شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کا مسلک ومنھاج العقیدہ

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی  کا
مسلک ومنھاج العقیدہ

از : شاہ محمد فصیح الدین نظامی، مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ‘ حیدرآباد

شریعت اسلامیہ کے مسائل دوقسم کے ہیں (۱)وہ جن کا تعلق صرف اعتقاد اور تصدیق قلب سے ہے(۲)وہ جن کا تعلق عمل سے ہے ، پہلی قسم کا نام ’’عقائد‘‘ہے اور دوسری قسم کواعمال کہتے ہیں، عقائد اسلام کو اعمال اسلام سے وہی تعلق ہے جو درخت کی جڑکو اس کی شاخوں اور عمارت کو اس کی بنیادوں سے ہواکرتاہے، اصل الاصول عقائد توحید، رسالت ، قیامت ہیں، علم العقائدکے تمام مسائل انہیںتین اصولوں کی فروع اور شاخیں ہیں جن پر ایمان ہر مسلمان کیلئے فرض عین ہے ۔
اسلام دین فطرت ہے اس لئے شریعت اسلامیہ نے ہر معاملہ میں اعتقادات ہوں یا عبادات ، معاملات ہوںیاسیاسیات فطرت انسانی کا لحاظ کرتے ہوئے متوازن رہبری کی اور مسلمانوں کے سامنے ایسی شاہراہ رکھ دی جو افراط وتفریط سے پاک ، غلوو تنقیص سے منزہ اور ہر قسم کے معائب  سے محفوظ ہے ، مسلمانوں کو ’’امتِ وسط‘‘ کے لقب سے سرفرازکیا گیا، اس کے معنی وہ ملت ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں افراط وتفریط سے بچ کر توسط کے راستہ پر قائم رہتی ہے، اسلام توازن واعتدال اور کمال وجمال کا مذہب ہے یہی توسط اسلامی تعلیمات کی روح بھی ہے اور مذہب کی جان بھی۔ شریعت کی تشکیل وتکمیل  میں توسط دستوری واساسی حیثیت رکھتاہے چنانچہ فرمان نبوی ہے ’’خیرالاموراوسطھا‘‘ بہترین معاملہ وہ ہے جو درمیانی ہو۔ امر کا اطلاق ہر چیزپر ہوتا ہے، اعتقادات کے باب اور ایمانیات کے مسئلہ میں جو کہ پہلی اور بنیادی سیڑھی ہے اس میں بھی یہی پابندی ہے کہ افراط وتفریط سے بچیں اور معتدل طریقہ اپنائیں ،ملت اسلامیہ کے نفوس قدسیہ اسی راہ پر گامزن اور داعی رہے بانی جامعہ نظامیہ ،حامی کتاب سنت ،ماحی شرک وبدعت، شیخ الاسلام، حضرت امام محمد انواراللہ فاروقی فضیلت جنگ رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ شیخ العرب والعجم حضرت امداداللہ مھاجر مکی علیہ الرحمہ ) رقمطراز ہیں۔
’’دوسرے اَدیان میں افراط وتفریط کا ہونا اور دین اسلام اس سے بری ہونا اس سے ثابت ہے کہ یہود اورنصاری ٰکی توحیدمیں افراط وتفریط ہے اور دین اسلام میں توسط ، دیکھئے یہود خدائے تعالیٰ میں صفات نقص بندوں کے ثابت کرتے ہیں چنانچہ اسکو معاذ اللہ فقیر کہتے ہیں ، اور ان کا قول ہے کہ خدائے تعالیٰ جب آسمان وزمین کو پیداکیا تو معاذ اللہ تھک گیا،اور نصاریٰ مسیح ابن مریم اور اللہ کے ثالثِ ثلاثہ ہونے کے قائل اور اَحبار اور رُہبان کیلئے ربوبیت ثابت کرتے ہیں دیکھئے یہودنے خداتعالیٰ کو بندوںکے برابر کردیا اور نصاریٰ نے بندوں کوخداکے ہمسر بنادیا، بخلاف اہل اسلام کے کہ خدائے تعالیٰ کو تمام نقائص سے منزہ اور بری سمجھتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ مقربان بارگاہ الہیٰ کی عظمت اس حدتک کرتے ہیںکہ شانِ کبریائی تک نہ پہونچنے پائے۔
اسی طرح مسئلہ نبوت میں بھی افراط وتفریط ہے چنانچہ یہود انبیاء کی توہین کرتے ہیں بلکہ قتل کرڈالتے تھے اور نصاریٰ حواریوں کو بھی رسول سمجھتے اور ان کی اتباع کو مثل انبیاء کی اتباع کے بالذات لازم سمجھتے ہیں بخلاف اہل اسلام کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کووہ بالذات ضروری سمجھتے ہیں اور علماء کی اطاعت بھی کرتے ہیں مگر اس وجہ سے کہ نبی کریم صلی علیہ وسلم کے احکام کو انہوں نے خوب سمجھا ہے ، تلاش کرنے سے بہت سی نظیریں مل سکتی ہیں کہ دوسرے ادیان میں افراط وتفریط ہے ، اور ہمارا دین متوسط ہے کیوں نہ ہو حق تعالی فرماتا ہے وکذالک جعلنکم  امۃ وسطاً۔‘‘(۱)
حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ آگے مزید تحریر فرماتے ہیں :
’’پھر جس طرح ہمارا دین متوسط ہے اسی طرح اہلِ سنت کا مذہب بھی متوسط اور افراط وتفریط سے دورہے ، دیکھئے صفاتِ الہیہ میں کس قدرافراط وتفریط ہے معتزلہ توان کی بالکل نفی ہی کردیتے ہیں اس وجہ سے کہ قدم خاص صفتِ الہی ہے اگر کُل صفات بھی قدیم ہوں تو تعدّدِقدماء لازم آئیگا جیساکہ مواقف کے باب وغیرہ میں لکھا ہے ، اور مجسمہ جتنے آیات واحادیث صفات کے باب میںواردہیں سب کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں چنانچہ انکا اعتقاد ہے کہ خدائے تعالیٰ کی صورت ظاہری انسان کی سی ہے ان کے خداکا قدسات بالشت کا ہے گوشت وغیرہ سے مرکب دومویہ نورانی تاج اوڑھے عرش پر ٹیکالگا ئے بیٹھا ہے ، سب اعضاء اس کے ہلاک ہوجائیں گے مگر چہرہ باقی رہیگا جیساکہ مواقف اور تلبیس ابلیس اور تمہید میں لکھاہے،
دیکھئے کس قدر افراط وتفریط ہے بخلاف انکے اہلِ سنت وجماعت خدائے تعالیٰ کے ان تمام صفات کو مانتے ہیں جو قرآن وحدیث میں واردہیں مگر اسکے ساتھ یہ بھی اعتقادرکھتے ہیںکہ جس طرح اس نے فرمایاہے  ’’لیس کمثلہ شیئی و ھوالسمیع البصیر‘‘اس کا کو ئی کسی بات میں مثل اور شبیہ نہیں نہ اس کی سماعت اعصاب سے متعلق ہے نہ بصارت آنکھ کے پردوں سے کیونکہ ہر صفت موصوف کی شان کے لائق ہواکرتی ہے جیسے خدائے تعالیٰ جسمانیت اور لوازم جسمانیت سے منزہ ہے اسکے صفات بھی منزہ ہیں چوں کہ ہم لوگ اس قسم کی صفات جسمانیات میں دیکھتے ہیں اس لئے عموماً خیال اسی کی طرف منتقل ہوتا ہے حالانکہ غور کیا جائے تو ان امور کو جسم سے عقلاً کوئی تعلق اور مناسبت نہیں سماعت اور کان کے پٹھے کو خیال کیجئے تو دونوں میںکوئی ذاتی علاقہ نہ سمجھا جائیگا اور ممکن نہیں کہ عقل دونوں میں تعلق ثابت کرسکے ، اسیطرح اور صفات کا بھی حال ہے بہر حال مسلمان کاکام یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جسطرح اپنے صفات کی خبردی ہے اس کو اعتقاداًمان لے اور اس کی کیفیات کو علم الہیٰ پر حوالہ کردے اور ہر صفت میں مایلیق بشانہ خیال کیا کرے کیونکہ عقلاء نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ قیاس الغائب علے الشاہدصحیح نہیں غرضکہ اہل سنت وجماعت کا مذہب صفات الہیہ میں افراط وتفریط سے بری اور متوسط ہے،حضرت شیخ الاسلام  آگے مزیدتحریر فرماتے ہیں
’’مواقف میں لکھا ہے کہ شیعہ میں ایک فرقہ ہے جس کو’’ مفوضہ‘‘ کہتے ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو پید اکر کے تمام دنیا کا پیداکرنا آپ سے متعلق کردیا، وہابیہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ بھی ہم جیسے  ایک معمولی آدمی تھے، اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ بیشک آدمی ہیں مگر آدمیوں سے بلکہ تمام عالم سے افضل ہیں خدائے تعالی ٰ نے آپ کو’’ رحمۃ للعالمین ‘‘بنایا اور’’ علمِ اولین وآخرین‘‘ آپ کو عطاء ہوا اس کے سوا اور بہت ساری خصوصیتں ہیں جن کو حقانی علماء خوب جانتے ہیں،
’’کرّامیہ ‘‘کہتے ہیں خدائے تعالیٰ جس حادث کی طرف ایجاد خلق میں محتاج ہوتا ہے اس کو اپنے میں پیدا کرتا ہے یعنے ارادہ او رلفظ کن قدرت قدیمہ سے اپنے میں پیدا کرتاہے ، اور یہ حوادث چوں کہ اس میں موجود ہیں اسلئے وہ محل حوادث ہے ’’جبّائیہ‘‘ کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ اس ارادہ کی وجہ سے مریدہے ، اہل سنت کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ میں صفت ارادہ قدیم ہے البتہ اسکے تعلقات حادث ہیں اس سے اس ذات منزہ کا محل حوادث ہونا لازم نہیںآتا ، غرضکہ اہل سنت وجماعت درجہ توسط میں ہیں ‘‘۔(۲)
