ا ونٹنی کے ساتھ پھیرے لگانے کی حکمت

ا ونٹنی کے ساتھ پھیرے لگانے کی حکمت

حضرتِ سیِدُناعبداﷲابنِ عمررضی اﷲتعالیٰ عنہمابہت زیادہ متَّبِع سنّت تھے۔ انہیں جب بھی کوئی سُنّت معلوم ہوجاتی تواُس کی بَجَاآوری میں کسی قسم کی پَس و پَیش کا مُظاہَرہ نہ فرماتے۔چُنانچِہ”ایک بارکسی مقام پر آپ رضی اﷲتعالیٰ عنہ اونٹنی کے ساتھ پَھیرے لگارہے تھے یہ دیکھ کر لوگوں کوتعجُّب ہوا۔ پوچھنے پر ارشادفرمایا:ایک بار میں نے مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کویہاں اسی طرح کرتے دیکھا تھا ، لہٰذاآج میں اِس مقام پراُسی ادائے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوادا کررہاہوں۔” (الشفاء ج۲ ص۳۰)
بتاتا ہوں تم کو میں کیا کر رہا ہوں
میں پھیرے جو ناقے کو لگوارہاہوں
مجھے شادمانی اسی بات کی ہے
میں سنّت کا ان کی مزا پا رہا ہوں
Exit mobile version