شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کے ننھیالی جد اعلیٰ

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کے ننھیالی جد اعلیٰ 

حضرت سید احمد کبیر رفاعی الحسینی قدس سرہٗ

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ کا ننھیالی سلسلہ واقف اسرارطریقت، حامل علوم ِشریعت، مالک گنجینہ ء معارف، غریق دریائے عوارف، ولی کامل، عارف واصل، شیخناالمعظم، حضرت محی الدین ابوالعباس سید احمدکبیر رفاعی الحسینی الشافعی قدس سرہٗ العزیز پر منتہی ہوتا ہے۔ یہ مناسب خیال کرتے ہوئے حضرت سیداحمدکبیر رفاعیؒ کے مختصرحالات بھی شامل کردئیے جائیں اس لئے کہ ہندوستان میں اکثر لوگ آپ کے حالات اور خاندان رفاعیہ کے بانی کی سوانح حیات سے بہت کم واقف ہیں ۔
آپ کانام مبارک سید احمد کبیر تھا ابوالعباس کنیت اور محی الدین لقب تھا چونکہ آپ کے اجد اد میں ایک صاحب کانام ’’رفاعہ‘‘ تھا ان کی طرف نسبت ہونے کی وجہ سے رفاعی مشہور ہیں او رنسباً شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں اسی وجہ سے حسینی کہلاتے ہیں اور چونکہ مسائل فقہیہ میں آپ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے پابندتھے ، اس وجہ سے شافعی کہلاتے ہیں آپ ۱۵؍رجب المرجب ۵۱۲ھ؁ کو مقام حسن میں پیدا ہوئے جو ام عبیدہ کے قریب نواح واسطہ میں واقع ہے آپ کے زمانہ ولادت میں خلفاء عباسین میں خلیفۃ المسلمین مسترؔشدباللہ سریر آراء خلافت تھے ، آپ کا سلسلہ نسب عارف باللہ علامہ ابومحمدضیاء الدین احمدوتری موصلی نے اپنی کتاب ’’روضۃ الناظرین‘‘ میں یوں بیان کیا ہے۔ 
سیدنا حضرت سید احمد کبیر ابن علی سید حسن رفاعہ الہاشمی المکی مقیم اشبیلی بن سید مہدی بن سید ابوالقاسم محمدبن سیدحسن ابوموسیٰ بغدادی مقیم مکہ مکرمہ بن سید حسن رضی بن سید احمد اکبرصالح بن سید موسیٰ ثانی جن کی کنیت ابوسجہ اور بوالحی بھی مشہور تھی ابن سید ابراہیم مرتضی بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفرصادق بن امام محمدباقربن امام زین العابدین بن امام حسین شہیدکربلا بن امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ 
حضرت سید احمد کبیر رفاعیؒ کی پیدائش سے قبل ہی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ماموں شیخ وقت حضرت باز اشہب منصور بطائحی نور اللہ مرقدہٗ کو آپ کی پیدائش کی بشارت سنادی تھی پیدائش سے چالیس دن پہلے ایک رات شیخ منصورنے سرکار دوعالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اے منصور چالیس دن کے بعد تیری بہن کے ہا ں ایک لڑکا پیدا ہوگا اس کا نام احمدرکھنا ، اولیاء کرام میں وہ ایسا ہی سردار ہو گا جس طرح کہ میں انبیاء کا سردارہوں او رجب وہ ہوشیار ہوجائے تو تعلیم کے واسطے شیخ علی قاری واسطی کے پاس بھیج دینا اور اس کی تربیت 
سے غفلت نہ برتنا، اس خواب کے پورے چالیس دن بعدآپ مقام حسن میں پیدا ہوئے اور سات سال تک وہیں اپنے شفیق والدین کے سایہ عاطفت میں گذارے آپ کی عمر مبارک کا ساتواں سال تھا کہ آپ کے والدماجد حضرت سید علی نوراللہ مرقدہٗ کسی ضرورت سے بغداد کی طرف سفر میں گئے اسی سفر میں بغداد میں انتقال ہوگیا ۔ 