امام محمدانواراللہ فاروقیؒمذہب سنت وجماعت کی حقانیت کے متعلق رقم طرازہیں۔
’’اسلام میں قدیم سے جو مذہب قرناً بعد قرنٍ چلاآرہا ہے وہ مذہب ’’اہل سنت وجماعت‘‘ ہے اور اس کے سوا جتنے مذاہب ہیں سب حادث ہیں جنکا موجد ایک شخص ہواکیا ، مثلا مذہب قدریہ کا موجد معبدجہنی ہے جو صحابہ کے زمانہ میں تھا اور جس صحابی نے اسکی یہ بدعت سنی اس سے ابرای ذمہ کرکے اسکی مخالفت کا اعلان کیا اسی طرح مذہب اعتزال کا موجد واصل ابن عطا ہے جو تابعین کے زمانہ میں تھا ، اسی طرح کل مذاہب باطلہ کا حال ہے جو مذہب اہل سنت وجماعت سے علحدہ ہوکر قرآن میں ایسی بدنماتاویلیں کرتے جو صراحۃً تحریف ہیں ، اور اپنی مرضی کے مطابق بحسب ضرورت حدیثیں بنالیتے اور جو حدیثیں اپنے مقصود کے مخالف تھے انکو موضوع قراردیتے یا تاویلیں کرتے کیونکہ نئی بات کا موجد جو تمام امت موجود ہ سے علحدگی اختیار کرتا ہے، جب تک ایسی کارسازیاں نہ کرے کوئی شخص اس کا ہم خیال نہیں بن سکتا ، بخلاف اسکے اہل سنت وجماعت کو جو ہر ایک موجدکے زمانہ میں موجود تھے ایسی کاروائیوں کی ضرورت ہی نہ تھی اس سے ظاہر ہے کہ صرف اہل سنت وجماعت کا مذہب ایسا ہے جس میں کسی کے ایجاد کو دخل نہیں اوریہ مسلم ہے کہ ہماراآسمانی دین کسی ایجاداور اختراع کو جائزنہیں رکھتا ، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے صاف فرمایا دیا کہ اس دین میں (۷۳)تہتر مذہب بنائے جائیں گے مگر وہ کل مذاہب ناری ہیں اور ناجی ایک ہی مذہب ہے کسی نے پوچھا وہ کونسا مذہب ہے فرمایا جسپر میں اور میرے صحابہ ہیں
کمافی المشکوٰۃ عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسو ل اللہ ﷺ وتفترق امتی علی ثلاث وسبعین ملۃ  کلہم فی النار الاملۃ واحدۃ قالوا من ہی یا رسول اللہﷺ قال ماانا علیہ واصحابی رواہ الترمذی وفی معناہ ما رواہ احمد وابوداؤد
اسی وجہ سے تابعین نے احادیث اور اقوال صحابہ کو محفوظ کرلیا تاکہ وہ ناجی مذہب  ہاتھ سے جاتا نہ رہے او ران کے بعد کے طبقات میں بھی ان کی پوری پوری حفاظت ہوتی گئی ہر چند اہلِ مذاہبِ باطلہ نے بہت کچھ فکریں کیں کہ اپنے خیالاتِ باطلہ کو دینی مسائل اور اعتقادات میں مخلوط کردیںچنانچہ طلاقت لسانی سے کام لیا بعض سلاطین کو اپنے ہمخیال بناکر مسلمانوں پر دباؤ ڈالا،جعلسازیاں کیں مگر بفضلہ تعالی ان کی کچھ نہ چل سکی ، اور ان کے تراشیدہ خیالات دین میں ایسے ممتازرہے جیسے دودھ میں مکھی جنکو مسلمانوں نے نکال کرپھینکدیا اور بفضلہ تعالٰی وہی خالص دین ہم تک برابر پہونچ گیا نحمداللہ علی ذٰلک ۔(۳)
شیخ الاسلام مجدد الدعوۃ الاسلامیہ حضرت شاہ محمد انواراللہ فاروقی رضوان اللہ علیہ بانی جامعہ نظامیہ تحریر فرماتے ہیں:
عظمت نبی و آداب رسالت:
’’ شاید بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں گے قرآن شریف صرف توحید اور احکام معلوم کرانے کے لئے ناز ل ہوا ہے مگر یقین ہے کہ جب ان آیات میں غور وتامل کیا جائے گا تو ضرور یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ قرآن شریف علاوہ ان احکام کے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آداب سے بھی روشناس کرتا ہے‘‘۔ (۴)
رسول کی توہین کا جواب:
آخری زمانے کے بعض لوگ رسول کے معنی ہر کارہ لیکر توہین کرتے ہیں کس قدر خدا تعالی کی مخالفت کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کے جوابات دیکر حضرت کی فضیلت ثابت کریں۔(۵)
حضور اکرم ’’خاتم النبیین ‘‘ ہیں:
’’وصف خاتم النبیین خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو دوسرے پر صادق نہیں آسکتا اور موضوع لہ اس لقب کاذات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ عند الاطلاق کوئی دوسرا اس مفہوم میں شریک نہیں ہوسکتا پس یہ مفہوم جزئی حقیقی ہے‘‘۔ (۶)
