خطبۂ اِستقبالیہ ،بموقعہ’’ شیخُ الاسلام !شخص و عکس سیمینار‘‘ بمقام بِلگام۔کرناٹک

خطبۂ اِستقبالیہ ،بموقعہ’’ شیخُ الاسلام !

شخص و عکس سیمینار‘‘ بمقام بِلگام۔کرناٹک

رئیس التحریر ،مولانا یٰسٓ اختر مصباحی، نئی دہلی

ہم اور آپ، خو ش قسمت ہیں کہ دَو رِ حا ضر کے ایک عظیمُ المر تبت اور جلیلُ الْقَد رعا لمِ  دین کی دینی و عِلمی خد ما ت کو خر ا جِ عقید ت پیش کر ر ہے ہیں ۔
یہ مو قع، فرا ہم کیا ہے سید عبد اللہ باشیبان اکیڈمی ،بِلگام نے ،اوراس سیمینار کے ذریعہ ،اپنی احسا ن شنا سی کا ثبوت د یا ہے۔
آج کے ،اس کل ہند شیخ الاسلام سمینار کے اندر، ہم اور آ پ جو کچھ کہہ رہے اورسن رہے ہیں ،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام کی قدرو منز لت میں ہم، کچھ اضا فہ کر رہے ہیں ۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ:
معا ملہ، ایسا نہیں ہے۔ بلکہ ان کی خد مات کوخراجِ عقیدت پیش کر کے، ان کے اوصا ف و کمالا ت کا ذکر کر کے، ان کی دینی و علمی خد مات کو خراجِ تحسین پیش کر کے، ہم اور آپ، خو د اپنی قدرو منز لت میں اضا فہ کر رہے ہیں ۔حضرت شیخ الاسلام کی شخصیت ، آپ کی علمی و تحقیقی شخصیت اور آپ کی علمی و تحقیقی وجاہت ،سارے عُلما ے اہل سنَّت کے درمیان ہمیشہ، مسلَّم رہی ہے۔
آپ حضرات نے ابھی نام سنا، دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ، اترپردیش کا۔
یہ ادارہ، منسوب ہے۔ سلطانُ التارِکین، حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیر سمنانی، کچھوچھوی ،رَحْمَۃُ اﷲِ عَلیْہِ،کی طرف۔ اور اس نسبت کا فیضان بِحَمْدِہٖ تَعَالیٰ آج بھی جاری ہے۔اسی اشرفیہ مبارکپور کے سرپرست ،حضور محدِّثِ اعظمِ ہند، عَلیْہِ الرَّحْمَۃُ وَالرِّضْوَان تھے۔
حضرت شیخ الاسلام نے دس گیارہ سال تک، اسی دارالعلوم اشرفیہ سے تعلیم پائی اور تکمیلِ تعلیم بھی فرمائی۔
انسان کے جو، اوصاف و کمالات ہوتے ہیں ،ان کے اندر کئی بنیادی چیزیں، خمیر کے طورپر شامل ہوتی ہیں۔
ایک چیز ہوتی ہے نَسبی شرافت، ایک چیز ہوتی ہے وَہبی صلاحیت۔ اور ایک چیز ہوتی ہے اِکتسابی۔ یعنی نَسبی، وَہبی، اِکتسابی، تین چیزیں اگر کسی شخصیت کا خمیربن جائیں تو فرش سے اُٹھ کر ، عرش تک اُس کی رسائی ہوجاتی ہے۔
اور اَلْحَمدُ لِلّٰہ، نَسبی وَہبی اِکتسا بی،یہ ساری عظمت و فضیلت ،سارے اوصاف و کمالات اور ساری خوبیاں، حضرت شیخ الاسلام کے اندر موجود تھیں اور موجود ہیں۔
قاعدہ، یہ ہے کہ جو شخص، دوسروں کا احسان، مان کر، اُن کا شکریہ ادا کرتا ہے، اُس کے لئے اہلِ ایمان و اسلام کے قلوب ،کشادہ ہوجاتے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام ،ابتدا ہی سے اپنے اساتذہ  اور اپنے اکابر کی بارگاہ میں مؤدَّب ،رہے ہیں۔
کئی سوصفحات پر مشتمل ’’حافظِ مِلَّت نمبر ‘‘ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور کا، 1978ء میں شائع ہوا۔اور اسی طرح سے کئی سو صفحات پر مشتمل ’’مفتیِ اعظم نمبر‘‘ استقامت ڈائجسٹ ،کانپور کا ،شائع ہوا۔ مجھے جہاں تک یاد ہے ،ان دونوں نمبروں میں حضرت شیخ الاسلام کے مضامین ،شامل ہیں۔
حافظ ِمِلَّت پر، اور حضورمفتیِ اعظمِ ہند پر، حضرت شیخ الاسلام کے جو مضامین ہیں، ان میںہر مضمون ،اتنا شاندار، اتنا جامع اور اتنامؤثر ہے کہ اسے پڑھ کر ، ان شخصیتوں کا صحیح عکس، دل و دماغ میں نمایاں ہوجاتا ہے ۔
