سونے کے آداب

مستحب یہ ہے کہ باوضو سوئے اور بسم اﷲ پڑھ کر کچھ دیر داہنی کروٹ پر        اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی ۔
(جامع الترمذی،کتاب الدعوات،باب منہ (۲۸) رقم۳۴۲۸،ج۵،ص۲۶۳)
پڑھ کر داہنے ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر
سوئے پیٹ کے بل نہ لیٹے حدیث شریف میں ہے کہ اس طرح لیٹنے کو اﷲتعالیٰ پسند نہیں فرماتا ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثلا ثون فی المتفرقات،ج۵،ص۳۷۶)
اور پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹنا منع ہے جب کہ تہبند پہنے ہوئے ہو کیونکہ اس صورت میں ستر کھل جانے کا اندیشہ ہے۔
(جامع الترمذی،کتاب الادب،باب ماجاء فی فصاحۃ والبیان ،رقم۲۸۶۳،ج۴،ص۳۸۸)
ایسی چھت پر سونا منع ہے جس پر گرنے سے کوئی روک نہ ہو لڑکا جب دس برس کا ہو جائے تو اپنی ماں یا بہن وغیرہ کے ساتھ نہ سلایا جائے بلکہ اتنی عمر کا لڑکا لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بھی نہ سوئے۔     (بہارشریعت،ح۱۶،ص۷۱)
مسئلہ:۔دن کے ابتدائی حصہ اور مغرب و عشاء کے درمیان اور عصر کے بعد سونا مکروہ ہے۔
      (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثلا ثون،ج۵،ص۳۷۶)
مسئلہ:۔شمال کی طرف پاؤں پھیلا کر بلا شبہ سونا جائز ہے اس کو ناجائز سمجھنا غلطی ہے ہاں البتہ مغرب کی طرف پاؤں کرکے سونا یقیناً ناجائز ہے کہ اس میں قبلہ کی بے ادبی ہے۔
مسئلہ:۔رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب رات کی ابتدائی تاریکی آجائے تو بچوں کو گھر میں سمیٹ لو کہ اس وقت میں شیاطین ادھر ادھر نکل پڑتے ہیں پھر جب ایک گھڑی رات چلی جائے تو بچوں کو چھوڑ دو بسم اﷲ پڑھ کر دروازوں کو بند کر لواور بسم اﷲ پڑھ کر مشکوں کے منہ باندھ دو اور برتنوں کو ڈھانک دو اور سوتے وقت چراغوں کو بجھا دو اور سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ مت چھوڑا کرو یہ آگ تمہاری دشمن ہے جب سویا کرو تو اس کو بجھا دیا کرو۔
(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب صفۃ ابلیس وجنودہ،رقم ۳۲۸۰،ج۲،ص۳۹۹)
رات میں جب کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے بولنے کی آوازیں سنو تو اعوذباللہ من الشیطن الرجیم پڑھو۔
مسئلہ:۔رات میں کوئی ڈراؤنا خواب نظر آئے تو بائیں طرف تین بار تھوکنا چاہے اور تین بار اعوذباﷲ من الشیطن الرجیم پڑھ کر اور کروٹ بدل کر سونا چاہے اور کسی سے بھی اس خواب کا ذکر نہ کرنا چاہے۔ ان شاء اﷲتعالیٰ اس خواب سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔     (صحیح مسلم،کتاب الرؤیا،رقم۲۲۶۲،ص۱۲۴۱)
مسئلہ:۔اپنی طرف سے جھوٹا خواب گھڑ کر لوگوں سے بیان کرنا حرام اور بہت بڑا گناہ ہے ۔
مسئلہ:۔سونے سے پہلے بستر کو جھاڑ لینا سنت ہے۔ جب سو کر اٹھے تب یہ دعا پڑھے اور بستر سے اٹھ جائے
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَااَمَاتَنَاوَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ؕ
(صحیح البخاری،کتاب الدعوات،باب مایقول اذانام،رقم۶۳۱۲،ج۴،ص۱۹۲)