حضور شیخ الاسلام کے دس سالہ دور طالب علمی کے چند یادگار لمحات و واقعات

محمد عطاء النبی حسینی ابوالعلائی مصباحی

استاذجامعہ فیضان حاجی پیر ، مانڈوی ،کچھ گجرات۔

حضور شیخ الاسلام کے دس سالہ دور طالب علمی کے چند یادگار لمحات و واقعات

کچھوچھہ کیا ہے ، کہاں ہے کون جانتا تھا ؟ لیکن جب اسی کچھوچھہ کو ’’ تقدس و شرافت ‘‘ حاصل ہوئی تارک السلطنت مخدوم سمناں حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے تو آج کچھوچھہ نہیں بلکہ کچھوچھہ شریف اور کچھوچھہ مقدسہ کو کون نہیں جانتا ۔ پھر مخدوم سمناں رضی اللہ عنہ کے بعد اعلیٰ حضرت سیدی سرکار علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی ذات بابرکت سے جہاں سلسلہ اشرفیہ کو ترویج و اشاعت کی جو بلندیاں اور سرفرازیاں نصیب ہوئی وہیں کچھوچھہ مقدسہ کی شہرت و مقبولیت میں چار چاند لگ گئے ۔ اسی خانوادۂ اشرفیہ کا ایک ممتاز ، قابل فخر اور لائق تقلید فرزند نواسۂ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ محدث اعظم ہند ابو المحامد سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ تھے جن کے علم وعرفان ، عمل و کردار ، تصوف و ادب اور تہذیب و تمدن سے آراستہ و پیراستہ گھرانے میں یکشنبہ کی شب یکم رجب المرجب ۱۳۵۷ھ مطابق ۲۸ ؍ اگست ۱۹۳۷ء کو ایک خوبصورت و خوبرو اور حسین و جمیل نور پیکرصاحبزادے کی ولادت ہوئی ۔ یہ صاحب زادہ اور شہزادہ کو ہیں ؟ وہی :
جن کو دنیا سید محمد مدنی کے نام نامی اسم گرامی سے جانتی ہے ۔
جن کو ارباب علم و دانش شیخ الاسلام و المسلمین ،رئیس المحققین ، سند المتکلمین اور سید المفسرین جیسے عظیم و جلیل القاب و خطابات سے یاد کرتے ہیں ۔
جن کی شان میں اصاغر تو اصاغر معاصر کی زبانیں رطب اللسان ہیں ۔
جن کے دور طالب علمی کا حال یہ ہے کہ ’’ آپ کی علمی گہرائی ، وسعت مطالعہ اور عمیق نظری کے طلبہ ہی نہیں اساتذہ بھی قائل تھے ۔ بسا اوقات علمی مسئلہ میں بلا تکلف رائے لیا کرتے ۔‘‘  ( محدث اعظم نمبر ، ص : ۱۸۰ )
جن کو دور طالب علمی ہی میں بظاہر ناتواں کندھے پر محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کی سجادگی ملی اور آپ نے سجادہ نشینی کے بعد سجادگی کا حق جس خوش اسلوبی سے ادا کیا کہ دنیاے اہل سنت نے اپنی آنکھوں نظارہ بھی کیا اور اعتراف بھی ۔
جن کی شریعت پر استقامت اور تصلب فی الدین اس قدر قابل رشک ہے کہ ہمیشہ اشتراک و اختلاط سے دور رہے ۔ ’’ یہی وجہ ہے کہ بہت سی تحریکات افقِ ہند سے ابھریں لیکن ان سے شیخ الاسلام قطعی متاثر نہ ہوئے اور اسلاف کی راہ مستقیم پر رہ کر مسلک اہل سنت کی حفاظت و صیانت کے لیے بر وقت و درست فیصلے فرماتے ہیں۔ ‘‘  ( شیخ الاسلام حیات و خدمات ، ص : ۱۹ )
جن کی خدمات کا دائرہ صرف ہندوستان ہی تک محدود نہیں بلکہ ملکِ ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ہند کو بھی محیط ہے۔
جن کی شان فقیہانہ کا نظارہ کر کے غزالی زماں حضرت علامہ احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ نے ’’ رئیس المحققین ‘‘ جیسے بھاری بھرکم لقب سے بھی یاد فرمایا اور یوں خراج تحسین پیش کیا : ’’ تینوں فتاویٰ حضرت کی فہم و ذکا اور تحقیق و جستجو کا منہ بولتا شاہکار ہیں ۔ بے شک جناب کی ذہانت اور استنباط لائق صد ستائش اور قابل تحسین و آفرین ہیں ۔ آپ نے جس آسانی سے ایسے مشکل مسائل کو عام فہم انداز میں ڈھال کر حل فرمایا ہے وہ آپ ہی کاحصہ ہے ۔ بزرگانِ دین اور علماے امت کے مختلف اقوال کو جس عمدگی سے بیان فرمایا ہے اور جس حسن خوبی سے نبھایا ہے وہ آپ کے انشراح صدر اور علوم عقلی و نقلی میں مہارت تامہ کا مظہر اتم ہے ۔ خصوصاً طرزِ استدلال اور اندازِ تحریر باعث رشک ہیں ۔‘‘  ( وڈیو اور ٹی وی کا شرعی شرعی استعمال ، ص : ۱۱ )
جن کی مفسرانہ صلاحیتیں اور کمالات ملاحظہ کرنا ہو تو ’’ سید التفاسیر معروف بہ تفسیر اشرفی ‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جس کی شان یہ ہے کہ ’’ تفسیر اشرفی کو بلاشبہ سید التفاسیر قرار دینا وقت کا اہم تقاضہ ہے ، بلاشبہ اس تفسیر کو مقصدی اور انسانی زندگی کو حکم خدا کے تابع بنانے والی تفسیر سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ، غرض تفسیر اشرفی کے اسلاب میں جہاں سادہ و عام فہم الفاظ جلوہ گر ہیں وہیں لفظوں کی صوتی خصوصیات اور ان کی گہرائی و گیرائی سے یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ حضرت علامہ کو تحریر کا یہ وصف من جانب اللہ حاصل ہوا ہے ، اس لیے ان کی تفسیر میں کیفیاتی فضا جلوہ گر ہے ، جس سے دل متاثر ہوتے ہیں اور ذہن کے دریچے کھلنے کے علاوہ گہرائی و گیرائی کی وجہ سے عقل و  فراست کے بہترین نمونے جلوہ گر ہوتے ہیں ، اس قسم کا تحریری منفرد رویہ اردو کی بہت کم تفسیروں میں دکھائی دیتا ہے۔ ‘‘ ( شخص و عکس ، ص : ۹۰ )
جن کی محدثانہ عظمت و رفعت دیکھنی ہو تو ’’ شرح مشکوٰۃ المصابیح ‘‘ سے شاد کام ہونے کی سعادت حاصل کریں یہ اور بات ہے کہ شرح احادیث مشکوٰۃ کا یہ سلسلہ مکمل نہ ہو سکا لیکن جس قدر بھی شرح ہو سکی اس کا مطالعہ کرتے جائیں ’’ ہر ہر حدیث میں ایمان و اسلام ، عقائد و اعمال اور دوسری ضروریات دین اور ان کے جزئیات کا بیش بہا خزانہ موجود و محفوظ ہے جن کاجاننا ہر مسلمان کے لیے از حد ضروری ہے۔‘‘ ( الاربعین الاشرفی ، ص : ۱۱ )
جن کی خطابت کی شہرت و مقبولیت کےصرف عوام ہی نہیں بلکہ اہل علم و دانش اور ارباب علم و فن معترف ہیںاور کیوں نہ ہوں کہ آپ کی خطابت ایسی ہوتی ہے ’’ جس میں نہ لفاظی ہے ، نہ لطیفہ گوئی ، لطافت ضرور ہے ، عقیدے پر استقامت ، مسلک حقہ پر تصلب کا پیغام بھی اور مواد کی فراوانی بھی ۔ اس لحاظ سے آپ کی مقبولیت کا ایک پہلو ملکہ خطابت اور اسلوب کی دل کشی ہے ۔ آپ کے یہاں نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ ہی کلامی مباحث کی جلوہ آرائی ہے جس سے خطابت محض لفظوں کا انتخاب ہی نہیں بلکہ پیغام کی ترسیل کا باعث بھی ہے۔ ‘‘  ( حیات و خدمات ، ص : ۲۰ )
حالاں کہ آپ نے نہ کبھی دور طالب علمی میں کسی مشقی بزم میں شرکت کی اور بنیت مشق کسی انجمن میں شریک ہوئے اور ضرورت بھی کیا ہے کہ ’’مچھلی کے بچے کو تیرنا نہیں سکھاتے۔ ‘‘
جن کے تردیدی اور تنقیدی جلوے ’’ اسلام کا تصور الٰہ اور مودودی صاحب ‘‘ ، ’’ اسلام کا نظریہ عبادت اور مودودی صاحب ‘‘ اور ’’ دین اور اقامت دین ‘‘ ‘‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں جن میں ’’ آپ نے جماعت اسلامی ( مودودیت ) کے بانی و محرک ابو الاعلیٰ مودودی کے ایمان سوز تحریک و تحریف کی گرفت کرتے ہوئے قرآن و احادیث اور تفسیر و اقوال ائمہ اسلام کے دلائل و براہین سے بھر پور ، لاجواب طرز استدلال کے ساتھ خداداد قوت و استعداد و صلاحیت سے مودودیت کو مفلوج و بے بس کر کے رکھ دیا ، مودودیت کی مردودیت کو اجاگر کر کے بے نقاب کیا اور اسلام کو نکھار کر لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ‘‘  ( حیات و خدمات ، ص : ۵۰)
