تو اسے الف
سے بدلنا واجب ہے ۔ جیسے: ءَ اَلْحَسَنُ سے اٰلْحَسَنُ، اور ءَ اَلاٰنَ سے اٰلْاٰنَ۔
قاعدہ (۴):
  جب دو ہمزہ ایک ساتھ آجائیں اور ان میں سے پہلا ساکن ہو تو دوسرے ہمزہ کو (ی)سے بدلنا واجب ہے ۔ جیسے: قِرَئْءٌ سے قِرَئْیٌ۔
قاعدہ (۵):
  ا گر دو ہمزہ اکھٹے آجائیں اوران میں سے کوئی بھی مکسور یا ساکن نہ ہو اور نہ ہی پہلا ہمزہ متکلم کا ہو تو دوسرے ہمزہ کو واؤ سے بدلنا واجب ہے ۔جیسے: اَءَ ادِمُ سے اَوَادِمُ اور اَءَ ادِبُ سے اَوَادِبُ۔
قاعدہ (۶):
  اگر ہمزہ مَفَاعِلُ کے الف کے بعداور یاء سے پہلے واقع ہو تو اسے یاء مفتوحہ سے بدلتے ہیں۔جیسے:خَطَایَا اصل میں خَطَایِءُ تھا ؛ یاء الف جمع کے بعد اور ہمزہ سے ماقبل واقع ہوئی اسے ہمزہ سے بدلاتوخَطَاءِءُ ہوگیا ، دو ہمزہ جمع ہوگئے اور ان میں سے ایک مکسور تھا، لہذا دوسرے کو (ی)سے بدل دیاتو خَطَائِی ُہوگیا ،اب مذکورہ قاعدے کے مطابق ہمزہ کو (ی)مفتوحہ سے بدلا خَطَایَیُ ہواپھر دوسری (ی)کو الف سے بدلاتوخَطَایَا ہوگیا ۔
تنبیہ:
  (۱)۔۔۔۔۔۔کُلْ، خُذْ اور مُرْ اصل میں اُءْ کُلْ، اُءْ خُذْ اور اُءْ ُمرْ تھے ،قا عد ہ نمبر ۱ کے مطابق اُوْکُلْ، اُوْخُذْ اور اُوْمُرْ ہونا چاہیے تھا ،لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے  دوسرے ہمزہ کو گرادیا ، پھر ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہ رہی ؛ لہذا اسے بھی گرا دیا تویہ کُلْ ، خُذ اور مُرْ ہو گئے ۔
  (۲)۔۔۔۔۔۔ مُرْ اگر درمیان کلام میں واقع ہو تو اس کے دوسرے ہمزہ کو باقی رکھا جائے گا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا: ” وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ” اوراگر ابتداء کلا م میں ہو تو دونوں ہمزہ گر جائیں گے۔ جیسا کہ سرکار عالی وقار ،حبیب پرودگار علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ صلواۃ اﷲالغفار کافرمان رحمت بار ہے : ” مُرُوْا صِبْیَانَکُمْ بِالصَّلٰوۃِ”۔