استقبال قبلہ کے چند مسائل

  پوری نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط اور ضروری حکم ہے۔ لیکن چند صورتوں میں اگر قبلہ کی طرف منہ نہ کرے پھر بھی نماز جائز ہے۔ مثلاً
مسئلہ:۔جو شخص دریا میں کسی تختہ پر بہا جا رہا ہو اور اسے صحیح اندیشہ ہو کہ منہ پھیرنے سے ڈوب جائے گا اس طرح کی مجبوری سے وہ قبلہ کی طرف منہ نہیں کر سکتا۔ تو اس کو چاہے کہ وہ جس رخ بھی نماز پڑھ سکتا ہے پڑھ لے۔ اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور بعد میں اس نماز کو دہرانے کی بھی ضرورت نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ،ج۱،ص۶۳)
مسئلہ:۔بیمار میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ قبلہ کی طرف منہ کر سکے اور وہاں دوسرا ایسا کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو کعبہ کی طرف اس کا منہ کر دے تو اس مجبوری کی حالت میں جس طرف بھی منہ کر کے نماز پڑھ لے گا اس کی نماز ہوجائے گی اور اس نماز کو بعدمیں دہرانے کی
بھی ضرورت نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ،ج۱،ص۶۳)
مسئلہ:۔چلتی ہوئی کشتی میں اگر نماز پڑھے تو تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز شروع کردے اور جیسے جیسے کشتی گھومتی جائے خود بھی قبلہ کی طرف منہ پھیرتا رہے اگرچہ فرض نماز ہو یا نفل۔            (غنیۃ المستملی،فروع فی شرح الطحاوی،ص۲۲۵)
مسئلہ:۔اگر یہ نہ معلوم ہو کہ قبلہ کدھر ہے اور وہاں کوئی بتانے والا بھی نہ ہو تو نمازی کو چاہے کہ اپنے دل میں سوچے اور جدھر قبلہ ہونے پر دل جم جائے اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے۔ اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ،ج۱،ص۶۴)
مسئلہ:۔جس طرف دل جم گیا تھا ادھر منہ کر کے نماز پڑھ رہا تھا پھر نماز کے درمیان ہی میں اس کی یہ رائے بدل گئی کہ قبلہ دوسری طرف ہے یا اس کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی تو اس پر فرض ہے کہ فوراً ہی اس طرف گھوم جائے اور پہلے جتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے اس میں کوئی خرابی نہیں آئے گی اسی طرح اگر نماز میں اس کو چاروں طرف بھی گھومنا پڑا پھر بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور اگر رائے بدلتے ہی یا غلطی ظاہر ہوتے ہی دوسری طرف نہیں گھوما۔ اور تین مرتبہ سبحان اﷲ کہنے کے برابر دیر لگادی تو اس کی نماز نہ ہوگی۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، مطلب مسائل التحری فی القبلۃ،ج۲،ص۱۴۴)
مسئلہ:۔نمازی نے اگر بلا عذر قصداً جان بوجھ کر قبلہ سے سینہ پھیر دیا تو اگرچہ فوراً  ہی اس نے قبلہ کی طرف سینہ پھرا لیا پھر بھی اس کی نماز ٹوٹ گئی اور وہ پھر سے نماز پڑھے۔
  (صغیری شرح منیۃ المصلی،شرائط الصلاۃ، الشرط الرابع،ص۱۲۵)
اور اگر نماز میں بلا قصد و ارادہ قبلہ سے سینہ پھر گیا اور فوراً  ہی اس نے قبلہ کی طرف سینہ کر لیا تو اس کی نماز ہوگئی۔ (البحرالرائق،کتاب الصلوۃ،باب شروط الصلوۃ،ج۱،ص۴۹۷)
مسئلہ:۔اگر صرف منہ قبلہ سے پھیر لیا اور سینہ قبلہ سے نہیں پھرا تو اس پر واجب ہے کہ فوراً  ہی وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اس کی نماز ہو جائے گی مگر بلا عذر ایک سیکنڈ کیلئے بھی قبلہ سے چہرہ پھیر لینا مکروہ ہے۔     (صغیری شرح منیۃ المصلی،شرائط الصلاۃ، الشرط الرابع،ص۱۲۶)
مسئلہ:۔اگر نمازی نے قبلہ سے سینہ پھیرا نہ چہرہ پھیرا بلکہ صرف آنکھوں کو پھرا پھراکر ادھر ادھر دیکھ لیا تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (بہارشریعت،ح۳،ص۵۲)