شفیق باپ کے وصال کے بعد بظاہر آپ کی تعلیم وتربیت کا کوئی سہارا نہ تھا اس وجہ سے آپ کے ماموں حضرت بازالاشہب شیخ منصور بطائحی قدس سرہٗ نے آپ کو معہ آپ کی والدہ محترمہ کے اپنے پاس بلالیا او رسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے موافق تعلیم وتربیت کی طرف پوری توجہ کی قرآن پاک تو آپ نے مقام حسن میں ہی شیخ عبدالسمیع الحربونی کے پاس حفظ کرلیا تھا ، کچھ دن کے بعد حضرت شیخ منصور نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے موافق واسطہ میںزبدۃ العلماء شیخ علی ابوالفضل قاری واسطی کی خدمت میں تحصیل علم کے واسطے آپ کو بھیجد یا شیخ علی واسطی نے بھی آپ کی تعلیم وتربیت میں خاص توجہ سے سعی کی ۔ 
حضرت سید احمدکبیر رفاعی قدس اللہ سرہٗ میں بچپن سے ہی صلاحیت وسعادت مندی او رزہد واتقا کے آثار پائے جاتے تھے بقول شیخ سعدی علیہ الرحمہ  
بالائے سرش ز ہوش مندی 
می تافت ستارہ بلندی
چنانچہ آپ کی محترمہ ہمشیرہ سید ہ صالحہ جو نہایت عابدہ زاہدہ او رپر ہیزگار خاتون تھیں وہ فرماتی ہیں کہ سید صاحب جس وقت شیرخوار تھے تو رمضان کے مہینے میں کبھی دن میں دودھ نہ پیتے تھے چنانچہ اول اول تو یہ خیال کیا کہ شاید اس مرضعہ( دودھ پلانے والی )کا دودھ نہ پیا ہودوسری عورت کو دیا آپ نے اس کا بھی نہ پیا اسی طرح چند عورتوں نے دودھ پلانے کی کوشش کی مگر آپ نے کسی کا بھی دودھ نہ پیاہاں مغرب کے بعد آپ دودھ پیتے تھے۔جب ذرا ہوشیار ہوئے تو کھیل کود کی طر ف آپ کو بالکل توجہ نہ تھی اسی سبب سے بہت تھوڑی مدت میں قرآن مجید حفظ کرلیا اور جب آپ تحصیل علم کے لئے واسطہ گئے تو وہاں بھی ایسی محنت او رتوجہ سے پڑھا کہ بیس سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ یعنی حدیث شریف ، تفسیر ، فقہ معانی ،منطق ، فلسفہ وغیرہ غرض تمام فنون مروجہ کی تکمیل کرلی اور آپ کے استاد محترم نے آپ کو حدیث شریف اور دیگر علوم کی سند او راجازت عطا ء کی آپ شیخ علی واسطی کے علاوہ حضرت شیخ ابوبکر واسطی او رشیخ عبدالملک الحربونی کے درس میں بھی شریک ہوتے تھے جو اس زمانہ کے علماء میں نہایت باکمال مشہور تھے اور اپنے علم وفضل کی وجہ سے مرجع خلائق تھے ، غرض جب حضرت سید صاحب نوراللہ مرقدہٗ نے علوم دینیہ کی تکمیل کرلی اور آپ کے اساتذہ نے سند او راجازت عطا کی تو آپ نے بھی وہاں سلسلہ تدریس شروع کردیا اور ساتھ ہی اپنے ماموں صاحب شیخ بازالاشہب منصور بطائحی قدس سرہٗ سے علوم باطنیہ کی تحصیل بھی شروع کردی لطف خداندی او رمناسبت طبعی کی وجہ سے آپ نے اس فن شریف یعنی علوم باطنیہ میں بھی بہت جلد کمال حاصل کرلیا ، ادھر تو علوم ظاہر ی میں آپ کی خداداد قابلیت او ذکاوت کی وجہ سے آپ کا شہر ہ ہو ا اور بڑے بڑے علماء وفضلاء آپ کے درس میں 
