استقراء وتمثیل

استقراء کی تعریف:
  استقراء کالغوی معنی تلاش کرنا،اصطلاحی معنی: وہ حجت جس میں جزئی سے کلی پراستدلال کیاجائے۔
وضاحت:
  اصطلاح منطق میں کسی کلی کی اکثر جزئیات کی تفتیش کر کے کسی خاص وصف کا حکم پوری کلی پر لگانا استقراء کہلاتا ہے۔ جیسے ہم نے دیکھا کہ انسان،فرس ،غنم، وغیرہ چباتے وقت نیچے والاجبڑا ہلاتے ہیں توہم نے تمام حیوانوں پر حکم لگا دیا کہ ہرحیوان چباتے وقت نیچے والا جبڑا ہلاتاہے۔
تمثیل کی تعریف:
  لغوی معنی: تشبیہ دینا،اصطلاحی معنی: وہ حجت ہے جس میں ایک جزئی کاحکم دوسری جزئی میں کسی ”علتِ مشترکہ”کی وجہ سے ثابت کیاجائے۔
وضاحت:
  ایک جزئی میں کسی خاص علت کی وجہ سے ایک حکم پایاگیا۔وہی علت کسی دوسری جزئی میں نظر آئی تو اس ”علت مشترکہ”کی وجہ سے پہلی جزئی کاحکم دوسری جزئی میں ثابت کردینے کا نام تمثیل ہے۔ جیسے خمرایک جزئی ہے ”علتِ نشہ”کی وجہ سے اسکا حکم حرام ہوناہے یہی نشہ کی علت ایک دوسری جزئی ”بھنگ” میں نظرآئی تواس ”علتِ مشترکہ” کی وجہ سے حرام ہونے کا حکم بھنگ پر بھی لگادیا گیا۔
  تمثیل میں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے :
  ۱۔ مقیس علیہ ( جس پر قیاس کیا گیاہو)
  ۲۔ مقیس ( جس کو قیاس کیا گیا ہو)
   ۳۔ علت
  ۴۔حکم ،مذکورہ مثال میں” خمر” مقیس علیہ۔ ”بھنگ” مقیس۔ ”نشہ” علت۔ اور”حرام” ہونا حکم ہے۔
نوٹ:
  استقراء وتمثیل سے حاصل ہونے والا علم ظنی ہوتاہے۔ استقراء سے اس لئے کہ ممکن ہے اس کلی کی کوئی ایسی جزئی بھی ہو جس میں وہ خاص وصف نہ پایا جاتاہواوروہ ہماری تلاش میں نہ آئی ہو اور تمثیل سے اس لیے کہ ہوسکتاہے جس چیز کوحکم کیلئے علت قراردیاگیا ہے وہ علت نہ ہوبلکہ علت کوئی اور ہو۔
٭٭٭٭٭