وفاتِ اقدس

    حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس عالم میں تشریف لانا صرف اس لئے تھاکہ آپ خداکے آخری اورقطعی پیغام یعنی دین اسلام کے احکام اُس کے بندوں تک پہنچا دیں اورخداکی حجت تمام فرما دیں۔اس کام کوآپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کیونکر انجام دیا؟ اوراس میں اپ کو کتنی کامیابی حاصل ہوئی؟اس کا اجمالی جواب یہ ہے کہ جب سے یہ دنیا عالَمِ وجود میں آئی ہزاروں انبیاء و رُسل علیہم السلام اس عظیم الشان کام کو انجام دینے کے لئے اس عالم میں تشریف لائے مگرتمام انبیاء ومرسلین کے تبلیغی کارناموں کو اگر جمع کر لیا جائے تو وہ حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تبلیغی شاہکاروں کے مقابلہ میں ایسے ہی نظر آئیں گے جیسے آفتاب عالم تاب کے مقابلہ میں ایک چراغ یا ایک صحرا کے مقابلہ میں ایک ذرہ یا ایک سمندرکے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تبلیغ نے عالم میں ایسا انقلاب پیدا کر دیا کہ کائنات ہستی کی ہر پستی کو معراج کمال کی سربلندی عطا فرما کر ذلت کی زمین کو عزت کا آسمان بنا دیا اوردین حنیف کے اس مقدس اور نورانی محل کو جس کی تعمیر کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء و رسل معمار بنا کر بھیجے جاتے رہے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کی شان سے اس قصر ہدایت کو اس طرح مکمل فرما دیا کہ حضرت حق جل جلالہ نے اس پر اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (1) کی مہر لگا دی۔
    جب دین اسلام مکمل ہو چکا اور دنیا میں آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تشریف لانے کا مقصد پورا ہو چکا تو اﷲ تعالیٰ کے وعدہ محکم اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾ (2)
کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔
Exit mobile version