ان دونوں نمبروں کے اعلیٰ اورمعیاری مضامین کو منتخب کیاجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ دونوں نمبروں میں، حضرت شیخ الاسلام کا مضمون ،اعلیٰ درجہ پر فائز ہے۔حضرت شیخ الاسلام کہ بہت سی دینی و علمی خدمات کے ساتھ ،اُن کی یہ احسان شناسی ایسی ہے کہ:
آج ہم، حضرت شیخ الاسلام کی خدمات، ان کے احسانات کویاد کر کے ، دل کی گہرائیوں سے انہیں، خراجِ تحسین اور خراجِ عقیدت ،پیش کر رہے ہیں۔
ایک نہایت اہم پہلو کی طرف ،مَیں، آپ حضرات کی توجہ دلادوں کہ:
ہماری جماعتِ اہلِ سنَّت میں عُلما ،مشائخ اور بزرگوں کے وصال کے بعد تو بہت دھوم دھام کے ساتھ ،اُن کا عرس منایا جاتا ہے ۔لیکن ان کی زندگی میں کسی کا جشن ،شایدہی منایاجاتا ہے۔
آپ حضرات،بڑے خوش قسمت ہیں کہ سیمینار کی شکل میں ،حضرت شیخ الاسلام کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ان کی خدمات کا جشن، منارہے ہیں۔
یہ آپ حضرات کی احسان شناسی ہے جو تاریخِ اہلِ سنَّت میں یاد،رکھے جانے کے لائق ہے۔
1963 ء میں حضرت شیخ الاسلام، دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور سے فارغ الْتحصیل ہوئے۔ اور میرا داخلہ 1966ء میں وہاں ہوا تحصیلِ علم کے لئے۔ اور اپنی تعلیمی زندگی سے لے کر ، تدریسی زندگی تک ،لگ بھگ پندرہ سولہ سال، میں نے وہاں گذارے۔
حضرت شیخ الاسلام سے متعلق، ایک خاص بات، آپ حضرات کو بتلا دوں کہ:
اپنی تعلیمی زندگی کے زمانے سے تدریسی زمانے تک۔اور اس کے بعد بھی اب تک، اشرفیہ کے عُلما کے درمیان، جب بھی حضرت شیخ الاسلام کا ذکر آیا ہے، توایک تأثُّر، دل میں برجستہ  اوربلاتکلف اُبھراکہ :
بہت سے لوگ حضرت شیخ الاسلام کواچھی طرح،جانتے ہیں۔ بہت سے لوگ ،حضرت شیخ الاسلام کو، نہ صرف ،یہ کہ جانتے ہیںبلکہ انھیں مانتے بھی ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام، ایک علمی شخصیت ہیں۔ آپ کی علمی شخصیت ہونے کے بارے میں، مَیں نے عُلما کی محفل میں بارہا، سنا ہے۔
اشرفیہ، مبارک پور سے فارغ الْتحصیل ہونے کے بعد آپ نے چند کتابیں لکھیں ،تصنیف فرمائی۔ وہ بہت ہی معرکۃُ الآرا ہیں۔
کاش! وہ سلسلہ جاری رہتا تو آج ،دنیا ،چشمِ حیرت سے انہیں دیکھتی اور پڑھتی۔ کسی وجہ سے وہ سلسلہ ،منقطع ہوگیا ۔وہ، علم کا ابتدائی دَور تھا اور ان کی عجیب شان تھی۔
اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ حضرت شیخ الاسلام کی زندگی کا، یہ آخری جو دَور ہے جس میں آپ نے اشرف التفاسیر کے نام سے یا ۔تفسیرِ اشرفی کے نام سے جو عظیم الشان خدمت، انجام دی ہے، یہ خدمت بتا رہی ہے کہ آغاز بھی اچھا تھا اور انجام بھی اچھا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام کی تحریر اور تقریر میں، مَیں نے یہ محسوس کیا ہے کہ قدامت وجِدَّت دونوں کابہترین اِمتزاج اور دونوں کا سنگم ہے۔
ہمارا قاری، ہمارا سامع ،کس طرح سے ہماری بات کو سمجھ سکتا ہے؟ اس کے ذہن سے کیسے قریب ہو سکتی ہے ہماری بات؟ وہ سلیقہ،وہ اسلوب، آپ اپنی تقریر وتحریر میں استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ فصاحت وبلاغت کا اعلیٰ معیار ہے کہ مخاطَب اور سامع کے ذو ق ومزاج کو پیشِ نظر، رکھ کر، کوئی شخص، کوئی بات کہے تو وہ سامع اور مخاطَب کو بڑی آسانی کے ساتھ، سمجھ میں آجاتی ہے۔