جن کی شعر و شاعری کی چاشنی بھی کیا ہے کہ جو ملاحظہ کرتا ہے کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ’’ شعر و سخن کے آئینے میں بھی ( آپ کو ) دیکھیے تو شعر کی زلف برہم سنوارتے اور سخن کے عارض پر غازہ ملتے نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی قندیل شعور آگہی سے ظلماتِ فکر و نظر کے دبیز  پردہ کو چاک کیا اور گم گشتگان راہ کو نشانِ منزل اور شمعِ ہدایت عطا کی ۔ ہر بڑے مفکر کی طرح آپ نے بھی اپنے اصول اور ایقان کی روشنی میں ایک فصیح و بلیغ و جدید کلام دنیا کو پیش کیا اور اپنی بانکی طبیعت سے گلشن شعر و سخن میں جذبہ محبت اور ولولہ عقیدت کا ایسا کشادہ و منفرد اور پر شکوہ تاج محل تعمیر کیا ہے جس کی خوب صورتی ، فن کاری، نئے نئے نقش و نگار اور انوکھے گل بوٹے دیکھ کر لوگ غرقِ حٰرت ہیں۔ آپ کی شاعری میں طلاقت لسانی ، سلاست زبانی ، طرزِ ادا کی دل آویزی ، اسلوبِ بیان کی دل کشی اور مضامین کی روانی و شگفتگی بدرجہ اتم موجود ہے ۔‘‘  ( حیات و خدمات ، ص : ۱۳ )
جن کی تصنیف و تالیف قابل قدر اور لائق مطالعہ ہوتی ہیں ۔ذرا ایک نظر اسماے کتب پر بھی ہوجائے :
قرآنیات:( ۱ ) تفسیر اشرفی (سید التفاسیر) ۔ 10 جلدیں۔ ( ۲ ) کنز الایمان اور دیگر تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ (محاسن کنز الایمان پر جامع رسالہ)۔( ۳ ) تفسیر سورہ ’’ و الضحیٰ ‘‘۔
حدیثیات 🙁 ۴ ) تفہیم الحدیث شرح مشکوٰۃ شریف ( جس کی تکمیل نہ ہوسکی ۔ اے کاش ۔۔۔ ) ( ۵ ) الاربعین الاشرفی۔ ( ۶ ) شرح حدیث ’’انماالاعمال بالنیات‘‘۔ ( ۷ ) تعلیم دین اورتصدیق جبریل امین۔( ۸ ) محبت رسول روح ایمان۔
اعتقادیات : ( ۹ ) مسلہ حاضر و ناظر۔( ۱۰ ) اسلام کا نظریہ ختم نبوت اور تحذیر الناس (رد نانوتوی و دیو بندیہ)۔( ۱۱ ) شرح التحقیق البارع فی حقوق الشارع۔  ( ۱۲ ) اشتراکیت۔
فقہیات : (۱۳ ) ویڈیو اور ٹی وی کاشرعی استعمال  ( تاریخی تحقیقی فتوی)۔( ۱۴ )کتابت نسواں اورعصری تقاضے۔
رد مودودیت : (۱۵ ) اسلام کا تصورالہ اورمودودی صاحب۔(۱۶ )  اسلام کا نطریہ عبادت اورمودودی صاحب۔(۱۷  )  دین اور اقامت دین۔ (۱۸)فریضہ دعوت و تبلیغ۔
تحقیقات و تنقیحات 🙁 ۱۹ ) تحریک دعوت اسلامی کاتنقیدی جائزہ۔(۲۰ ) مسلم پرسنل لاء یااسلامک لاء؟ (۲۱ ) دین کامل۔(۲۲ ) صحیفۂ ہدایت ۔
مقالات : (۲۳ ) مقالات شیخ الاسلام (حصہ اول)۔ (۲۴ ) مقالات شیخ الاسلام (حصہ دوم)۔
شعریات :  (۲۵ ) بارانِ رحمت،(۲۶)گلدستہ (۲۷) پارۂ دل۔
ان کتابوںمیں ’’ موضوعات کے اعتبار سے یہ رعایت رکھی ہے کہ جو کتابیں خالص عام مسلمانوں کے لیے لکھی گئی ہیں ان کا اسلوب عام فہم ، سادہ ہے دقائق سے گریز ہے ، بلکہ بعض  دقیق و ضروری عنوانات کو حتیٰ الامکان عام فہم بنانے کی کوشش کی ہے ۔ اس سبب سے علمی مباحث کی تفہیم بھی قدرے آسان و سہل ہو گئی ہے۔ ‘‘  ( حیات و خدمات ، ص :۲۱ )
ایسی عظیم و جلیل شخصیت کا ہر دور یقینا تاریخ کے صفحات میں محفوظ کیے جانے ، نسل نو تک پہنچانے ، اس سے سبق اور نصیحت کے گل بوٹے چنے جانے اور آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہوتا ہے ۔ حضور شیخ الاسلام و المسلمین ، رئیس المحققین ، سند المتکلمین ، سید المفسرین حضرت علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی دام ظلہ العالی کے ان ادوار میں سے ایک روشن ، درخشندہ ، تابندہ دور ’’ جامعہ اشرفیہ ‘‘ مبارک پور کا دس سالہ دور طالب علمی ہے جسے نذر قارئین کیا جائے گا لیکن اس سے قبل ’’ جامعہ اشرفیہ ‘‘ مبارک پور کی ایک مختصر تاریخ ، اس کے سرپرست اول اور شیخ اسلام کے زمانہ طالب علمی مں اشرفیہ کے سرپرست اور خانوادہ اشرفیہ کچھوچھہ کے صاحب زادگان کی فہرست پیش کرنا زیادہ مناسب ہوگا تاکہ خانوادہ اشرفیہ کا جامعہ اشرفیہ سے جو تعلق ہے وہ واضح ہوجائے۔
کونسا جامعہ اشرفیہ ؟
وہی جس کا وجود اعظم گڑھ کے ایک قصبے ’’ مبارک پور ‘‘ میں اس زمانے میں ہوا ’’جب مبارکپور میں آمد و رفت کی کوئی سہولت نہیں تھی  اس وقت شیخ المشائخ مولانا سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین صاحب اشرفی میاں ( میاں بابا) قدس سرہ ا لنورانی  اونٹنی پر سوار ہوکر کچھوچھا مقدسہ سے مبارک پور آئے تھے ، انہوں نے رشدوہدایت کا سلسلہ شروع کیا ، رفتہ رفتہ ان کے گرد مبارک پور کے سنی مسلمان اکھٹے ہوگئے حضرت میاں بابانے لوگوں پر زور دیا کہ’’دین کی ترویج واشاعت کے لئے ایک درسگاہ ضروری ہے۔‘‘  ( حیات مخدوم الاولیا ، ص : ۳۴۴ )
وہی اشرفیہ جس کبھی ’’ مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا کیوں کہ ’’ مبارک پور میں باقاعد ہ دینی درسگاہ کے موجد محرک اور بانی حضرت میاں بابا (اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی )رحمۃ اللہ علیہ حضرت محبوب یزدانی غوث صمدانی مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان ذی شان سے متعلق تھے ۔اس لئے اس درسگاہ کا نام مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم  رکھا گیا، اور مدرسہ کے دیکھ بھال کے لئے جاں نثار ان اشرفیہ کی خواہشات کے مطابق بانی ادارہ حضرت میاں بابا رحمۃ اللہ علیہ کو مدرسہ کا سرپرست مقرر فرمایا۔ ‘‘  ( مصدر سابق ، ص : ۳۴۴ )
وہی اشرفیہ جس کو بحیثیت سرپرست اول شبیہ غوث اعظم مخدوم اولیا اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ جیسی بے مثال شخصیت کی سرپرستی حاصل ہوئی پھر کیا تھا ’’ زمانے کی  تبدیلیوں کے ساتھ کچھ دنوں کے بعد مبارک پور اور مضافات کے سنیوں نے اسے مزید ترقی دینے کے لئے ایک جدید عمارت کی ضرور ت محسوس کی اور اسی خاندان کے افراد میاں محمد سعید ، محمد رفیق ، محمد امین سابق صدرمدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم اور محمد عمروغیرہم نے اپنے خاندان کی جس نے محلہ پرانی بستی کا مکان وقف کیا تھا ، سابقہ روایات کو باقی رکھتے ہوئے ایک ایسی زمین جدید عمارت کے لئے وقف کی جو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے کافی اہم اور قیمتی تھا اور مبارک پور کے سنی عوام نے جدید تعمیر کیلئے ایثار وقربانی کا اتنا زبردست مظاہرہ کیا کہ لوگوں کو چندہ دینے سے روکنا پڑا، خواتین نے تقریباً اپنے تمام زیورات مدرسہ پر نچھاور کردیے اور دیکھتے دیکھتے موجودہ عمارت تعمیر کے مراحل طے کرنے لگی ، عوام نے صرف مالی امداد نہیں کی فی سبیل اللہ مٹی گارے کا کام بھی کرتے تھے ۔‘‘  ( مصدر سابق ، ص : ۳۴۴ )
وہی اشرفیہ جس کو اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ ہی کے زمانہ سرپرستی ۹ شوال ۱۳۵۲ھ مطابق ۱۴جنوری ۱۹۳۲ء میںروحانی اشرفی شہزادے جلالۃ العلم ابو الفیض حضور حافظ ملت حضرت علامہ مولانا الشاہ عبد العزیز صاحب محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کو بلایا اور بیرونی جات سے طلبہ کی آمد شروع ہوگئی اور دومولوی صاحبان مقرر کئے گئے۔
وہی اشرفیہ جس کو ۱۳۲۹ھ مطابق ۱۹۱۱ ء سے ۱۳۵۵ھ مطابق ۱۹۳۶ء زندگی بھر تقریباً ۲۶ سالوں تک اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی سرپرستی و نگرانی میں پلنے ، بڑھنے ، پھلنے ، پھولنے ، اڑنے اور ترقی کے منازل طے کرنے کا شرف حاصل رہا ۔
وہی اشرفیہ جس کی۱۳۵۳ھ میں جدید عمارت کی تعمیر کے لیے حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ بذات خود مبارک پور تشریف لائے اور بعد جمعہ اپنے مقدس ہاتھوں سے مدرسہ کی جدید عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور اشرفیہ کی ترقی و خوش حالی کی دعا کرنے کے بعد اسی موقع پر ارشاد فرمایا : ’’  مدرسہ بہت ترقی کرے گا ، فتنہ بھی بہت اٹھے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہے۔ ‘‘  ( مصدر سابق ، ص : ۳۴۷ )
