حضرت زِنّیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا

  یہ بھی حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی ایک لونڈی تھیں انہوں نے بھی جب اسلام قبول کر لیا تو سارا گھر ان کی جان کا دشمن ہو گیا اور ان کافروں نے اتنا مارا کہ ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تو کافر ان کو یہ طعنہ دینے لگے کہ تو نے ہمارے دیوتاؤں کو چھوڑ دیا تو تیری آنکھیں پھوٹ گئیں اب کہاں ہے تیرا ایک خدا تو کیوں نہیں اس کو بلاتی کہ وہ تیری آنکھوں کو روشن کر دے یہ طعنہ سن کر وہ نہایت جرأت کے ساتھ کہاکرتی تھیں
میں جس رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر ایمان لائی ہوں یقیناً وہ خدا کے سچے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہیں اور میرا ایک خدا اگر چاہے گا تو ضرور میری آنکھیں روشن ہو جائيں گی اورتمہارے سیکڑوں دیوتا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ایک دن رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے کافروں کا یہ طعنہ سنا تو فرمایا کہ اے زنیرہ! تو صبر کر پھر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دعا فرمادی تو ان کی آنکھوں میں ایک دم روشنی آگئی یہ معجزہ دیکھ کر کفار کہنے لگے کہ یہ تو محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) کاجادو ہے وہ رسول نہیں ہیں بلکہ وہ تو عرب کے سب سے بڑے جادوگر ہیں (معاذاﷲ)۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا ۔
(الاستیعاب،باب النساء ، با ب الزای ۳۳۸۸،زنیرۃ مولاۃ ابی بکر الصدیق،ج۴،ص۴۰۶)
تبصرہ:۔اے مسلمان ماؤں بہنو! تمہیں خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ حضرت لبینہ و حضرت نہدیہ و حضرت ام عبیس و حضرت زنیرہ وغیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہن کی جاں سوزو دل دوز حکایتوں کو بغور اور بار بار پڑھو اور سوچو کہ ان اﷲ والیوں نے اسلام کیلئے کیسی کیسی مصیبتیں اٹھائیں مگر ایک سیکنڈ کے لئے بھی اسلام سے ان کے قدم نہیں ڈگمگائے ایک تم ہو کہ ذرا کوئی تکلیف پہنچی تو تم گھبرا کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتی ہو اور خدا و رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی شان میں ناشکری کے الفاظ بولنے لگتی ہو اور ذرا کافروں نے دھونس دی تو تم کافروں کی بولیاں بولنے لگتی ہو خدا کے لئے اے مسلمان مرد و اور اے مسلمان عورتو! تم ان اللہ کی مقدس بندیوں کا کردار پیش کرو کہ اپنے ایمان و اسلام پر اتنی مضبوطی کے ساتھ قائم رہو کہ تمہیں دیکھ کر کافروں کی دنیا پکار اٹھے کہ۔
بنائے آسمان بھی اس ستم پر ڈگمگائے گی
مگر مومن کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئے گی