اقامت

اقامت اذان ہی کے مثل ہے۔ مگر چند باتوں میں فرق ہے۔ اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہے جاتے ہیں۔ اور اقامت کے کلمات کو جلد جلد کہیں۔ درمیان میں سکتہ نہ کریں۔ اقامت میں حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ کے بعد دو مرتبہ قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ بھی کہیں۔ اذان میں آواز بلند کرنے کا حکم ہے۔ مگر اقامت میں آواز بس اتنی ہی اونچی ہو کہ سب حاضرین مسجد تک آواز پہنچ جائے۔ اقامت میں کانوں کے اندر انگلیاں نہیں ڈالی جائیں گی۔ اذان مسجد کے باہر پڑھنے کا حکم ہے اور اقامت مسجد کے اندر پڑھی جائے گی۔
  (الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ، مطلب فی اول من بنی المنائر، ج۲،ص۶۸)
مسئلہ:۔اگر امام نے اقامت کہی قَدْقَامَتِ الصَّلوٰۃُ کے وقت آگے بڑھ کر مصلّٰی پر چلا جائے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ،باب الثانی،الفصل الثانی،ج۱،ص۵۷)
مسئلہ:۔اقامت میں بھی حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ ؕ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ ؕ کے وقت داہنے بائیں منہ پھیرے۔
(الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ، باب الاذان، ج۲،ص۶۶)
مسئلہ:۔اقامت ہوتے وقت کوئی شخص آیا تو اسے کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کو چاہے کہ بیٹھ جائے اور جب حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ کہا جائے تو اس وقت کھڑا ہو۔ یوں ہی جو لوگ مسجد میں موجود ہیں وہ بھی اقامت کے وقت بیٹھے رہیں۔ جب حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ مکبر کہے اس وقت سب لوگ کھڑے ہوں۔ یہی امام کے لئے بھی ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الصلوۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھا،ج۱،ص۵۷)
  آج کل اکثر جگہ یہ غلط رواج ہے کہ۔ اقامت کے وقت بلکہ اقامت سے پہلے ہی لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بلکہ اکثر جگہ تو یہ ہے کہ جب تک امام کھڑا نہ ہو جائے اس وقت تک اقامت نہیں کہی جاتی۔ یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔ اس بارے میں بہت سے رسالے اور فتاویٰ بھی چھاپے گئے مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج؟ خدا وند کریم مسلمانوں کو سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔
مسئلہ:۔اقامت کا جواب دینا مستحب ہے۔ اقامت کا جواب بھی اذان ہی کے جواب کی طرح ہے۔ اتنا فرق ہے کہ اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ کے جواب میں اَقَامَھَااللہُ وَاَدَا مَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرضُ کہے۔
  (الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الصلوۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی ،ج۱،ص۵۷)