وہی اشرفیہ جس کو اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی بظاہری سرپرستی سے محرومی کے بعد اس فقید المثال ذات گرامی کی سرپرستی حاصل ہوئی جو یقینی اور حقیقی طور پر اس کے مستحق تھے اور وہ ذات والا تبار ابو المحامد حضرت علامہ سید محمد اشرفی جیلانی محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کی ذات ہے ۔  وہی اشرفیہ جس کو ’’ حضرت محدث اعظم ہند کی جاندار سرپرستی اور ارکان دار العلوم غلامان سلسلہ اشرفیہ کی غیر معمولی جد و جہد اور ایثار و اخلاص نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کے منازل طے کرانا شروع کرا دیے ۔
وہی اشرفیہ جس کا تعلیمی معیار حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں ایسا تھا کہ ’’ اساتذہ وقت اور غیر معمولی سوچ رکھنے والے مستعد علما حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب اشرفی بھاگل پوری ، حضرت مولانا غلا جیلانی اعظمی ، حضرت علامہ عبد المصطفیٰ ازہری ، حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی ( علیہم الرحمہ ) نے دار العلوم کے تعلیمی معیار کی دھاک جمادی۔ ‘‘  ( مصدر سابق ، ص : ۳۴۷ )
وہی اشرفیہ جس کو حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کی مضبوط و مستحکم سرپرستی کا سایہ تلے نشیب و فراز کے بھنور سے نکلنے کا حوصلہ ملتا رہا ۔
وہی اشرفیہ جس سرپرستی کا سہرا حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کے بعد سرکار کلاں حضرت سید مختار اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کے سر پر سجا ۔
ابناے خانوادہ اشرفیہ جو ابناے اشرفیہ ہوئے :
بزرگانِ خانوادہ اشرفیہ و سرپرستانِ دار العلوم اشرفیہ کی اشرفیہ پرنگہ کرم کس قدر رہی اور اس کے تعلیمی و تربیتی نظام سےکتنا مطمئن و متاثر تھے ؟ اس کا اندازہ اس سے بخوب لگایا جا سکتاہے کہ خانوادہ اشرفیہ کے اکثر مشاہیر علما یکرام و مشائخ عظام نے دار العلوم اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی اور بعد فراغت مسلک و مذہب کی ترویج و اشاعت کے کارنامے انجام دیے اور کارناموں کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ ان میں سے چند کے اسماے گرامی یہ ہیں: اشرف المشائخ حضرت سید مجتبیٰ اشرف ، اشرف العلما حضرت سید حامد اشرف ،شیخ الاسلام حضرت سید مدنی اشرف ، شیخ اعظم حضرت سید اظہار اشرف ، خطیب الہند حضرت سید کمیل اشرف ، حضرت سید جیلانی اشرف اشرفی ، حضرت مولانا سید موصوف اشرف ، حضرت مولانا حکیم سید احمد حسین کوثر ، مولانا سید احمد اشرفی ، مولانا سید ملیح اشرف ، پیر طریقت حضرت سید تنویر اشرف ، حضرت سید فہیم اشرف ، مولانا حضرت سید جلال الدین اشرف ، حضرت مولانا سید احمد اشرف ۔مذکورہ تمام شخصیات کا دور طالب علمی رہا ہے اور خوب رہا ہے لیکن حضور شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی مدظلہ العالی کے دور طالب علمی کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ حضور شیخ الاسلام کی جامعہ اشرفیہ مبارک پور جو اس وقت ’’ دار العلوم اشرفیہ ‘‘ تھا میں کب حصول علم کے لیے تشریف لائے اور کون سی کتاب سے کہاں تک کی کتابیں زیر درس رہیں ؟ تو حضور شیخ الاسلام ان چند فرزندان اشرفیہ میں سے ہیں جن کی از ابتدا تا انتہا مکمل تعلیم اشرفیہ میں ہوئی ۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ ’’ شیخ الاسلام کو چودہ سا ل تین ماہ دس دن کی عمر میں بتاریخ ۱۰ ؍ شوال المکرم ۱۳۷۱ھ دار العلوم اشرفیہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے والد محترم حضور محدث اعظم ( علیہ الرحمہ ) نے داخل کیا ۔ فارسی سے لے کر بخاری شریف تک ، مرقات سے لے کر شرح چغمنی و شرح اشارات تک سیکڑوں کتابیں پڑھیں ۔ ایسی کتابیں بھی زیر تعلیم رہیں جنہیں دینی مدارس سے دائمی فراق مل چکا ہے۔ ‘‘ ( خطبات برطانیہ ، ص : ۱۰۔ ۹ )
اور خود صاحب تذکرہ شیخ الاسلام اس حوالے سے فرماتے ہیں :
’’ تحصیل علم کے لیے میں ۱۹۵۲ء کو مدرسہ اشرفیہ میں داخل ہوا اور ایک ہی ادارے میں مکمل دس سال رہ کر ۱۹۶۲ء میں فضیلت کی سند لی ۔‘‘  (اشرف العلما نمبرص : ۹۰)
فارسی سے بخاری اور مرقات سے شرح چغمنی و شرح اشارات تک کتنے سال مادر علمی میں گزارے اور بحیثیت طالب علم آپ کے ایام تعلیم کس طرح گزرے ۔ اس کا جواب ملاحطہ کرنے کے بعد ہر نیک طبیعت اور نیک طینت کا دل جھوم جھوم جائے گا کیوں کہ جس اندازمیں آپ کے لمحات وہاں گزرے یقینا وہ قابل رشک اور لائق نمونہ ہے ۔ مولانا سید جیلانی اشرف اشرفی جیلانی صاحب ، حضور شیخ الاسلام کے زمانہ طالب علمی کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’ مبارک پور میں دس سال کا طویل عرصہ حصول علم کی غرض سے گزرا ۔ دار العلوم اشرفیہ کے اساتذہ و ارکان گواہ ہیں کہ شیخ الاسلام نے تعلیم و تعلم کے سوا کسی بھی تحریک و تنظیم میں حصہ نہیں لیا ۔ ذیل کا خاکہ بتا رہا ہے کہ وہ زمانہ طالب علمی کے ایک ایک لمحہ کو آئندہ حیات کے لیے قیمتی سمجھتے تھے :
( ۱ ) طلبہ کی گروہ بندی سے الگ رہے ۔
(۲ ) اساتذہ کے گروپ سے ان کا تعلق نہ تھا ۔
( ۳ ) ہفتہ واری مشقی جلسہ میں عملی حصہ کبھی نہیں لیا ۔
( ۴ ) ارکانِ ادارہ کے تنازعات میں کبھی دل چسپی نہیں لی ۔
( ۵ ) دار العلوم کے نظر و نسق میں مداخلت سے گریز کرتے رہے ۔
( ۶ ) اساتذہ کے احترام کے سوا کسی کے خلاف کوئی محاذ نہیں بنایا ۔
( ۷ ) طلبا کے احتجاجی جلوس میں کبھی شرکت نہیں کی ۔
( ۸ ) کھیل کود ،دھینگا مستی سے ہمیشہ دور رہے ۔
( ۹ ) دار العلوم کے قوانین کی خلاف ورزی کبھی نہیں ہوئی ۔
( ۱۰ ) ہائی کمان سے کسی استاذ ، ملازم یا طالب علم کی شکایت نہیں کی ۔
( ۱۱ ) سیاسی و عوامی تحریکوں سے اپنے کو الگ تھلگ رکھا ۔ ‘‘
اور تعلیمی اعتبار سے آپ کی مصروفیات اور کاکردگی کچھ اس طرح تھی :
’’ ( ۱ ) بلاناغہ اسباق میں حاضری اور ہر سبق کے بعد تکرار ۔
( ۲ ) ۱۱ ؍ بجے شب دار العلوم کے سارے طلبا آرام کرتے مگر وہ رات گئے تک مطالعہ میں غرق رہتے ۔
( ۳ ) حوائج ضروریہ کے بعد جوکچھ وقت بچتا تحقیقی مضامین لکھنے اور غیر درسی کتب بینی میں صرف ہوتا ۔
( ۴ ) نماز عصر و مغرب کے بعد آبادی سے پرے تفریح کرنا اور یہ عرصہ بھی شعر و شاعری میں گزارنا ۔ ‘‘
اب ان اجمال کی مختصر تفصیل بھی سپرد قرطاس کرنے کی سعی ہونی چاہیے تاکہ نسل نو کو آگاہی حاصل ہو اور وہ بھی اپنی زندگی کو ان نقوش سے آراستہ و پیراستہ کر کے کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہوں۔ لیجیے تفصیل اجمال نظر نواز ہے ۔
وقت کی قدر :
ایک طالب علم کے لیے حصول علم کی راہ میں سب سے پہلے اپنے وقت کی قدر اور حفاظت نہایت ضروری امر ہے ورنہ مقصد اصلی سے دوری کوئی بعید امر نہیں ۔ کامیاب طالب علم ہوتا بھی وہی ہے جس نے اپنے وقت کی قدر کی ہوتی ہے ورنہ وقت گزاری سے سند تو حاصل کی جاسکتی لیکن وقت کے صحیح استعمال سے صلاحیت و لیاقت اور استعدادی قوت کی جو دولت حصے میں آنی چاہیے اس سے محرومی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔حضور شیخ الاسلام کے دور طالب علمی پر نظر کریں تو آپ کے زمانہ طالب علمی میں وقتِ عزیز کی قدردانی خوب خوب جلوہ گر نظر آئے گی ۔ چناں چہ خود  حضور شیخ الاسلام مد ظلہ العالی اپنے مامو ںاشرف العلما علیہ الرحمہ کی نگرانی اور اپنے وقت کی قدردانی کے بارے میںرقم طراز ہیں :
’’ اشرف العلما کی ہدایت اور ان کی کڑی نگرانی نے میرے سارے اوقات کو مصروف کردیا اور صرف عصر سے مغرب تک کا وقت ہی تفریح اور ہوا خوری کے لیے خالی رہ گیا جس کا فائدہ بحمدللہ میں آج بھی محسوس کرتا ہوں جب کہ اشرفیہ چھوڑے ہوئے تقریباً ۴۵ سا ل ہو گئے۔ ‘‘  ( اشرف العلما نمبر ، ص : ۹۱ )
