مینڈک

۔ان فرعونیوں کی بستیوں اور ان کے گھروں میں اچانک بے شمار مینڈک پیدا ہو گئے اور ان ظالموں کا یہ حال ہو گیا کہ جو آدمی جہاں بھی بیٹھتا اس کی مجلس میں ہزاروں مینڈک بھر جاتے تھے۔ کوئی آدمی بات کرنے یا کھانے کے لئے منہ کھولتا تو اس کے منہ میں مینڈک کود کر گھس جاتے۔ ہانڈیوں میں مینڈک، ان کے جسموں پر سینکڑوں مینڈک سوار رہتے۔ اٹھنے، بیٹھنے، لیٹنے کسی حالت میں بھی مینڈکوں سے نجات نہیں ملتی تھی۔ اس عذاب سے فرعونی رو پڑے اور پھر روتے گڑگڑاتے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں دعا کی بھیک مانگنے کے لئے آئے اور بڑی بڑی قسمیں کھا کر عہد و پیمان کرنے لگے کہ ہم ضرور ایمان لائیں گے اور مومنین کو کبھی ایذاء نہیں دیں گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب بھی اٹھا لیا گیا مگر یہ مردود قوم راحت ملتے ہی پھر اپنا عہد توڑ کر اپنی پہلی خبیث حرکتوں میں مشغول ہوگئی۔ مومنین کو ستانے لگے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین و بے ادبی کرنے لگے تو پھر عذابِ الٰہی نے ان ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ان لوگوں پر خون کا عذاب قہرالٰہی بن کر اتر پڑا۔