استفادہ کے لئے حاضر ہونے لگے اور ادھر جب آپ نے نصاب طریقت اور سلوک ومعرفت کے مدارج عالیہ کو طے کرلیا اور آپ کے زہدواتقا اورپارسائی کا خاص وعام میں شہرہ ہوگیا، اورآپ کے ماموں صاحب نے خرقہء سجادگی پہنا کر خانقاہ ام عبیدہ میں آپ کو بلالیا تاکہ آپ وہاں رہ کر لوگوں کو ہدایت ورہنمائی کریں اور اپنے علوم ظاہر ی وباطنی سے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں پھر تو آپ سے استفادہ کیلئے خلق اللہ ٹوٹ پڑی او رخانقاہ ام عبیدہ میں سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں علماء وفقراء تحصیل علم او رتزکیہ باطن کے واسطے رہنے لگے ، خانقاہ مبارک میں جتنے آدمی رہتے تھے سب کے کھانے پینے کا انتظام آپ ہی کی طرف سے ہوتا تھا تاکہ سالکین او رطلباء فراغ قلب او راطمینان سے حصولِ مقصد میں لگے رہیں اور فکرِ معاش میں مبتلاہو کر ذکرِخدا وندی سے غافل نہ ہوں ، بعض مستند اور ثقہ اہل علم بیان کرتے ہیں کہ بعض ایام میں ہم نے دیکھا کہ دس ہزار آدمیوں کا مجمع خانقاہ میں تھااو رسب کی مہمانی آپ کے لنگر خانہ سے ہوتی تھی علامہ ابن جوزی رحمہٗ اللہ فرماتے ہیںکہ ایک مرتبہ میں آپ کی خدمت اقدس میں ۱۵؍ شعبان کو حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ اس دن خانقاہ ام عبیدہ میں تقریباً ایک لاکھ انسان جمع تھے اور سب کے قیام و طعام کا انتظام سید صاحب کی جانب سے تھا۔ آپ کے اخلاق وعاد ات اور تمام وکمال اخلاق محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ تھے۔ عجزو انکسار، تواضع و مسکینیت آپ میں حدسے زیاد ہ تھی چنانچہ آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے سلوک ومعرفت کے سب طریقوں کو دیکھا او رغور کیا لیکن تواضع اور انکسار سے بہتر کوئی طریقہ نظرنہ آیا اس واسطے میں نے اسی کو اپنے واسطے پسندکیا۔ اتباع سنت کے آپ خود بھی بہت پابند تھے اور خدام کو بھی تاکید فرماتے تھے ، دنیا کمانے والے مکار صوفی منش لوگوں نے جو باتیں خلاف شرع ایجاد کر رکھی تھیں آپ ہمیشہ ان کو مٹانے کی کوشش فرماتے اور ایسے لوگوں سے نفرت کرتے تھے ، لباس اور طعام میں سادگی کو پسند فرماتے تھے دنیا وی تکلفات اورسامان تعیش سے نفرت تھی ، طبیعت میں شرم وحیا بہت غالب تھی حتٰی کہ عادت مبارک یہ ہوگئی تھی کہ پہنے ہوئے کپٹرے جب میلے ہوجاتے تو آپ دریا میں اترکر بدن پر ہی کپڑوں کو مل کر صاف کرلیتے اور پھر دھوپ میں کھڑے رہتے ۔
ابتداً آپ پر عالمانہ کیفیت کا غلبہ تھا او رتعلیم وتعلم ہی آپ کا مشغلہ تھا مگر اس کے ساتھ آپ اپنے ماموں شیخ منصوربطائحیؒ سے تصوف اور معرفت کی تحصیل بھی کرتے تھے تھوڑے ہی عرصہ میں عرفان وسلوک کے مدارج عالیہ کو طے کر کے عارف کامل بن گئے اور حضرت شیخ منصور بطائحی نے ۵۳۹؁ھ میں اپنے انتقال سے ایک سال پہلے خلافت عطا کر کے خرقہ پہنا دیا اورخانقاہ ام عبیدہ میں آپ کو اپنا جانشین بنادیا او رمشائخ وسالکین واسطہ اروق اور بصرہ وغیرہ کو آپ نے ہدایت کی کہ آئندہ وہ حضرت سید احمدرفاعی قدس سرہٗ سے رجوع کریں اور انہیں کو اپنا شیخ سمجھ کر استفادہ کریں اس سے ایک سال بعد ۵۴۰؁ھ میں جب شیخ منصور کا وصال ہو ا ہے تو آپ کی عمر ۲۸؍سال تھی ، اس کے بعد آپ کے فضل وکمال، اتقا وریاضت کا اس قدر شہرہ ہواکہ دور دور سے لوگ رشدوہدایت کی تلاش میں آپ کی خدمت میں آتے او رآپ کے حلقہء عقید ت میں شامل ہوکر کامیاب اور بامراد جاتے۔ 