وقت کی حفاظت و صیانت ، وقت کی کفایت شعاری اور وقت کی قدر دانی کے معترف آپ کے رفقا بھی تھے ۔چناں چہ آپ کے ایک رفیق- مشہور نقاد و ادیب حضرت علامہ محمد فضل الرحمٰن شرر مصباحی صاحب قبلہ لکھتے ہیں :
’’ مدنی میاں اپنی جماعت کے طلبہ میں کئی اعتبار سے منفرد تھے ، کم گو تھے ، کام سے کام رکھتے تھے ، طلبہ کے باہمی مناقشات سے دور رہتے تھے ، اپنے کمرے میں دیوار پر اپنے مشاغل کا نظام الاوقات چسپاں کر رکھا تھا جس پر وہ سختی سے عامل تھے ، اس کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ دوسرے طلبہ ان اوقات میں تضییع اوقات نہیں کرتے تھے بلکہ گمانِ غالب ہے کہ اسی مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ حکمتِ عملی اختیار کی گئی تھی۔ ‘‘  ( جام نور ستمبر، ۲۰۱۰ ، ص : ۲۲)
شوقِ حصول علم :
تجربات و مشاہدات سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم و تعلم کا سلسلہ خیر دو چیز کے ذریعہ جاری رہتا ہے : ( ۱ ) شوق ( ۲ ) خوف ۔ یعنی کوئی طالب علم دل جمعی اور فرحت و نشاط کے ساتھ اسی وقت تعلیم کے حصول میں منہمک رہتا ہے جب کہ اسے حصول علم کا شوق ہو یا شوق مفقود ہو تو کم از کم والدین یا اساتذہ کی ناراضگی یا سختی کا خوف ہو اور اگر یہ دونوں چیزیں عنقا ہیں تو شاید حصول علم کا سفر زیادہ دیر تک جاری نہ رہے بلکہ منزل مقصود سے قبل ہی سفر کا سلسلہ منقطع ہوجائے ۔ حضور شیخ الاسلام کی ذات بابرکت کے اس پہلو پر نظر دوڑائیں تو خوشی کی انتہا نہیں رہتی کہ اس ذات بابرکت  کو حصول علم کا صرف شوق ہی نہیں بلکہ شوق در شوق در شوق تھا ۔ یہی سبب ہے کہ دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخلے کے بعد ’’ جو کتاب بھی زیر درس رہی اسے سب پڑھ ڈالا ۔ استاذ تو متعینہ باب ہی تک پڑھا کر فرض پورا کر دیتا لیکن یہ تھے کہ اپنی استعداد سے اس کی تکمیل کر لیتے ۔ میزان سے لے کر بخاری تک ہر جماعت میں ایک سے ایک ذی استعداد ساتھی تھے مگر ان کی فکر و فراست سب پر غالب رہتی ایک دور ایسا بھی آیا جہاں دار العلوم اشرفیہ کا نصابِ تعلیم بھی خاموش نظر آیا متعینہ درس نظامیہ کی ساری کتب سے فیضیاب ہونے کے بعد بھی حصول علم کی پیاس نہ بجھ سکی ۔ معقولات کی کتب متداولہ سے دل چسپی بڑھی ، خوش بختی کہ اس وقت جامع معقولات حضرت علامہ عبد الرؤف نائب شیخ الحدیث اور مفکر اسلام حضرت علامہ مظفر حسن ظفر ادیبی کا طوطی بول رہا تھا ۔ شیخ الاسلام کی گہری دل چسپی اور ٹھوس استعداد کا علم دونوں کو تھا ۔ دونوں نے معقولاتی کتب کے بڑی محنت و جافشانی سے اسباق پڑھائے ۔ اول الذکر کی شفقت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر ہوتے اور دو بجے رات تک منطق اور فلسفہ کے ادق اور خشک مسائل پر بحث و مباحثہ کرتے اور کسی بھی مسئلے کو خواہ کتنے دن لگ جاتے تشنہ نہ رہنے دیتے۔ ‘‘  ( خطبات برطانیہ ، ص : ۱۱ )
تحصیل علم دین کا شوق اس قدر آپ پر غالب تھا کہ مدرسہ تو مدرسہ جب گھر کچھوچھہ شریف تشریف لاتے تو یہ شوق انہیں چین سے رہنے نہ دیتا بلکہ ’’شیخ الاسلام سالانہ چھٹی کو ضائع نہ ہونے دیتے ۔ گھر آکر اپنے والد گرامی حضور محدثِ اعظم ہند سے علمی استفادہ فرماتے ۔ سرکارِ محدثِ اعظم ہند سال بھر کی تعلیم کا جائزہ بھی لیتے اور پھر وہ تمام رموز و نکات فرمادیتے جس سے آج کل کے مدارس محروم ہی ہیں ۔‘‘  ( خطبات برطانہ ، ص : ۱۲)
حضورشیخ الاسلام کی علم دین کے حصول کی تڑپ سے ہر استاذ اور خاندان کے افراد بھی واقف تھے جس کے سبب اساتذہ کی نظر کرم اور عنایتںبھی ہوتی ۔ آپ کے خاندانی رشتے میں مامو ںاور سفر علم کے استاذ و رہنما حضرت اشرف العلما علامہ سید حامد اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ دار العلوم اشرفیہ میں تعلیم و تعلم کے تعلق سےآپ پر توجہ تو دیتے ہی تھے لیکن جب گھر پر آپ کی آمد ہوتی تو وہاں بھی اشرف العلما آپ پر  شفقتیں فرماتے ۔ خود حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ جب( اشرف العلما ) تعطیل کلاں کے موقع پر کچھو چھہ تشریف لاتے تو وہاں بھی میرے گھر آکر پابندی کے ساتھ کسی نہ کسی اہم کتاب کا درس دیا کرتے۔ ‘‘  ( اشرف العلما نمبر ، ص : ۹۰ )
حضور شیخ الاسلام کا علم دین سے قلبی لگاؤ اور شوق حد جنون ہی کا نتیجہ تھا کہ تعلیم کے آخری سال کے دوران آپ کو ایسے وقت کا سامنا ہوا جس وقت میں بہتوں کے پائے استقلال میں لغزش آجایا کرتی ہے ، ایسے صبر آزما لمحات بھی آئے جن میں اچھے اچھوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجایا کرتا ہے ، ایسے حوصلہ شکن واقعہ بھی روبرو ہوا جس سے ہمت و قوت والے کے حوصلے شکن ہو جایا کرتے ہیں لیکن آپ نے ایسے حادثہ جانکاہ میں بھی اپنے عزم و استقلال اور صبر و شکر میں کوئی کمی نہ آنے دی اور اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھا ۔ جانتے ہیں وہ حادثہ عظمیٰ کیا تھا ، معلوم ہے وہ دل دہلا دینے والا وقت کون سا تھا ؟ تو سنیے وہ دل دوز اور المناک واقعہ تھا حضور محدث اعظم ہندعلیہ الرحمہ کے وصال کا ، یہ وقت تھا ایک کم سن طالب علم (شیخ الاسلام ) سید محمد مدنی کے سر سے والد محترم کی عظیم شفقتوں کے سایہ کے اٹھ جانے کا ۔ جی ہاں ’’ ابھی شیخ الاسلام دار العلوم اشرفیہ میں زیر تعلیم ہی تھے کہ اچانک والد محترم مخدوم الملت حضور محدث اعظم ہند کا وصال ۱۶ ؍ رجب المرجب ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۵ ؍ دسمبر ۱۹۶۱ء کو ہوگیا ۔ شیخ الاسلام کی زندگی کا یہ عظیم حادثہ تھا ۔ ایک ایسا حادثہ جس کی تاب وہ ہرگز نہ لا پاتے مگر والد محترم کی روحانی طاقت نے دستگیری کی ، وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جو برسہا برس کی محنتِ شاقہ کے بعد بھی حاصل نہ ہوتا۔ ‘‘ ( خطبات برطانیہ ، ص : ۱۳ )
اس واقعہ فاجعہ کے بعد ہی حضور شیخ الاسلام کے بظاہر ناتواں دوش پرایک عظیم ذمہ داری دے دی گئی اور ’’ مخدوم الملت حضور محدث اعظم ہند کے عرس چہلم منعقدہ شوال المکرم ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۲ء کے  موقع پر اکابرینِ اسلام ، اساطینِ خاندان ، قائدین امت، عمائدینِ ملت، مشائخینِ طریقت نے ہزاروں مریدین ، متعلقین اور متوسلین کے اجتماع میں شیخ الاسلام کو مخدوم الملت کا جانشین منتخب فرمایا۔ اس طرح ملک اور بیرونِ ملک پھیلے ہوئے لاکھوں عقیدت کیشوں کی قیادت و ہدایت کی ذمہ داری کا فریضہ سپرد کر دیا گیا۔‘‘  ( خطبات برطانیہ ، ص : ۱۷ )
لیکن اس عظیم و جلیل فریضہ کے بعد کیا حضور شیخ الاسلام نے اپنی تعلیم اور تکمیل دورہ حدیث کی طرف توجہ نہ دی ۔ نہیں ! ’’ شیخ الاسلام نے انتخابِ جانشینی کے بعد بھی ایک سال دار العلوم اشرفیہ کو مزید دیا اور دورہ حدیث کی تکمیل کرتے ہوئے جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت مد ظلہ العالی -شیخ الحدیث دار العلوم اشرفیہ کے خوشہ چینوں میں اپنے کو شامل کیا اور پچیس سال ایک ماہ دس دن کی عمر میں ۱۰ ؍ شوال المکرم ۱۳۸۲ھ مطابق جنوری ۱۹۶۳ء کو سند فراغت و دستارِ فضیلت سے نوازا گیا۔ ‘‘  ( خطباتِ برطانیہ ، ص : ۱۷ )
ذوقِ مطالعہ :