جب حضور کاآخری نبی ہونا مسلم ہوچکا یہ بات بھی طئے ہوگئی کہ حضور کا کوئی مثل نہیں جیسا کہ شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامثل نہیں :
اس میں شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے مثل نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ وہ خالق ہے اور آپ مخلوق، مگر یہ کہنا بھی بے موقع نہ ہوگا کہ جس طرح حق تعالی کا کوئی مثل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مثل نہیں‘‘۔ (۷)
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ’’نور‘‘ ہیں:
مفسرین نے ’’الم تر‘‘ کے معنی الم تعلم لکھا ہے ، مگر اس کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی اس لئے کہ حضرت اپنی نورانیت کے ساتھ اس وقت موجود تھے اور دیکھ رہے تھے کہ ہاتھی آپ کو سجدہ کر رہا ہے اور تمام لشکر کو پرندے ہلاک کر رہے ہیں اور سب بھاگے جارہے ہیں‘‘۔(۸)
جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضور نور تھے اس لئے آپ کا سایہ بھی نہ تھا۔ شیخ الاسلام تحریر فرماتے ہیں: ’’حضرت کا جسم ہی نرالا تھا۔ دیکھنے کو توپورا جسم مگر اس کا سایہ ندارد‘‘۔ (۹)
انکار حدیث:
حدیث کو بلا وجہ رد کردینا اس سے انکارکرنا سوا اس کے نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن بنالینا ہے۔ عیاذا باللہ ۔ اگر سمجھ میں نہ آئے تو سکوت چاہئے نہ یہ کہ حکم بالوضع کرنا (یعنی موضوع کہدینا) جو من وجہ رد ہے‘‘۔(۱۰)
کثرت درود اہلسنت کی نشانی:
صرف ایک یادو بار درود شریف ادائے فرض کے خیال سے پڑھ لینا اور ایسی تقریر یںکرنا کہ مسلمانوں کی رغبت کم ہوجائے مسلک اہلسنت و الجماعت کے خلاف ہے اور خلاف مرضی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ خلاف مرضی حق تعالی بھی ہے ۔ اعاذنا اﷲ من ذالک‘‘ ۔(۱۱)
صلاۃ وسلام عرض کرنے کا طریقہ:
جب کسی خاص وقت میں سلام عرض کرے تو چاہیے کہ کمال ادب کے ساتھ کھڑا ہو اور دست بستہ ہو کر عرض کرے۔ السلام علیک یا سیدنا رسول اللہ۔ السلام علیک یا سیدنا سید الاولین والا خرین۔ اسی طرح کے الفاظ کے ساتھ سلام کرے جن سے حضرت کی عظمت معلوم ہو۔ (۱۲)
قیام تعظیمی:
اب یہاں شاید کوئی یہ اعتراض کرے کہ قیام عبادت کے مشابہ ہے اس لئے جائز نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ، جب عین عبادت میں یہ سلام جائز ہوا تو مشابہ بالعبادہ میںکیونکرجائزنہیںہوگا۔(۱۳)
فقہ قرآن وحدیث سے ثابت :
ہر شخص میں صلاحیت نہیں کہ خود قرآن و حدیث سے وہ (مسائل) نکال سکے اس لئے علماء شکراللہ سعیہم نے یہ کام اپنے ذمہ لیا کہ مختلف آیات و احادیث اقوال صحابہ وغیرھم سے تحقیق کر کے ہر ایک مسئلہ مختصر الفاظ میں بیان کردیا کہ ان میں یہ کرنا چاہئے، چنانچہ ایک مدت کی کوشش میں انہوں نے ہر ایک جزئی مسئلہ کاحکم قرآن وحدیث سے نکال کر ایک علم ہی مستقل مدون کردیا جس کانام فقہ ہے۔ یہ ہے ’’حقیقت فقہ‘‘۔(۱۴)
اس لئے مسلمان بھائیوں پرلازم ہے کہ وہ غیر مذہب والوں کی صحبت اور انکی کتابوں سے پرہیز کریں کیونکہ گمراہی کا اندیشہ ہے جیسا کہ حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
’’غیر مذہب والوں کی مصاحبت (دوستی کرنا ساتھ رہنا) اور مکالمت (بات چیت کرنا) اور ادیان باطلہ کے کتابوں کے مطالعہ سے اعتقاد پر برا اثر پڑتا ہے، گو آدمی دیندار اور فاضل ہو۔ (۱۵)
فرقہ وہابیہ وخوارج کی حقیقت :
’’احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ فرقہ وہابیہ، خوارج کی ایک شاخ ہے مگر اس وجہ سے کہ نئے طور پر اس کا خروج ہوا اس لئے اس کا نام جدا گانہ قرار پایا اور وہ فرقہ اپنے بانی کی طرف منسوب ہوا، اسی وجہ سے یہ لوگ اپنے آپ کو محمدی کہتے ہیں۔ مگر محتاط علماء نے جب یہ دیکھا کہ عوام الناس انہیں ضرور برا بھلا کہیں گے اور اس میں حضور کے نام مبارک کے لفظ کی توہین ہوگی اس لئے وہ وہابی کے نام سے موسوم کئے گئے۔ (۱۶)
