اسم ظرف کا بیان

اسم ظرف کی تعریف:
   وہ اسم جو کسی کام کے و اقع ہونے کی جگہ یاوقت پر دلالت کرے ۔ جیسے مَضْرِبٌ (مارنے کی جگہ یا وقت)
اسم ظرف بنانے کاطریقہ:
  (۱)۔۔۔۔۔۔ فعل مضارع سے علامت مضارع حذف کرکے اس کی جگہ علامتِ اسم ظرف (میم مفتوح)کا اضافہ کریں، لام کلمہ پرتنوین لگائیں ،پھراگر:
   (ا لف)فعل مضارع مفتو ح العین ، مضموم العین یا ناقص ہو تو عین کلمہ کو فتحہ دیں گے ۔ جیسے یَجْمَعُ سے مَجْمَعٌ، یَنْصُرُسے مَنْصَرٌ اوریَدْعُوْسےمَدْعیً۔
  (ب)فعل مضارع مکسور العین یامثال یامضاعف مکسور العین ہو تو عین کلمہ کو کسرہ دیں گے۔جیسے: یَضْرِبُ سے مَضْرِبٌ، یَقِفُ سےمَوْقِفٌ، اوریَحِلُّ سے مَحِلٌّ۔
  بعض اہل صرف نے جوفرمایاہے کہ مضاعف سے اسم ظرف مطلقاًبروزن مَفْعَلٌ بفتح عین آتاہے ، اور دلیل یہ دی ہے کہ قرآن کریم میں لفظ”مَفَرٌّ”بفتح عین آیاہے، حالانکہ یہ باب ضَرَبَ سے ہے ”۔یہ صحیح نہیں؛ کیونکہ مَفَرٌّ اسم ظرف نہیں بلکہ مصدرہے۔
فائدہ:
  (۱)۔۔۔۔۔۔ثلاثی مجرد سے اسم ظرف دو وزن پر آتاہے۔(۱) مَفْعَل ٌاور(۲) مَفْعِلٌ۔
  (۲)۔۔۔۔۔۔کبھی شئی کی کثرت پردلالت کرنے کے لیے اسم ظرف مَفْعَلَۃٌکے وزن پر
بھی آتاہے۔جیسےمَکْتَبَۃٌ ( کثیر کتابوں کا مرکز )مَقْبَرَۃٌ(قبرستان)مَأسَدَۃٌ(شیرو ں کا اکھاڑا)
  (۳)۔۔۔۔۔۔غیر ثلاثی مجرد افعال سے اسم ظرف اسی طرح بنتاہے جس طرح ان سے اسم مفعول بنتا ہے۔
تنبیہ:
  درج ذیل بارہ مقامات ایسے ہیں جہاں مضارع مضموم العین سے اسم ظرف خلاف قیاس مکسور العین بھی آتا ہے ۔
مَسْجِدٌ سجدہ کرنے کی جگہ مَجْزِرٌ اونٹ ذبح کرنےکی جگہ
مَشْرِقٌ آفتاب نکلنے کی جگہ مَنْحِرٌ سانس نکلنے کی جگہ
مَغْرِبٌ سورج غروب ہو نے کی جگہ مَسْکِنٌ(۱) رہنے کی جگہ
مَنْسِکٌ قربان گاہ مَنْبِتٌ اگنے کی جگہ
مَسْقِطٌ گرنے کی جگہ مَفْرِقٌ مانگ
مَطْلِعٌ سورج طلوع ہونے کی جگہ مَرْفِقٌ کہنی رکھنے کی جگہ