جب ایک طالب علم وقت کو ہزار نعمت جانے ، اس کی نگہداشت اور قدر دانی کرے ساتھ ہی حصول علم دین کا شوق و جذبہ بھی درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہو تو اس طالب علم کا اب ایک ہی معمول ہوگا اور وہ ہے کتابوں سے دوستی ، کتابوں کی یاری ، کتابوں کی اوراق گردانی ، کتب بینی اور مطالعہ کتب۔ حضور شیخ الاسلام کی طبیعت میں تحصیل علم کاجذبہ صادق انگڑائیاں لے رہا تھا جس کے سبب آپ کی صرف ایک ہی دھن تھی کتب بینی ، کتب بینی، کتب بینی ۔ اور اس دھن میں آپ یہ نہ دیکھتے کہ مدرسہ ہے یا بیرونِ مدرسہ بلکہ جہاں جس کتاب کی نیت کر لی اس کو مطالعہ کی لذت سے ضرور شاد کام کرتے ۔ درسی کتابوں کے تعلق سے حضور شیخ الاسلام نے اپنے شفیق استاذ اورمامو ںاشرف العلما حضرت سید حامد اشرف اشرفی مصباحی علیہ الرحمہ کی اس نصیحت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا کہ ’’ جو سبق کل پڑھنا ہے ایک روز پہلے اس کا پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ مطالعہ کرنا ضروری ہے اور مطالعے میں اس کو خود ہی زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کرنا ، اب اگر کوئی نئی بات  سامنے آجائے جس کو سمجھنے کے لیے استاذ کی مدد ضروری ہے تو اس پر دھیان رکھنا اپنے اوپر لازم کرلے ۔ اور پھر دوسرے دن استاذ کے سامنے پہنچ کر نہایت ہی توجہ کے ساتھ استاذ کی تقریر سنے اور دیکھے کہ جو اس نے سمجھا اور جو استاذ سمجھا رہے ہیں ان دونوں میں یکسانیت ہے کہ نہیں ۔ یکسانیت نہ ہونے کی صورت میں وہ غور کرے کہ اس کو عبارت کا مفہوم سمجھنے میں کہاں غلطی ہوئی اور اگر بالفرض وہ اپنے ہی سمجھے ہوئے کو صحیح سمجھ رہا ہے تو وہ استاذ سے بحث کرے ۔ اس طرح بحث و مباحثہ طالب علم کے لیے بہت دور رس نتائج کا حامل ہوتا ہے ۔ جس طرح وہ مرید نالائق ہے جو پیر سے ’’ کیوں ‘‘ کرے ، اسی طرح وہ شاگرد نالائق ہے جو استاذ سے ’’ کیوں ‘‘ نہ کرے ‘‘ ۔ ( اشرف العلما نمبر ، ص : ۹۰ )
اشرف العلما علیہ الرحمہ کی مذکورہ نصیحت کو اپنی زندگی میں نمونہ عمل بنانے ہی نے آپ کے اندر کتب بینی کا جذبہ پیدا کیا اور نہ صرف پیداکیابلکہ مطالعہ کتب کو حرزِجاں بنا دیا ورنہ صرف پندرہ سال کی عمر میں یہ واقعہ کیوں کرپیش آتا کہ ’’ شفیق جون پوری ( جو ) اردو شعریات میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں ذی علم شخصیت کے مالک تھے ۔ ان کے بھائی نے ایک عظیم الشان کتب خانہ سجا رکھا تھا ۔ ایک سے ایک نایاب کتب اس ذخیرہ کی زینت تھیں ۔(ا مام المنطق)  مولانا فضل امام جو(معلم رابع ) مولانا فضل حق ( خیر آبادی علیہما الرحمہ) کے والد بزرگوار تھے علم منطق میں طاق تھے ۔ ان کی ایک کتاب جو منطق اور اس کے مبادیات سے متعلق تھی ، اسی کتب خانے میں موجود تھی ۔ کتب خانے سے فیض اٹھائے جانے کی دعوت و اجازت عام تھی ، ایک شرط کے ساتھ کہ کتاب کا مطالعہ کتب خانے میں ہی کیا جائے ۔ مطالعہ کے شوقین مدنی میاں کے لیے یہ شرط کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی تھی ۔ انہوں نے لائبریری میں دو سے ڈھائی گھنٹہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا ۔ اور طئے کیا کہ کیوں نہ یہ کتاب نقل کرکے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس محفوظ کر لی جائے ۔ طویل نشستوں کا سلسلہ تین دن چلا کہ مستقبل کے اس عالم منطق و فلسفہ کو برادر زادہ شفیقؔ نے کتاب ہی حوالے کر دی اور کہا اگر مجھے آپ کے اس درجہ اشتیاق کی خبر پہلے ہوتی تو آپ کو اتنی زحمت نہ اٹھانی پڑتی ۔ علم  دوست اس پندہ سالہ طالب علم نے تیسرے دن عربی زبان میں لکھی ادق منطق کتاب کو یہ کہ کر لوٹا دیا کہ جناب یہ کتاب بطورِمخطوطہ میرے پاس محفوظ ہو گئی ۔‘‘  ( محدث اعظم نمبر ، ص : ۱۷۶ )
اسباق کی تکرار :
اگر طالب علم وقت کا قدر داں ، تحصیل علم دین کا شائق ہو اور مطالعہ کتب کا عادی بھی ہو تو یقینا اس طالب علم کی قابلیت ، صلاحیت ، لیاقت اور استعداد میں جو استحکام اور پختگی کے جلوے ہی جلوے ہوں گے لیکن اس کے باوجود ضروری نہیں کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو صحیح طریقہ پر واضح کرکے اپنے طلبہ یا اپنے مخاطب کی تفہیم کر سکے ۔ ہاں اگرمذکورہ اشغال و افعال کے ساتھ ساتھ اسباق کی تکرار کرتا رہے تو امید قوی ہے کہ اپنے مافی الضمیر سے لوگوں کو مطمئن کرنے کی صلاحیت سے سرفراز ہوجائے ۔مزید اسباق کی تکرار کاایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مکرِر اگر افہام و تفہیم میں غلطی کا شکار ہوجائے تو اس کے رفقائے درس کے ذریعہ اصلاح ہوجائے گی ۔ حضور شیخ الاسلام دور طالب علمی میں جہاں وقت کا صحیح استعمال ، حصول علم میں محنت و مشقت اور جد و جہد اور کتابوں کا مطالعہ فرمایا کرتے تھے وہیں درس گاہ میں پڑھے ہوئے اسباق کی تکرار بھی فرماتے ہیں ۔ چناں چہ آپ خود اشرف العلما علیہ الرحمہ کا نظریۂ اسباقِ تکرار بیان فرمانے کے ساتھ اپنی تکرار کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’ پوری توجہ کے ساتھ مطالعہ کرنے ،پھر ہوش و حواس کی کامل بیداری کے ساتھ استاذ سے پڑھ لینے کے بعد تیسرا کام ہے آپس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسی سبق کی تکرار ، جس میں ایک سمجھاتا ہے اور باقی سنتے اور سمجھتے ہیں اور بالفرض اگر سمجھانے والا غلطی کرے تو دوسرے ساتھی اس کی اصلاح کرتے ہیں اور اس کو سہارا دیتے ہیں ۔ مناسب یہ ہے کہ روزانہ تکرار کرانے والا الگ الگ ہو تاکہ ہر ایک میں سمجھانے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے ۔ اس سلسلے میں میرے اپنے ساتھیوں کی مہربانی سے یہ کام یعنی تکرار میں ہی کراتا تھا ۔تکرار کے بعد اسباق کو بخوبی یاد کرلینے کی منزل آتی ہے۔ ‘‘  ( اشرف العلما نمبر ، ص : ۹۰ )
اور حضرت علامہ جیلانی اشرف اشرفی آپ کی تکرارِ اسباق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ جس استاذ سے پڑھا خوب پڑھا ۔ سارے ساتھی تھک جاتے ،شیخ الاسلام نہ تھکتے تھے ۔ مطالعہ کے بغیر کوئی سبق نہیں پڑھتے تھے اور تکرار کے بغیر دوبارہ سبق نہیں لیتے تھے ۔ سبق پڑھنے کے بعد اپنے ہم سبقوں کو پڑھایا کرتے تاکہ اگر نہ سمجھا ہو تو سمجھ لیں یا سمجھا دیں ۔‘‘  ( خطباتِ برطانیہ ، ص : ۱۰ )
اساتذہ کا اعتماد :
کسی طالب علم پر اساتذہ کی شفقت ،محبت ، الفت ہو تو ضروری نہیں کہ اس پر اساتذہ علمی اعتبار سے بھی مطمئن ہو ں اور اس کی رائے کو قبول کر لیں ۔لیکن جس طالب علم کا مکمل دور طالب علمی محنت ، محنت اور محنت سے عبارت ہوتو ظاہر ہے کہ زمانہ تحصیل علم میں جس کی کیفیت کا یہ عالم ہو تو اس کی صلاحیت و قابلیت اور استعداد و لیاقت میں نکھار ہی نکھار کے جلوے ہوں گے اور جو طالب علم اس مرتبہ کو پہنچ جائے تو اساتذہ کااس کی علمی گہرائی ، وسعت مطالعہ اور نظر عمیق کا معترف ہونا اور اس پر علمی مباحث میں اعتماد کرنا کوئی امر بعید نہیں ۔ حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی کی طالب علمانہ زندگی محنت و مشقت ، جد و جہد ، پابندی اوقات ، شوق وذوق ،کتب بینی اور اسباق کی دورائی اور طلبہ کو اس کی تکرار سے عبارت ہے جس کے سبب آپ کی صلاحیت و لیاقت میں پختگی اور علمی مباحث میں آپ کی رائے کی درستگی کا اعتراف طلبہ کوتھا اور نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کو بھی اس کا اقرار تھا جبھی تو علمی مباحث میں کبھی کبھی بلاتکلف آپ سے رائے طلب فرماتے ۔ چناں چہ مولانا سیف الدین اصدق مصباحی صاحب قبلہ اپنے والد ماجد ادیب بے مثل حضرت سید رکن الدین اصد ق مصباحی صاحب قبلہ کی زبانی حضور مدنی میاں پر اساتذہ کے اعتماد بھرےواقعہ کویوں تحریر فرماتے ہیں :
