حضرت اُمِ عمارہ کی جان نثاری

سیرتِ مصطفےٰ صَفْحَہ 279 پر ہے:حضرت بی بی اُمِّ عَمارہ جن کا نام نسیبہ ہے جنگِ اُحد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصِم اور دو۲فَرْزَند حضرت عمّارہ اور حضرت عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو ساتھ لے کر آئی تھیں۔ پہلے تو یہ مُجاہِدین کو پانی پلاتی رہیں لیکن جب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کفّار کی یَلْغَار کا ہوش رُبا مَنْظَر دیکھا تو مَشْک کو پھینک دیا اور ایک خنجر لے کر کُفّار کے مُقَابَلَہ میں سینہ سِپَر ہو کر کھڑی ہو گئیں اور کُفّار کے تیر و تلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں۔ چنانچہ ان کے سر اور گردن پر 13 زَخْم لگے۔اِبْنِ قَمِیْئَہ مَلْعُون نے جب حُضُور رِسَالَت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر تَلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے آگے بڑھ کراپنے بدن پر روکا۔ جس سے ان کے کندھے پر اتنا گہرا زَخْم آیا کہ غار پڑگیا،پھر خود بڑھ کر اِبْنِ قَمِیْئَہ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ مَلْعُون دوہری زِرہ پہنے ہوئے تھا اس لیے بچ گیا۔
حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے فَرْزَند حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ
تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافِر نے زَخْمی کر دیا اور میرے زَخْم سے خُون بند نہیں ہوتا تھا۔ میری والِدہ حضرت اُمِّ عمّارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زَخْم کو باندھ دیا اور کہا کہ بیٹا اُٹھو، کھڑے ہو جاؤ اور پھر جِہاد میں مَشْغُول ہو جاؤ۔ اِتّفاق سے وُہی کافِر حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے اُمِّ عمّارہ!دیکھ تیرے بیٹے کو زَخْمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ نے جھپٹ کر اس کافِر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافِر گِر پڑا اور پھر چل نہ سکا بلکہ سُرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ مَنْظَر دیکھ کر حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِّ عمّارہ!تو خُدا کا شُکْر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طَاقَت اور ہِمَّت  عَطا فرمائی کہ تو نے خُدا کی راہ میں جِہاد کیا، حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ نے عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! دُعا فرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنّت میں آپ کی خِدْمَت گزاری کا شَرَف حاصِل ہو جائے۔ اس وَقْت آپ نے ان کے لیے اور ان کے شوہَر اور ان کے بیٹوں کے لیے اس طرح دُعا فرمائی:اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْـجَنَّةِ۔ یا اللہ!ان سب کو جنّت میں میرا رفیق بنا دے۔حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا زِنْدَگی بھر عَلانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس دُعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پَروا نہیں ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
………سیرتِ مصطفےٰ، ص ۲۷۹