علامہ شیخ بن مہذب اپنی کتاب ’’عجائب واسطہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ آپ کی آخرعمر میں آپ کے خلفاء کی تعداد اسی ہزار ایک سوتھی ، عراق کا کوئی شہر ایسانہ تھا جہاں آپ کے دوچار خلیفہ نہ ہو ں ، اورعقیدت مند مریدوں کا تو کوئی شمار نہ تھا آپ کے بعض خلفا اور مشائخ نے اور ان کے بعد بھی بہت سے بزرگوں نے آپ کے حالات ومناقب میں متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بعض کا ہم تذکرہ کرتے ہیں ، ربیع العاشقین ، تریاق المحبین نفحۃ المسکیہ، ام البراہین، شفاء الاسقام ، روضۃ الناظرین وغیرہ ان میں سے بعض کتابیں کمیاب ہیں اور بعض مصروشام میں کثرت سے ملتی ہیں مگر ہندوستان میں کم۔ اگرچہ آپ علوم شریعت وطریقت میں کامل وماہر تھے او رشانِ علمیت کا غلبہ بھی تھا لیکن تصنیف وتالیف کی طرف خاص توجہ نہ تھی البتہ اکثر خاص مجالس میں اور کبھی مساجد میں وعظ فرماتے تھے یا روزمرہ کی گفتگومیں خلفاء کو نصائح فرماتے تھے تو آپ کی اجازت یا ایماسے آپ کے خدام اس کو قلبند کرلیتے اس طرح چند کتابیں آپ کی تصنیف سے مشہور اور موسوم ہیں جن کے نام یہ ہیں۔ مجالس الاحمدیہ، کتاب الحکم آثارا لمنافعہ الحکم الساطعہ، البرہان الموئید ۔ حقیقت یہ ہے کہ تقرب خداوندی میں آپ کو وہ مرتبہ عطاکیا گیا تھا جو کسی دوسرے ولی اللہ کو میسر نہ آیا ہوگا ، آپ علم ِشریعت وطریقت کے جامع تھے آپ سے بہت سی عجیب باتیں بطور کرامت صادر ہوئیں جن سے آپ کے علوئے مرتبت اور تقرب الہی کا حال معلوم ہوتا ہے سب سے زیادہ نادراو رمشہور کرامت آپ کی یہ ہے کہ جب آپ ۵۵۵؁ھ میں زیارت بیت اللہ کو تشریف لے گئے تو سرکار رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مقدس کی زیارت کے لئے بھی حاضر ہوئے ، گنبدخضرا کے قریب پہونچ کر آپ نے بآواز بلند کہا السلام علیک یا جدی فوراً روضۂ اطہرصلی اللہ علیہ وسلم سے نداآئی کہ وعلیک السلام یا ولدی اس نداء مبارک کو سن کر آپ پر وجدطاری ہوگیا آپ کے علاوہ جتنے آدمی وہاں موجود تھے سب نے آوازکو سناتھوڑی دیر کے بعد بحالت گریہ آپ نے یہ دوشعرپڑھے: 
فی حالۃ البعدروحی کنت ارسلھا
تقبل الارض عنی وھی نائبتی
جدائی (دوری )کی حالت میں تو اپنی روح کو روضہء مطہر صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجاتھا تاکہ میری طرف سے آپ کی آستانہ بوسی کا شرف حاصل کرلے۔ 
وھذہ دولۃ الاشبا  قد حضرت 
فامدد یمینک کی تحظی بھا شفتی
اور جبکہ یہ دولت دیدار مجھے اصالۃً حاصل ہے تو آپ مبارک ہاتھ دیجئے کہ میں اسے بوسہ دے کر عزت حاصل کروں۔ 