’’ میں نے خود دیکھا کہ مفکر اسلام حضرت علامہ مظفر حسن صاحب ظفر ادیبی جو بلا شبہ اپنے دور کے امام المعقولات تھے اور دور دور تک ان کا طوطی بولتا تھا ، وہ شمسِ بازغہ لے کر مطالعے میں غرق ہیں ، میں جب قریب سے گزرا  تو آہٹ پاکر انہوں نے سر اٹھا یا، پوچھا کون ؟ میں پلٹ کر قریب ہوا اور بولا : جی میں ! بولے : اچھا سید صاحب ! ذرا مدنی میاں کو بلائیے گا ۔ میں نے مدنی میاں کوجو چھت پر ہم درسوں کے درمیان کسی کتاب کی تکرار میں مشغول پایا، جاکر اطلاع دی اور وہ اٹھ کر چلے تو تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا کہ آخر کیا بات ہے ؟علامہ ظفر ادیبی کے پاس جب مدنی میاں پہنچے تو آپ نے انہیں احترام کے ساتھ بیٹھنے کو کہا ۔ ادھر استاذ کے احترام میں جب یہ صرف ایک کنارے ٹک گئے تو اشارہ کر کے کہا : میاں ! یہاں آرام سے بیٹھیے ! پھر کتاب ان کی طرف بڑھا کر عبارت پر انگلی رکھتے ہوئے ، بولے : ذرا دیکھیے یہاں مصنف کیا کہنا چاہ رہے ہیں ؟ مدنی میاں کتاب لے کر کچھ دیر تک دیکھتے رہے اور پھر جب اس کی وضاحت کی تو علامہ ظفر ادیبی کے چہرے پر تسکین و شادمانی کا خاص رنگ چھا گیا اور اطمینان بخش انداز میں گردن ہلا کر تائید کرتے ہوئے انہیں رخصت کیا ۔‘‘ ( محدث اعظم نمبر ، ص : ۱۸۰ )
ذکرکردہ ایامِ طالب علمی سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضور شیخ الاسلام بحیثیت طالب علم کامل و اکمل رہے اور آپ کا دور طالب علمی میں درخشندہ و تابندہ رہا لیکن اب دل تھا کہ حضور شیخ الاسلام کے دور طالب علمی کے چند ایسے اہم واقعات و خصوصیات پیش کیے جا ئیں جس میںحضور شیخ الاسلام کے ایام طالب علمی کو قابل رشک بنانے میں سونے پر سہاگہ کا کام کیا ۔ جی ، ہاں ! لیجیے حاضر ہیں وہ خصوصیات :
شعر و شاعری :
شعر و شاعری کوئی آسان فن نہیں کہ جو چاہے طبع آزمائی کر لے ۔ اور اگرکوئی اس فن کا جوہر کی ثنا خوانیِ حبیبِ کبریا ﷺ کے پاکیزہ و مقدس کام میں جلوہ دکھائے تو تلوار پر چلنے سے بھی زیادہ پُر خطر ہے ۔ لیکن حضور مدنی میاں مدظلہ العالی بچپن ہی سے اس خاردار میدان میں جلوہ افروز نظر آتے ہیں اور کامیابی کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔جس کا اعتراف رفقاے درس و رفقاے دار العلوم اشرفیہ کو بھی تھا۔ چناں چہ مشہور ومعروف ادیب و نقاد ڈاکٹر فضل الرحمٰن شرر مصباحی صاحب قبلہ اپنے  گزشتہ یاداشت کوتاریخ کے اوراق میں پیوستہ کرتے ہوئے لکھتے کہ ’’ مدنی میاں زمانہ طالب علمی میں بھی شعر و سخن کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے تھے ۔ مبارک پور کے مشاعروں میں بالخصوص بکھری کی بزمِ مقاصدہ میں اکثر اپنا کلام پڑھواتے تھے ۔ یہ مقاصدہ طرحی ہوتا تھا ، حضرت مولیٰ علی ( کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ) کے یومِ پیدائش ۱۳ ؍ رجب کے موقع پر یہ بزم حکیم عبد المجید کی نگرانی میں منعقد ہوتی تھی ، مدنی میاں کا کلام سید احمد حسین کوثر ( برادرِ خورد اشرف العلما ) اور میرا( شرر مصباحی صاحب کا ) کلام سید رئیس احمد ( جو ان دنوں رائے پور میں ہیں ) یا نذیر احمد قوال مبارک پوری پڑھتے تھے ۔۔۔ ایک سال کا مصرعِ طرح تھا :
دل مرا شمعِ رخِ حیدر کا پروانہ
اس بزمِ مقاصدہ کا سہرا مدنی میاں کے سر رہا ، ان دنوں سب سے زیادہ توجہ تضمین کودی جاتی تھی ، مجھے مدنی میاں کی تضمین یاد نہیں رہی ( مزید آگے تحریر فرماتے ہیں ) ۔۔۔ مدنی میاں کا کلام پڑھا جارہا تھا ، وہ( میر صاحب ) املو سے آگئے ، ایک کنارے بیٹھے رہے اور اچک اچک کر داد دیتے دیتے ابھی کلام ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ آپ ( میر صاحب ) اسٹیج کے قریب پہنچ گئے ۔‘‘  ( جام نور ، ستمبر ۲۰۱۰ ، ص : ۲۳ )
خطبات ِ برطانیہ میںحضرت سید جیلانی میاں اشرفی کا تیار کردہ خاکہ ’’ شیخ الاسلام ایک نظر میں ‘‘ آغازِ شاعری ۱۹۵۴ء درج ہے ۔یعنی حضور شیخ الاسلام نے شعر و سخن کا آغاز ۱۹۵۴ء میں کر چکے تھے ۔ امید قوی ہے کہ بہت کچھ آپ نے کہا اور لکھا ہوگا لیکن دور طالب علمی کی شاعری محفوظ رہ سکی یا نہیں ، اس کا علم نہیں ، البتہ فراغت سے ایک سال قبل حضور محدث اعظم ہند کی وفات کے وقت آپ کی زبان سے بے ساختہ چند اشعار ادا ہوئے جن کا اعادہ حضور اشرف العلما حضرت علامہ سید محمد حامد اشرف اشرفی مصباحی علیہ الرحمہ کی وفات کے وقت بھی آپ کی زبانِ مبارک سے ہوئے ۔ ان اشعار کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دور طالب علمی میں شعر وسخن میں آپ کی کیفیت سے بھی آگاہی حاصل ہو ، نیز جن کے علم میں نہ ہو وہ بھی ان اشعار سے واقف ہوجائیں یا کم از کم حضور شیخ الاسلام کی بچپن کی شاعری کو بطور تبرک محفوظ کرلیں۔ مدنی میاں خود لکھتے ہیں :
’’ حضرت والد بزرگوار کے وصالِ پُر ملال کے وقت میرے  دل سے جو آواز نکلی تھی ، حضور اشرف العلما کے وصال کی خبر سن کر بے ساختہ وہی کلمات زبان پر جاری ہوگئے  ؎
زندگی اشکِ فشاں گریہ کناں چھوڑ گئے
دوشِ افکار پہ اک بار گراں چھوڑ گئے
کون ہوتا ہے زمانے میں کسی کا امروز
مجھ کو تاریک فضاؤں میں کہاں چھوڑ گئے
اپنے سینے سے مجھے تو نے لگایا کیوں تھا ؟
جب رلانا ہی تھا مجھ کو تو ہنسایا کیوں تھا ؟
میری دنیاے تمنا کو بسانے والے
میری دنیاے تمنا کو بسایا کیوںتھا ؟
ساغرِ زہر پلائے گا یہ معلوم نہ تھا
وقت یہ وقت دکھائے گا یہ معلوم نہ تھا
جس کے کاندھے پہ لڑکپن مرا پروان چڑھا
میرے کاندھے پہ وہ جائے گا یہ معلوم نہ تھا ‘‘
( اشرف العلما نمبر ، ص : ۹۳ )
خطابت :
تقریر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ تقریر و خطابت ایک کے ذریعہ ایک شخص بیک وقت کثیر افراد سے مخاطب ہوتا ہے نیز تقریر و خطابت سے جہاں اہل علم مستفید و مستنیر ہوتے ہیں وہیں لذتِ علم سے محروم افراد بھی علمی چاشنی سے محظوظ اور دولتِ علم سے عاری اشخاص سرمایہ علم سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ لیکن شرط ہے کہ مسند خطابت پر جلوہ افروز خود علمی اعتبار سے متوازن و مستحکم ہے ورنہ عین امکان ہے کہ تضییع اوقات کے وبال میں گرفتار ہوجائیں ۔ حضور شیخ الاسلام کوخطابت کی دنیا میںجو شہرت و مقبولیت دوام حاصل ہے کسی پر مخفی نہیں ،لیکن تعجب ہوتا ہے جب حضور شیخ الاسلام کے دور طالب علمی کا مطالعہ کرتے ہیں کہ ایک وہ طالب علم جس نے نہ کبھی کسی مشقی بزم میں شرکت کی ہو اور نہ کبھی کہیں خطابت کی مشق کی ہو لیکن آج وہ ملکِ خطابت کا تاجور  اور مسند خطابت کا فرد فرید ہے ۔ یقینا اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ خطابت کا ملکہ تو ان کو ورثے میں ملا ہے اور سینہ بہ سینہ حاصل ہوا ۔اور یہ میں نہیں بلکہ خود ان کے ہم عصر ڈاکٹر شرر مصباحی صاحب کی تحریر اس طرف رہنمائی کر رہی ہے ۔ آپ لکھتے ہیں :
’’ ہمارے دورِ طالب علمی میں ہر جمعرات کو نمازِ عشا کے بعد مشقی جلسہ ہوا کرتا تھا تاکہ طلبہ کی جھجھک دور ہو اور خطابت کا ملکہ پیدا ہو ۔ یہ پروگرام اشرفیہ کے کسی نہ کسی استاذ کی نگرانی میں ہوتا تھا ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے مدنی میاں نے کسی ایک پروگرام میں بھی حصہ نہیں لیا ۔ کبھی شرکت بھی کی تو شدت سعال وغیرہ کا عذر کرکے بیٹھے رہے ۔ قاری محمد یحی صاحب کو خبر ہوئی تو انہیں بڑا دکھ ہوا ۔ حضور محدث اعظم سالانہ جلسہ میں تشریف لائے تو قاری صاحب نے ان سے عرض کیا کہ حضور ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوںاسے شکایت پر محمول نہ فرمائیں ۔ محدث اعظم نے فرمایا : کہیے ! شکایت بھی ہو گی تو سنی جائے گی، قاری صاحب نے عرض کیا کہ شہزادے مشقی بزم میں شرکت نہیں کرتے جس کا مجھے دکھ ہے ۔ محدث اعظم نے فرمایا : ’’ میاں مچھلی کے بچے کو تیرنانہیں سکھاتے۔ ‘‘  (  جام نور ، ستمبر ۲۰۱۰ ، ص : ۲۲ ۔ ۲۳ )