میلاد النبی ﷺ کی مجلس:
ذرا سونچنے کی بات ہے کہ ذکر شریف کی مجلسیں ہوا کریں اور  اس کی برکتوں سے مسلمان فیض یاب ہو تے رہیں تو اس سے کسی کا کیا نقصان؟ (۱۷)
آثار مبارک کا ادب:
ہم آخری زمانے کے مسلمانوں کو کس درجہ کا ادب ان آثار کے ساتھ کرنا چاہئے جن کا بطور واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونا لاکھوں کے عقیدوں سے ثابت ہے۔(۱۸)
صحابہ کرام ، معیار حق:
ہم پر ان (صحابہ) کی حق شناسی اور تعظیم لازم ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے حق میں وجود دین باعث ہوئے اگر وہ جانفشانیاں نہ کرتے تو دین ہم تک نہ پہونچتا۔ (۱۹)
فضیلت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :
چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت خدمت امامت جو ذات مبارک سے وابستہ تھی آپ کے (حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ ) تفویض فرمایا اور اپنا خاص مصلی یعنی سجادہ آپ کے حوالے کر کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع عام میں آپ کو اپنا سجادہ نشین قرار دیا۔ (۲۰)
امور خیر کی پابندی:
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہر ایک حدیث اور ترجمۃ الباب کے لکھنے سے قبل غسل کرکے مقام مقدس (قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور منبر شریف کے درمیان) میں دو رکعت نماز پڑھنے کا جو التزام کیاتھا۔ وہ نہایت خوش اعتقادی پر مبنی ہے۔ چند امور خیر کا کسی خاص امر میں التزام کرنا کوئی قباحت نہیں بلکہ مستحسن ہے۔ (۲۱)
بیعت کی حقیقت:
چونکہ وہ بیعت سنت نبوی تھی اس زمانے میں فوت ہونے لگی تو بزرگان دین نے اس بیعت کا طریقہ جاری کردیا اور اپنے مریدوں کو تلقین کی کہ اپنی جان و مال خدا کے ہاتھ بیچ دو۔ یعنی احکام الہی کی تعمیل کرو تو تمہیں خدا تعالی جنت دے گا۔ جب انہوں نے قبول کر کے بیعت کی یعنی ہاتھ میں ہاتھ ملایا اور حضرات نے بھی خدا کی طرف سے ہاتھ ملایا تو وہ اصل بیعت پوری ہوگئی۔(۲۲)
صالحین کا توسل:
اپنی حاجت روائیوں کے واسطے شفاعت طلب کرناتو کسی طرح شرک نہیں ہوسکتا اب رہا یہ کہ وہ سنتے ہیں یا نہیں یہ مسئلہ دوسرا ہے اس کے دلائل کتب کلامیہ میں مذکور ہیں اتنا تو قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ خدا تعالی ان کو لوگوں کی باتیں سنا سکتا ہے۔ کما قا ل اللہ تعالی ان اللہ یسمع من یشاء وما انت بمسمع من فی القبور۔
جب یہ ثابت ہے کہ خدا تعالی ان کو زائرین کے باتیں سناتا ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے تو دور رہنے والوں کی دل کی باتیں بھی ان کو سنا دے تو کیا تعجب ہے۔ (۲۳)
بزرگوں کی بے ادبی:
اب بہت غور فکر کے بعد مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اس (شیطان) نے بے ادبی کا دروازہ کھولا اور بے ادبی کو راست گوئی کا نام دیا۔ اب کیسی ہی ناشائستہ بات کیوں نہ ہو اس لباس میں آراستہ کر کے احمقوں کے دماغ میں اتاردیتا ہے اور کچھ ایسا بے وقوف بنادیتا ہے کہ راست گوئی کی دھن میں نہ ان کو کسی بزرگ کی حرمت و توقیر کا خیال  رہتا ہے اور نہ اپنے انجام کا۔(۲۴)
مسلمانوں کے راستہ سے ہٹنے کا انجام:
ہمارا دین و ایمان وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمایا اور وہ ہم تک نسلا بعد نسل پہونچا کیونکہ خدائے تعالی قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے کہ مسلمان لوگ جس راستے پر ہوں وہی اختیار کرو اور جو کوئی اس راستے سے جدا ہوا وہ دوزخی ہے۔(۲۵)
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
