حجت اوراسکی اقسام

منطق کاموضوع معلومات تصوریہ اورمعلومات تصدیقیہ ہیں ۔معلومات تصوریہ کا بیان تفصیلا گزرچکااب معلومات تصدیقیہ کوبیان کیاجاتاہے۔ وہ معلومات تصدیقیہ جو مجہول تصدیقی تک پہنچا دیں انہیں حجت کہتے ہیں اوراسکی تین قسمیں ہیں۔
۱۔ قیاس        ۲۔ استقراء        ۳۔ تمثیل
قیاس کابیان
قیاس کی تعریف:
  ”ھُوَقَوْلٌ مُؤَلَّفٌ مِنْ قَضَایَا یَلْزَمُ عَنْھَا قَوْلٌ ٰاخَرُبَعْدَ تَسْلِیْمِ تِلْکَ الْقَضَایَا”
قیاس اس قول کو کہتے ہیں جو چند ایسے قضایا سے مرکب ہو کہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد ایک اورقضیہ ماننا لازم آئے ۔جیسا کہ ہر سنی مومن ہے اور ہر مومن نجات پانے والا ہے ان دونوں کوتسلیم کر لینے کے بعد ہمیں ماننا پڑتاہے کہ ہر سنی نجات پانے والا ہے۔قیاس کی اقسام کا تفصیلی بیان آگے آئے گا اس سے پہلے چند ضروری اصطلاحات کو بیان کیا جاتا ہے ۔
قیاس سے متعلقہ چند ضروری اصطلاحات
مقدمات قیاس:
  جن قضایا سے قیاس مرکب ہوتاہے انہیں مقدماتِ قیاس کہا جاتاہے۔ جیسے أَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ۔ نتیجہ اَلْعَالَمُ حَادِثٌ۔ اس مثال میں اَلْعَالَمُ مُتَغَیِّر اور کُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ ۔ دو قضایا ہیں جن سے قیاس مرکب ہے یہ قضایا مقدمات قیاس کہلائیں گے۔ اس کا نتیجہ اَلْعَالَمُ حَادِثٌ ہے۔
اصغر:
  نتیجہ کے موضوع کو اصغر کہتے ہیں۔ جیسے مذکورہ بالا مثال میں أَلْعَالَمُ۔
اکبر:
  نتیجہ کے محمول کواکبر کہتے ہیں۔ جیسے مذکورہ بالا مثال میں حَادِثٌ۔
صغری:
  قیاس کے جس مقدمہ میں اصغر مذکور ہواسے صغری کہاجاتاہے۔جیسے مذکورہ بالامثال میں أَلْعَالَمُ(جو کہ اصغرہے)اور قیاس کے پہلے مقدمہ میں ہے لہذا یہ مقدمہ صغری کہلائے گا۔
کبری:
  قیاس کے جس مقدمہ میں اکبر مذکور ہواسے کبری کہاجاتاہے۔جیسے مذکورہ مثالوں میں۔حَادِثٌ(جو کہ اکبر ہے)اور قیاس کے دوسرے مقدمے میں موجود ہے۔لہذا یہ مقدمہ کبری کہلائے گا۔
حداوسط:
  جو چیز قیاس کے مقدمات میں مکرر مذکور ہو ۔جیسے مذکورہ مثال میں متغیر۔
قرینہ اورضرب:
  صغری کو کبری کے ساتھ ملانے کوضرب اور قرینہ کہتے ہیں ۔
شکل:
  حداوسط کواصغر اوراکبر کے ساتھ رکھنے سے جو ہیت حاصل ہوتی ہے اسے شکل کہتے ہیں۔
نتیجہ:
  مقدماتِ قیاس کو تسلیم کر لینے کے بعد جس قضیہ کو ماننا پڑے اسے نتیجہ کہا جاتاہے۔ جیسے: اَلْعَالَمُ حَادِثٌ۔
نتیجہ نکالنے کا طریقہ:
  صغری اور کبری سے حدا وسط کو حذف کردینے کے بعد جو باقی رہے گاوہی نتیجہ ہے۔ جیسے عالم متغیرہے اور ہرمتغیر چیز حادث ہے اس میں سے حداوسط (متغیر) کو حذف کردینے کے بعد عالم حادث ہے یہ باقی بچے گا اوریہی نتیجہ ہے۔
٭٭٭٭٭