اور حضور شیخ الاسلام ملکہ خطابت کو اپنے والد ماجد حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کی فیض و عطااور مرہونِ منت قرار دیتے ہیں ۔ چناں چہ حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں :
’’ میرے والد نے مرض الوفات میں مجھے مبارک پور سے اس وقت طلب کیا تھا کہ میں جامعہ اشرفیہ میں فضیلت کے سالِ آخر میں زیرِ تعلیم تھا ۔ جب میں نے حضرت محدث اعظم ہند قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری دی تو آپ نے مجھے قریب بلا کر اپنے سینے سے لگایا ۔ آپ کا مجھے یوں سینے سے لگانا تھا کہ اسی وقت میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ میرا سینہ باوزن ہو گیا ہے ( یعنی سینہ علم و معرفت کے کنز اور گنجینوں سے معمور ہو گیا) ۔ والد بزرگوار کی اس ملاقات کے بعد میں واپس جامعہ اشرفیہ مبارک پور فضیلت کی تکمیل کے لیے چلا گیا ۔ اس کے چند دن کے بعد  مجھے آپ کے وصال کی اطلاع تار کے ذریعہ ملی تھی ۔ وصال کے تیسرے دن یعنی حضرت محدث اعظم ہند قدس سرہ کی زیارت کی فاتحہ میں میں نے اپنی زندگی کی پہلی تقریر کی جو بقول بزرگانِ خانوادۂ اشرفیہ علمی و عرفانی تقریر کہلائے جانے کے ساتھ ساتھ زورِ خطابت نیز فن تقریر کی بھی عمدہ مثال قرار پائی تھی۔ ‘‘
اس ابتدا کے بعد حضو شیخ الاسلام کی خطابت اس قدر ہوئی کہ ایک اندازے کے مطابق 8000 سے زائد ہی آپ کے خطابات ہوئے ہوں گے جن کو مجموعے کی شکل میں ضرور منظر عام پر لانا چاہیے جو کہ شیخ الاسلام کی زندگی کاایک اہم باب ہے ۔ خیر کی بات ہے کہ یہ سلسلہ وقتا فوقتا جاری ہے اور اب تک درج ذیل خطبات کا گزر ترتیب کے مرحلے سے ہو چکا ہے لیکن ان مرتب میں سے بعض کو ابھی اشاعت کی منزل کا حصول نہیں ہوا ہے ۔ ان شاء اللہ امید ہے جلد از جلد عاشقان و محبان شیخ الاسلام توجہ فرمائیں گے :
خطبات برطانیہ (، ۹ خطبات کا مجموعہ)۔
خطبات حیدرآباد۔ (مرتب۔ علامہ مولاناسیف خالداشرفی)۔
خطبات شہادت امام حسین۔( ۷ ؍خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔
خطبات شیخ الاسلام۔ سیریز ۔ ۱ (  ۱۰ ؍ خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ علامہ مولانااصغرعلی اشرفی)۔
خطبات شیخ الاسلام۔ سیریز۔ ۲(  ۱۰ ؍خطبات کامجموعہ)۔
خطبات جامعہ نظامیہ،حیدرآباد۔ ( ۳ ؍ خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔
خطبات میلادوسیرت رسول۔( ۷ ؍  خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔
خطبات معارف القران۔( ۴ ؍  خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔
خطبات رفعت مصطفی۔( ۷؍ خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔
خطبات تصوف ومقامات اولیاء ۔( ۷ ؍ خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔ خطبات عظمت مصطفی۔( ۷ ؍  خطبات کامجموعہ؛مرتب۔ ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)۔
خطبہ جدہ بنام ۔ شان علی۔
تین مجددین۔
پہلی تصنیف :
حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی بچپن ہی سے محنت و مشقت اور جد وجہد کا عملی تصویر اور ذہانت و فطانت اور فہم و فراست کے دھنی رہے ہیں جس کے سبب جس میدان میں آپ نے قدم رکھا اسے خوش اسلوبی کے ساتھ سر کیا۔تصنیف و تالیف اگر چہ ایک اہم اور مشکل شعبہ ہے لیکن حضور شیخ الاسلام مد ظلہ العالی نے اس شعبہ میں بھی طبع آزمائی کی اور کامیابی کے ساتھ کی جس کے سبب آپ کی تصانیف کو نہ صرف عوام بلکہ ارباب علم اور اصحاب فکر کے نزدیک یکساں پذیرائی حاصل ہے ۔آپ کی تصنیف و تالیف کا آغاز دور طالب علمی سے ہی ہوگیا تھا۔ آپ کے قلم سے سب سے پہلی کتاب ’’اظہارحقیقت ‘‘ کے نام سے معرض وجود میں آئی جو اپنا ایک پس منظر رکھتی ہے جس کی تفصیل ڈاکٹر طارق سعید صاحب کچھ یوںلکھتے ہیں :
’’ ( جون پور کی سر زمین پر ) محلہ ٹولہ جہاں کے بارے میں رجب علی بیگ سرور نے ’’ مفت کے مفتی ‘‘ کا روز مرہ گڑھ ڈالا ۔ اسی ملاٹولے کے ملا داؤد جو وہابی فکر کی ایک نامور شخصیت کے مالک تھے ، حضرت قاضی شمس الدین سے کسی مسئلہ پر دست و گریباں تھے ، اور ایک کتاب رد وہابیت میں ’’ نمونہ وہابیت ‘‘ رقم کی ۔ کہیں سے اس کم سن طالب علم ( شیخ الاسلام ) کو اس کتاب کی اطلاع ملی کہ قاضی صاحب نے ایک کتاب تحریر کی ہے ۔ فوراً مطالعہ کی فرمائش کر دی ۔ مولانا نے ہمیشہ کی طرح جود و سخا اور فیاضی کا ثبوت نہ دے کر مدنی میاں کو خالی ہاتھ لوٹا دیا ، بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ یہ کتاب اس غرض سے تحریر نہیں کی گئی تھی کہ مدنی میاں جیسے طالب علم اس کتاب کا مطالعہ کریں ، بات آئی گئی ختم ہو گئی ۔ ہاں ! اس بحث و تکرار کے نتیجے میں ایک کتاب ’’ اظہارِ حقیقت ‘‘ کے نام سے طالب علم کے زمانہ کی یادگار کی صورت میں صفحہ قرطاس پر منتقل ہوگئی  ۔‘‘  ( محدث اعظم نمبر ، ص : ۱۷۶ )
یہ کتاب معرض تحریر میں تو آئی لیکن پھر کیا ہوا لگے ہاتھوں یہ بھی دیکھتے چلیںڈاکٹر طارق سعید صاحب بیان کرتے ہیں :
’’ اس کتاب کے اصل نسخے کو مولانا ایوب ٹانڈوی صاحب صاف کرنے کی غرض سے لے گئے ، سو آج مجھے اس نسخے کے مطالعہ کی ضرورت آن پڑی تو معلوم ہوا کہ نسخہ صاف ہے۔ ‘‘  ( مصدر سابق ، ص :۱۷۶ )
نہ جانے صاف ہے کس طرح صاف ہے ، محفوظ بھی ہے یا دنیا ہی سے صاف ہے ۔ اگر حفاظت کے ساتھ صاف ہے تو مدنی مشن ( یعنی ملک و بیرون ملک حضور شیخ الاسلام پر کام کرنے والی تنظیموں ) کے ارکان کو اس کی اشاعت کی طرف توجہ ضرور بالضرور دینی چاہیے تاکہ جہاں حضور شیخ الاسلام کی ایک نایاب کتاب دست بردِ زمانہ سے محفوظ ہوجائے وہیں اس کتاب کے ذریعہ شیخ الاسلام کی ذات پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہو، کیوں کہ اس کتاب کے ذریعے حضور شیخ الاسلام کے زمانہ طالب علمی میں طرزِ تحریر ، زورِ استدلال اور طریقے تحقیق و تنقید سے واقفیت بآسانی کی جاسکے گی۔
مناظرہ :
مناظرہ کس قدر دشوار گزار اور مغز ماری کا کام ہے اس کا صحیح اندازہ وہی کر سکتا ہے جس نے اس خارداروادی میں قدم رکھا ہو ۔ کیوں کہ مناظرہ تقریر و خطابت ، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف سے بالکل مختلف شئی ہے جس کے لیے مناظر کو ہر لمحہ ہر پل اپنے فریق کی ہر بات اور ہر چال پر گہری نظر رکھنی پڑتی ہے ساتھ ہی حاضر جوابی کی صفت سے بھی لیس ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ فریق مخالف کسی بھی وقت غلبہ اختیار کر سکتا ہے ۔حضور مدنی میاں مدظلہ العالی نے کتنے مناظرے کیے اس کا مکمل علم نہیں ہوسکا اور نہ مدنی میاں صاحب قبلہ اس حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ہاں ! حضور شیخ الاسلام کے مرید و خلیفہ اور اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کے بانی مولانا بشارت صدیقی صاحب قبلہ کی زبانی صرف اتنا معلوم ہوا کہ حضرت نے کئی مناظرے کیے ہیں جس میں گجرات کے بھڑوچ ضلع کا تاریخی مناظرہ اور بیرون ملک ساوتھ ہامپٹن، یو کے کا مناظرہ جس میں  حضور شیخ الاسلام نے دیوبندیوں کو تاریخی شکست دے کرساوتھ ہامپٹن کی جامع مسجد فتح کی، یادگار اور اہم مناظرے تھے۔ساوتھ ہامپٹن، یو کے کامناظرہ انگلینڈ کی سر زمین پر پہلا سنی دیوبندی مناظرہ تھا۔اس مناظرے کی تفصیل سے اکثر حضرات واقف نہیں ۔ خیر !