(۱) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ، مقاصدالاسلام حصہ ششم، صفحہ ۲۴۸تا۲۵۲ )
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲)امام محمدانواراللہ فاروقیؒ، مقاصدالاسلام حصہ ششم، صفحہ ۲۴۸تا۲۵۲
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۳)  امام محمدانواراللہ فاروقی ؒ ، حقیقۃ الفقہ حصہ دوم ص ۴۴تا۴۵،
مجلس اشاعۃ العلوم جامعہ نظامیہ حیدرآباد
(۴) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی۔ صفحہ 216،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۵) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام، حصہ 11۔ صفحہ 216،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۶) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی صفحہ 42، مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۷) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام، حصہ 11صفحہ57،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۸)امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام حصہ 11صفحہ47،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۹)امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام، حصہ11 صفحہ65،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۰) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،الکلام المرفوع صفحہ 53،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۱)امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی صفحہ 139،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۲) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی، صفحہ26،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۳) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی صفحہ175،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۴)امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،حقیقۃ الفقہ صفحہ2-3، مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۵) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،حقیقۃ الفقہ صفحہ38،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۶) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی،صفحہ 314،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۷) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی صفحہ 247،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۸) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی صفحہ 230،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۱۹) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام 10صفحہ23،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲۰) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام حصہ10صفحہ9،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲۱) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،الکلام المرفوع صفحہ 53،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲۲) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام حصہ 10صفحہ57،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲۳) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام حصہ 4 صفحہ 87-86 ،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲۴) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،انوار احمدی صفحہ 275،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(۲۵) امام محمدانواراللہ فاروقیؒ،مقاصد الاسلام حصہ 4صفحہ81،
مجلس اشاعۃ العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
٭٭٭