۔۔۔۔۔اسم فاعل واسم مفعول کا بیان۔۔۔۔۔

اسم فاعل کی تعریف:
  وہ اسم ہے جو فعل سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ فعل قائم ہو۔ جیسے نَاصِرٌ (مدد کرنے والا) ۔
نوٹ:
   ثلاثی مجرد سے یہ فَاعِلٌ کے وزن پر آتاہے۔ اور اس کو مضارع معروف سے بنایا جاتا ہے۔ جیسے یَنْصُرُ سے نَاصِرٌ ۔
اسم فاعل کا عمل:
  اسم فاعل بھی اپنے فعل معروف والا عمل کرتاہے یعنی فاعل کورفع دیتاہے۔ اور اگر فعل متعدی کا اسم فاعل ہے تو فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول بہ کو نصب دیتاہے۔
جیسے أَ دَاخِلٌ زَیْدٌ؟(کیا زید اندر ہے؟) مَاضَارِبٌ أَحَدٌ أَخَاکَ  (آپ کے بھائی کو کوئی نہیں مار رہا ) لیکن اسم فاعل کے عمل کرنے کیلئے دوشرطیں ہیں۔
  ٭۔۔۔۔۔۔۱۔ اس میں حال، یا استقبال کا معنی پایا جائے۔
  ٭۔۔۔۔۔۔۲۔اسم فاعل سے ماقبل چھ چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور موجود ہو۔ وہ چھ چیزیں یہ ہیں ۔
  ٭۔۔۔۔۔۔۱۔ اس کے ماقبل مبتداء ہو اور اسم فاعل اس کی خبر بنے جیسے۔ زَیْدٌ قَائِمٌ أَبُوْہ،  (زید کا باپ کھڑا ہے )۔
  ٭۔۔۔۔۔۔۲۔ اس سے پہلے موصوف ہو اور یہ اس کی صفت واقع ہو۔جیسے ضَرَبْتُ غُلاَ مًا قَائِمًا أَبُوْہ،۔  (میں نے ایسے لڑکے کو مارا جس کا والد کھڑا ہے)
  ٭۔۔۔۔۔۔۳۔اس کے ماقبل اسم موصول ہو اور یہ صلہ بنے ۔جیسے جَاءَ نِی الَّذِیْ ضَارِبٌ عَمْرًوا۔ (میرے پاس وہ شخص آیا جس نے عمر کو مارا ہے)
  ٭۔۔۔۔۔۔۴۔اس سے قبل ذوالحال ہو اور یہ حال واقع ہو رہا ہو۔جیسے ضَرَبَ زَیْدٌ قَائِمًا غَلاَمُہ،  (زید نے اس حال میں مارا کہ اس کا غلام کھڑا ہے)۔
  ٭۔۔۔۔۔۔۵۔ اس کے ماقبل حرف نفی ہو ۔جیسے مَا ضَارِبٌ زَیْدٌ  (زید نہیں مار رہا ہے)۔
  ٭۔۔۔۔۔۔۶۔اس کے ماقبل ہمزہ استفہام ہو،جیسے أَ نَاصِرٌ زَیْدٌ خَالِدًا؟  (کیا زید خالد کی مدد کررہا ہے؟)
نوٹ:
  مبالغہ کا جو صیغہ فاعل کیلئے ہو اس کا عمل اسم فاعل ہی کی طرح ہوگا۔ جیسے زَیْدٌ ضَرَّابٌ أَبَاکَ۔
فاعل اور اسم فاعل میں فرق:
  ۱۔ اسم فاعل عامل ہوتاہے۔جبکہ فاعل عامل نہیں ہوتا۔
  ۲۔ فاعل سے پہلے فعل کا ہونا ضروری ہے مگر اسم فاعل سے پہلے ضروری نہیں۔
  ۳۔ فاعل کا مرفوع ہونا ضروری ہے جبکہ اسم فاعل کا مرفوع ہونا ضروری نہیں۔
  ۴۔ فاعل کا مشتق ہونا ضروری نہیں جبکہ اسم فاعل کا مشتق ہونا ضروری ہے۔
ترکیب:
ضَرَبَ زَیْدٌ قَائِمًا غُلامُہ،
  ضَرَبَ فعل ،زَیْدٌذوالحال ،قَائِمًا اسم فاعل ،غُلا مُ مضاف ہ، ضمیر مضاف الیہ،مضاف ،مضاف الیہ سے ملکر قَائِمًا کا فاعل ،قَائِمًا اپنے فاعل سے ملکر حال، ذوالحال اپنے حال سے ملکر فاعل ،فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ۔
اسم مفعول کی تعریف:
  وہ اسم ہے جو فعل متعدی سے مشتق ہو اور اس ذا ت پر دلالت کرے جس پر فعل واقع ہوتاہے، اور ثلاثی مجر د سے مَفْعُوْلٌ کے وزن پر آتاہے۔ جیسے مَضْرُوْبٌ (پِٹا ہوا) مَنْصُوْرٌ (مدد کیا ہوا) وغیرہ ۔
اسم مفعول کا عمل:
  اسم مفعول بھی فعل مجہول کی طرح عمل کرتاہے اس کے عمل کیلئے بھی وہی شرائط ہیں جو اسم فاعل کیلئے ہیں۔
  ٭۔۔۔۔۔۔اسم مفعول نائب الفاعل کو رفع دیتاہے۔ جیسے زَیْدٌ مَضْرُوْبٌ أَبُوْہ،  ( زید کا باپ ماراگیا) ۔
  ٭۔۔۔۔۔۔ اگر یہ ایسے فعل سے بنا ہو جو متعدی بدو مفعول ہوتو پہلے مفعول کو رفع اور دوسرے کو نصب دیگا۔ جیسے عَمْرٌو مُعْطیً غُلاَ مُہ، دِرْھَمًا (عمرو کے غلام کو درھم دیاجائے گا)۔اسی طرح اگر ایسے فعل سے بنا ہو جو متعدی بسہ مفعول ہو تو پہلے مفعو ل کو رفع دوسرے اور تیسرے کو نصب دے گا۔ خَالِدٌ مُخْبَرٌ اِبْنُہ، عَمْرًوا فَاضِلاً (خالد کے
بیٹے کو عمرو کے فاضل ہونے کی خبر دی جا ئے گی)۔
ترکیب:
زَیْدٌ مَضْرُوْبٌ غُلامُہ،
  زَیْدٌ مبتدا مَضْرُوْبٌ اسم مفعول غُلا مُ مضاف ہ، ضمیر مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر اسم مفعول کا نائب الفاعل ہوا ،اسم مفعول اپنے نائب ا لفاعل سے ملکر مبتدا کی خبر ،مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