حضور شیخ الاسلام فن مناظرہ اور اصول مناظرہ سے زمانہ طالب علمی ہی سےواقفیت رکھتے تھے اور آپ کے رفقاے درس آپ کی اس صلاحیت سے واقف بھی تھے ۔ جیسا کہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن شرر مصباحی صاحب قبلہ کے درج ذیل اقتباس سے واضح ہے ۔ آپ لکھتے ہیں :
’’ غالباً۱۹۶۹ء کی بات ہے۔ میرے خوش عقیدہ پڑوسی جناب محمد احمد صاحب کے ایک رشتہ دار تازہ تازہ دار العلوم دیوبند کی ہوا کھا کر آئے تھے ، طبیعت باڑھ پر تھی ، یہ جہاناگنج کے رہنے والے تھے ، رسمی تعارف کے بعد انہوں نے علم غیب کی بحث چھیڑ دی ۔ آیات و احادیث سے نفی علم غیب کے دلائل پیش کرنے لگے ۔ میں نے جواب دینا شروع کیا ۔ محمد احمد صاحب نے کہا کہ اس طرح بحث سے تلخی بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ سوال و جواب تحریری ہونا چاہیے ۔ صاحبِ خانہ کی اس بات سے ہم دونوں نے اتفاق کیا ، میں نے کہا کہ میں چند سوالات ’’ حفظ الایمان ‘‘ کے تعلق سے مرتب کرتا ہوں ، آپ جواب لکھ کر محمد احمد صاحب کے یہاں بھیجوادیں ۔ انہوں نے کہا کہ سوال کی ابتدا میری طرف سے ہوئی ہے ، اس لیے سوال میں مرتب کروں گا ۔ میں نے کہا چلیے یوں سہی ۔ پھر انہوں نے پانچ چھے سوالات کی فہرست مرتب کر کے مجھ سے کہا کہ اس کا جواب تحریر کر کے محمد احمد صاحب کو دے دیجیے ، یہ مجھ تک پہنچا دیں گے ۔ میں نے وہ رقعہ مدنی میاں کو دکھایا ، انہوں نے سوالات کے مدلل جواب تحریر کیے ، میں نے محمد احمد صاحب کے ذریعہ یہ تحریر جہاناگنج بھیجوادی ، دس پندرہ دنوں کے بعد جواب آگیا ، میں نے یہ جواب مدنی میاں کی خدمت میں پیش کیا ، اب کے جواب الجواب کے ساتھ کچھ سوالات قائم کر کے حریف کو دفاعی پالے میں لاکھڑا کیا ۔پھر ادھر سے کوئی جواب نہ آیا ۔مدنی میاں نے کہا کہ مناظرے میں دفاعی پوزیشن میں نہیں رہنا چاہیے  ۔ اب انہیں اپنا دفاع کرنے پر مجبور کر دیا گیا تو وہی ہوا جس کی امید تھی۔ ‘‘  ( جام نور ، ستمبر ، ۲۰۱۰ ، ص : )
درج بالا واقعے سے کوئی بھی ذی شعور مدنی میاں کے مناظرانہ صلاحیت اور اصول مناظرہ سے واقفیت معلوم کر سکتاہے ۔ اے کاش ! یہ تحریر جواب اور جواب الجواب بھی کہیں محفوظ ہو تا کہ ایک اور علمی مواد سے اہل علم لطف اندوز ہو سکیں ۔
ایک جملہ جس نے ’’ مدنی ‘‘ کو شیخ الاسلام بنا دیا : عقیدت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر کسی محسن سے ہوجائے تو جس سے عقیدت ہے اس کی خدمت تو ایک عام سی بات ہے ان کے نام پر مرمٹنے میں بھی عقیدت مند لوگ دریغ نہیں کرتے اور یہی حال ان کے خانوادے کے ہر فرد سے ہوا کرتا ہے ۔ شبیہ غوث اعظم اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی ذات والا تبار رشد و ہدایت کا روشن منارہ تھی جن سے لاکھوں لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی سعادت نصیب ہوئی اور لاکھوں افراد کو ایمان کی دولت ملی ۔ خطہ اعظم گڑھ میں بھی جو اسلام و سنیت کی باغ و بہار ہے وہ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں اور دیگر بزرگانِ اشرفیہ ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ اسی اعظم گڑھ میں ایک مقام’’ مبارک پور ‘‘ ہے جہاں آج دنیاے اہل سنت کا عظیم ادارہ ازہرِ ہند’’ الجامعۃ الاشرفیہ ‘‘ قائم و دائم ہے ۔ اس مبارک پور کو بھی اسلام و سنیت کی تعلیمات و نظریات سے روشناس کرانے میں اعلیٰ حضرت اشرفی میاں نے خوب خوب حصہ لیا یہاں تک کہ اسے سر سبز و شاداب کر دیا ۔ظاہر ہے کہ کہ اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی اس قدر خدمات اور محنتیں ہیں تو ان سے عقیدت تو ہونی ہی تھی ۔اس عقیدت و محبت کا سلسلہ دراز ہوا اور ہوتا چلا گیا اور جب اشرفی میاں علیہ الرحمہ ہی کے قائم کردہ ادارے ’’ دار العلوم اشرفیہ ‘‘ میں خانوادہ اشرفیہ کے شہزادگان کی حصول تعلیم کے لیے آمد ہوئی تو تو کون تھا جس کے دل میں اپنے محسن اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے خانوادے کے افراد کی خدمت کی خواہش و تمنا انگڑائیاں نہ لے رہی ہوں ۔انہیں شہزادگانِ اشرفیہ میں شیخ الاسلام مدنی میاں مد ظلہ العالی بھی تھے جن کی خدمت کے لیے عشاقانِ و محبانِ اشرفیہ نے درخواست کی کہ مدنی میاں دار العلوم کے کھانے کے بجائےہمارے گھر کا کھانا تناول فرمائیں اور یہ درخواست اصرار کی شکل میں تبدیل ہوگئی ۔ لیکن مدنی میاں بھی نیک بخت اور نیک خو تھے ، آپ نے بذات خود فیصلہ کرنے کی بجائے اہل مبارک پور کے اصرار کو اپنی والدہ ماجدہ کی بارگاہ میں پیش کیا ۔ پھر کیا تھا آپ کی والدہ  ماجدہ نے مدنی میاں کے ذریعہ پہنچائے گئے اہل مبارک پور کے اصرار کو آپ کے والد محترم محدث اعظم ہند ابو المحامد حضرت سید محمدکچھوچھوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں کہ سنایا ۔ لیکن قربان جائیے حضورمحدث اعظم ہند کی ذات بابرکت پر جنہوں نے اہل مبارک پور کی اصرار کوسننے کے بعد اپنے صاحب زادے کے لیے آرام و آسائش کو پس پشٹ ڈالنے کو ترجیح دی اور فرمایا : ’’مدنی کو چاہیے کہ وہ اپنا پیٹ علم سے بھرے! ‘‘  ایک سعادت مند بیٹے کو جب والد محترم کی طرف سے جواب موصول ہوا تو اس نیک بیٹے کو اس جواب میں کیا نظر آیا کہ نہ چوں کیا نہ چرا ، بس اس پر عمل کرنے میں لگ گئے اور علم دین سے آپ نے اپنا پیٹ ایسا بھرا کہ آج دنیاے اہل سنت اس ’’ مدنی ‘‘ کو شیخ الاسلام و المسلین ، سید المفسرین ، رئیس المحققین، سند المتکلمین اور نہ جانے کن کن القاب سے یاد کرتی ہے اور فخر کے ساتھ کرتی ہے ۔
سب سے پہلے ’’ مصباحی ‘‘ کا الحاق :
کبھی کبھی کوئی شخص دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسا عظیم کام انجام دے دیتا ہے جس کے بارے میں اسے خود اس کا علم اور اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کا یہ کام بعد میں آنکھوں میں بسائے جانے ، زبان سے سراہے جانے اور دل سے قبول کیے جانے کے اس قدر قابل ہوگا کہ اسے خود بھی شاید علم نہیں ہوتا کہ میرا یہ کارنامہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجائے گا اور لوگ اس کارنامے کو بسر و چشم فخریہ قبول کریں گے اور اسے بطور علامت استعمال کریں گے ۔ حضور شیخ الاسلام کی ذات سے بھی زمانہ طالب علمی میں ایک ایسا ہی کارنامہ وقوع پذیر ہوا جسے آج دنیاے اہل سنت نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اس کارنامے پر اور جس کے ساتھ اس کارنامے کا الحاق ہوجاتا ہے اس پر اہل سنت و جماعت ناز کرتے ہیں اور وہ کارنامہ ہے لفظ ’’ مصباحی ‘‘ کا اپنے ناموں کے ساتھ الحاق ۔ جی ، ہاں ! لفظ ’’ مصباحی ‘‘ سب سے پہلے حضور شیخ الاسلام نے اپنے نام کے ساتھ لگانا شروع فرمایا پھر کیا تھا اس ’’ مدنی مصباحی ‘‘ کے اس کار خیر کو اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج جو بھی اہل سنت کی جان اور پہچان ’’ الجامعۃ الاشرفیہ ‘‘ مبارک پور علمی خوشہ چینی کرتا ہے اس کے نام کے ساتھ ’’ مصباحی ‘‘ جزء لا ینفک قرار پاتا ہے ۔ لفظ ’’ مصباحی ‘‘ کا سب سے پہلے استعمال کرنے کے تعلق سے راقم نے والد محترم کی ذاتی لائبریری میں ’’ ماہ نامہ قاری ‘‘ کے کسی شمارے میں شامل مشہور ادیب و نقاد ڈاکٹر فضل الرحمٰن شرر مصباحی صاحب کے مکتوب میں ملاحظہ کیا لیکن وہ فی الوقت پیش نظر نہیں کہ مذکورہ شمارے  اور صفحات کا حوالہ پیش کیاجا سکے البتہ اس بات کی تصدیق ماہ نامہ جام نور ستمبر۲۰۱۵ میں شائع شدہ محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی نظام الدین رضوی برکاتی صاحب قبلہ صدر شعبہ افتا الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے مضمون سے ہوتا جاتا ہے جس میں آپ لکھتے ہیں :
’’ تاریخ اشرفیہ میں آپ کی ذات والا صفات کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ آپ ہی کی ذات سے دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم کی نسبت سے ’’ مصباحی ‘‘ لکھنے کا رواج ہوا ۔ اپنے دورانِ تعلیم میں ہی آپ نے اپنے نام کے ساتھ اس کا الحاق کیا ، پھر دوسرے فارغین اشرفیہ نے آہستہ آہستہ یہ نسبت اختیار کرتے رہے اور آج ہر چہار جانب ’’ مصباحی علما ‘‘ کی ایک الگ شناخت ہے ‘‘ ۔ (جام نور ستمبر ۲۰۱۵ ، ص : ۳۹ )
حضور شیخ الاسلام کی ذات با برکت دور طالب علمی سے متعلق چند خصوصیات ، کمالات اور خیرت انگیز اور قابل قدرواقعات ’’ مشتے نمونہ از خر وارے ‘‘ کے تحت سپرد قرطاس کر دیے گئے ۔ کیا ہی خوب ہوتا کہ آپ کے رفقاے درس یا رفقاے دار العلوم اشرفیہ میں کوئی اس موضوع پر قلم کو حرکت دے تاکہ مزید دور طالب علمی کے خصوصیات ، کمالات اور تفردات بھر واقعات سے دنیاے اہل سنت واقف ہو سکے ۔