حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ان کو مصر و سکندریہ کے بادشاہ مقوقس قبطی نے بارگاہِ اقدس میں چند ہدایااور تحائف کے ساتھ بطورہبہ کے نذر کیاتھا۔ان کی ماں رومی تھیں اورباپ مصری اس لیے یہ بہت ہی حسین و خوبصورت تھیں۔یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ام ولد ہیں کیونکہ آپ کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان ہی کے شکم مبارک سے پیداہوئے تھے۔
    کنیزہونے کے باوجود حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کو پردہ میں رکھتے تھے اور ان کیلئے مدینہ طیبہ کے قریب مقام عالیہ میں آپ نے ایک الگ گھر بنوا دیا تھا جس میں یہ رہاکرتی تھیں اورحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ واقدی کا بیان ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد حضرت امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زندگی بھر ان کے نان و نفقہ کا انتظام کرتے رہے اور ان کے بعد حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ خدمت انجام دیتے رہے۔ یہاں تک کہ  ۱۵ ھ؁ یا   ۱۶ھ؁ میں ان کی وفات ہوگئی اور امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نمازِجنازہ میں شرکت کیلئے خاص طور پر لوگوں کو جمع فرمایا اور خود ہی ان کی نمازِجنازہ پڑھا کر ان کو جنت البقیع میں مدفون کیا۔(1)
                 (زرقانی جلد ۳ ص ۲۷۱ تا ۲۷۲)
Exit mobile version