حضرت اسماء بنت یزید رضی ﷲ تعالیٰ عنہا

 یہ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی زاد بہن ہیں اور ان کی کنیت ام سلمہ ہے قبیلہ انصار سے تعلق رکھنے والی صحابیہ ہیں یہ بہت عقل مند اور ہوش گوش والی عورت تھیں ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میں بہت سی عورتوں کی نمائندہ بن کر آئی ہوں سوال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے چنانچہ ہم عورتیں آپ پرایمان لائی ہیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی پیروی کا عہد کیا ہے اب صورت حال یہ ہے کہ ہم عورتیں پردہ نشین بناکر گھروں میں بٹھا دی گئی ہیں اور ہم اپنے شوہروں کی خواہشات پوری کرتی ہیں اور ان کے بچوں کو گود میں لئے پھرتی ہیں اور ان کے گھروں کی رکھوالی کرتی ہیں اور ان کے مالوں اور سامانوں کی حفاظت کرتی ہیں اورمرد لوگ جنازوں اور جہادوں میں شرکت کر کے اجر عظیم حاصل کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان مردوں کے ثوابوں میں سے کچھ ہم عورتوں کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں یہ سن کر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ دیکھو اس عورت نے اپنے دین کے بارے میں کتنا اچھا سوال کیا ہے پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ اے اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا! تم سن لو اور جاکر عورتوں سے کہہ دو کہ عورتیں اگر اپنے شوہروں کی خدمت گزاری کر کے ان کو خوش رکھیں اور ہمیشہ اپنے شوہروں کی خوشنودی طلب کرتی رہیں اور ان کی فرمانبرداری کرتی رہیں تو مردوں کے اعمال کے برابر ہی عورتوں کو بھی  ثواب ملے گا یہ سن کر حضرت اسماء بنت یزید رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مارے خوشی کے نعرہ تکبیر لگاتی ہوئی باہر نکلیں۔
(الاستیعاب ،باب النساء،باب الالف۳۲۶۷،أسماء بنت یزید،ج۴،ص۳۵۰)
تبصرہ:۔اسماء بنت یزید کو ثواب آخرت حاصل کرنے کا کتنا شوق اور جذبہ تھا یہ تمام مسلمان عورتوں کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ ہے کاش اس زمانے کی عورتوں میں بھی یہ شوق اور جذبہ ہوتا تو یقیناً یہ عورتیں بھی نیک بیبیوں کی فہرست میں شامل ہو جاتیں اور ثواب سے مالا مال ہو جاتیں۔