بہت بھاری بھرکم الفاظ ، بھاری بھرکم تعبیرات ،بھاری بھرکم جملوں کے استعمال کا نام، فصاحت و بلاغت نہیں ہے۔ بلکہ آسان انداز سے سامع اورمخاطَب کے دل و دماغ میں بات  ڈال دی جائے ،یہی فصاحت و بلاغت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ حضرت شیخ الاسلام کو اِس باب میں اور اِس فن میںدرجۂ کمال ،حاصل ہے۔
یہاں آج کے اِس سیمینار میں، مَیں ایک بات، اپنی اِس گفتگو کے ذریعہ اور آپ حضرات کے واسطے سے، حضرت شیخ الاسلام کی بارگاہ تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ:
جس طرح سے آپ نے تفسیرِ اشرفی لکھ کر دنیائے اردو کواور دنیائے اہلِ سنَّت کو مالا مال  فرمایا ہے،اسی انداز کی کوئی اور عظیم دینی علمی خدمت، آپ انجام دیں، تو یہ ہم سب پر ،پوری جماعت پر ،آپ کا احسانِ عظیم ہوگا۔
میں اپنی اِس گفتگو کے ذریعہ بھی ان کی بارگاہ تک، یہ درخواست پہنچا رہاہوں اور آپ حضرات سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ:
جب ملاقات کی سعادت ،میسر آئے تو اپنی طرف سے یہ درخواست اور گزارش کریں کہ:
حضرت! جس طرح آپ نے تفسیرِ اشرفی لکھی ہے، اسی طرح ،اسی معیار، اسی انداز کا کوئی اورعلمی کارنامہ ،انجام دیں۔بہت سارے حضرات اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیںاور کچھ اور لوگ بھی کریں گے۔
میں، آپ حضرات کو اِس سیمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کر رہاہوں اور:
یہ جو علمی فکری مجلس اور محفل، آپ نے سجائی اور سنواری ہے، اس کا سلسلہ، کسی نہ کسی شکل میں آپ حضرات، آئندہ بھی جاری رکھیں۔ تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ ،خواص اور تعلیم یافتہ طبقے کے بھی ذوق کے سامان ،آپ ،فراہم کرتے رہیں۔
تعلیم یافتہ طبقے پر توجہ دینا ،نہایت ضروری ہے۔ تاکہ وہ، ہم سے ،مذہبِ اہلِ سنَّت سے جماعتِ اہلِ سنَّت سے ،وابستہ رہیں۔ اور اِدھر اُدھر جانے ،نہ پائیں۔ کیوں کہ عام طور پر، یہ دیکھا جاتا ہے کہ: جس کے پاس، دنیوی تعلیم ،زیادہ ہوجاتی ہے۔ جوکسی دنیاوی منصب پر فائز ہوجاتا ہے۔ جس کے پاس ،پیسے، زیادہ ہوجاتے ہیں ،وہ اِدھر اُدھر بھٹکنے لگتا ہے۔
آپ حضرات، اِس طرح کے پروگرام کے ذریعہ، اور صالح اور مفید لٹریچر کے ذریعہ، اس تعلیم یافتہ طبقے کو بھی اپنے ساتھ، وابستہ رکھیں اور ان کو مذہبِ اہلِ سنَّت سے ،جماعتِ اہلِ سنَّت سے وابستہ رکھیے اوراسے اپنے ساتھ جوڑے رکھیے۔
اِنْ شَاءَ اﷲ ،آپ حضرات کایہ بہترین کارنامہ ہوگا جو باعثِ اجروثواب ہوگا ۔اوراِنْ شَاءَ اﷲ ،آپ کو دیکھ کر، دوسرے حضرات بھی اور دوسرے شہر کے لوگ بھی ،یہ طور و طریقہ اپنائیں گے تو آپ کو ان کا بھی ثواب ملتا رہے گا۔ کیوں کہ فرمایا گیا ہے کہ :اَلدَّاعِی اِلیٰ الْخَیرِ کَفَاعِلِہٖ۔ کسی نیکی کی رہنمائی کرنے والا ، بالکل اسی طرح، اس کو ثواب ملے گا جیسے کرنے والا دوسرا کوئی پارہا ہو۔اس کی بات، دیکھ کر کے ،اس کا کام، دیکھ کر کے ،اسی کے انداز میں وہ نیکی کر رہا ہو۔بَس انہیں الفاظ کے ساتھ، میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحُمدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِین۔