اس وقت روضہء مقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریباً نوے ہزار عاشقان جمال محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم ومشتاقانِ روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مجمع تھا جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا او رسرورکائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِمبارک کی زیارت سے مشرف ہوئے، انہیں میں حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانی نوراللہ مرقدہ او رحضرت شیخ عدی بن مسافرالاموئی ؒ اور حضرت شیخ عبدالرزاق حسینی واسطیؒ جیسے جلیل القدر بزرگ بھی تھے اس واقعہ کو اس کثر ت سے علماء نے بیان کیا ہے کہ اس میں غلطی کا احتمال نہیں ہے اس کہ علاوہ 
اور بھی آپ کی بہت سی عجیب کرامتیں ہیں جن کایہاں ذکر طوالت کا باعث ہوگا، اس واسطے صرف اسی واقعہ پر اکتفاکرتے ہیں اور حقیقت حال تویہ ہے کہ اس کے بعد کسی چیزکے ذکر کی حاجت بھی نہیں ہے ۔
آپ کی پہلی شادی حضرت شیخ ابوبکر بن لجی انصاری بخاری کی صاحبزادی سیدہ خدیجہ انصاریہ سے ہوئی جونہایت نیک طبیعت عبادت گذار خاتون تھیں ان کے  بطن سے دوصاحبزادیاں فاطمہ اور زینب پیدا ہوئیں پھر جب حضرت خدیجہ کا انتقال ہوگیا توآپ نے ان کی بہن حضرت رابعہ سے نکاح کیا او ران کے بطن سے ایک فرزند قطب الدین پیدا ہوئے جو سترہ سال کی عمرمیں لاولد اپنے شفیق باپ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے ، آپ کی صاحبزادیوں کی شادیاں آپ کے ہمجدچچازاد بھائی اور ہمشیرہ زادہ سے ہوئیں جن کے نام مہذب الدولہ علی بن سیف الدین اور ممہدالدولہ عبدالرحیم ہیں ان دونوں صاحبزادیوں سے آپ کا سلسلۂ نسب چلا اور آپ کی اولاد میں بڑے بڑے عالم وفاضل اور باکمال بزرگ ہوئے اگر چہ بعض لوگوں نے یہ لکھا ہے کہ آپ کے فرزندقطب الدین صالح نے ایک لڑکا چھوڑا تھا جس سے اولاد کا سلسلہ چلا مگر یہ قول صحیح نہیں ہے درست قول یہ ہے کہ آپ کے صاحبزادہ لاولد فوت ہوئے اور آپ کا سلسلہ ء نسب صاحبزادیوں سے ہی چلا۔ 
آپ نے ۶۶ سال کی عمر تک اس دارفانی میں رہ کر خلق اللہ کی خدمت کی اور ۵۷۸؁ھ میں آپ نے اس عالم فانی کو چھوڑکرعالم بقا کا سفر اختیار کیا ، نوراللہ مرقدہٗ ، آپ کی وفات کی خبر فرشتہء غیب نے اطراف ونواح ام عبیدہ میں مشہور کردی لوگ دوردور سے آپ کی آخری زیارت اور نمازجنازہ کی شرکت کیلئے ام عبیدہ میں جمع ہونے لگے بعض مورخین کا بیان ہے کہ آپ کی نمازجنازہ کے وقت تقریباً ۹لاکھ مرد عورت کا مجمع تھا بعد نمازآپ کی میت کو ام عبیدہ کی اسی خانقاہ میں سپرد خادک کیا جس میں آپ کے نانا صاحب کا مزار تھا ، عارف باللہ سیدسراج الدین رفاعی نے ایک شعر میں آپ کی ولادت اور وفات کی تاریخ اور عمرکی مقدار بھی لکھی ہے ۔
ولادتہ بشری وللہ عمرہ 
 ۵۱۲ ۶۶          
وجائت بشری اللہ بالقرب والزلقی
 ۵۷۸    
آپ کی ولادت خدا کی طرف سے بشارت تھی اور آپ کی عمراللہ کے واسطے تھی او رآپ کے تقرب الہیٰ کی بھی خدا کی طرف سے خوشخبری سے تاریخ ولادت نکلتی ہے اور لفظ اللہ (۶۶) کے عدد آپ کی عمر پر دلات کرتے ہیں اور بشری اللہ (۵۷۸) سے سنِ وفات معلوم ہوتا ہے ۔
Exit mobile version