۔الافادات النافعہ (اقتباس از علم الصیغہ)۔

فا ئد ہ (۱):
  ہروہ صحیح کلمہ جو باب ”فتح” سے آئے اس کا عین یا لام کلمہ حر ف حلقی ہونا چاہیے۔ لہذا أَبَی یَأْبَی ، قَلَی یَقْلَی، عَضَّ یَعَضُّ اور بَقَی یَبْقَی وغیرہ افعال اگرچہ باب ”فتح” سے ہیں اور ان کاعین یالام کلمہ حرف حلقی بھی نہیں مگرپھر بھی یہ خلاف قیاس (شاذ)نہیں ہوں گے؛ اس لیے کہ یہ کلمات صحیح نہیں۔ان میں سے کوئی مہموز ہے، کوئی مضاعف ہے، کوئی معتل ہے۔
فا ئد ہ (۲):
  کُلْ، خُذْ، اورمُرْ جو اصل میں اُؤْکُلْ، اُؤْخُذْ اور اُؤْمُرْ تھے ان میں سے دوسرے ہمزہ کو خلاف قیاس نہیں گرایاگیا بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ ان میں قلب مکانی کیا گیا ہے: یعنی فاء کلمہ کو عین کلمہ کی جگہ اور عین کلمہ کو فاء کلمہ کی جگہ لے گئے اس طرح یہ اُکْؤُلْ، اُخْؤُذْاوراُمْؤُرْ ہوگئے ، پھر یَسَلُ کے قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر اسے حذف کردیا،اب ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی اسے بھی گرادیاتویہ کُلْ، خُذْ اورمُرْ ہوگئے۔
فائدہ مہمّہ:
  لغت عرب میں قلب مکانی بکثرت واقع ہوا ہے۔ فاء کلمہ کو عین کی جگہ عین کو فاء کی جگہ لے جاتے ہیں۔ جیسے: دَارٌ کی جمع اَدْؤُرٌ کو آدُرٌ پڑھتے ہیں یہ در اصل اَدْؤُرٌ ہے ، بقاعدہ وُجُوْہٌ واو کو ہمزہ سے بدلاتو اَدْؤُرٌ ہوگیا،پھر قلب مکانی کی وجہ سے ہمزہ دال کی جگہ اور دال ہمزہ کی جگہ چلاگیا،اب بقاعدہ آمن اسے الف سے بدل دیاتو یہ آدُرٌ بر وزن اَعْفُلٌ ہوگیا۔
  اسی طرح قَوْسٌ کی جمع قِسِیٌّ جو اصل میں قُوُوْسٌ ہے سین کو واو کی جگہ اور واو کو سین کی جگہ لے گئے قُسُوْوٌ ہوگیا، پھر قاعدہ نمبر ۱۵ کے تحت دِلیٌّ کی طرح قِسِیٌّ ہوگیا۔
  اسی طرح شَیْءٌ کی جمع اَشْیَاءُ ہے جو اصل میں شَیْئَاءُ ہے ، لام کلمہ کو فاء کی جگہ ،فاء کو عین کی جگہ اور عین کو لام کلمہ کی جگہ لے گئے تو اَشْیَاءُ بن گیا، لہذا یہ فَعْلَاءُ کے وزن پر ہے نہ کہ اَفْعَالٌ کے وزن پر، اور اسی لیے یہ غیر منصرف بھی ہے ۔کہ اس کے آخرمیں الف ممدودہ ہے اور الف ممدودہ دو سببوں کے قائم مقام ہوتاہے۔
قلب مکانی کی پہچان:
  صرفیین فرماتے ہیں :کہ کسی کلمہ میں قلب مکانی کاعلم اس جیسے: دوسرے اشتقاقی کلمات سے حاصل ہوتاہے ۔مثلاً: آدُرٌ میں عین کلمہ کو فاء کی جگہ لے گئے یہ بات دَارٌ(واحد) اَدْوُر ٌ(جمع)اور دُوَیْرَۃٌ (دارکی تصغیر)سے معلوم ہوئی۔اسی طرح قِسِیٌّ میں قلب مکانی کا علم قَوْسٌ اور تَقَوَّسَ سے حاصل ہواکہ قِسِیٌّ اصل میں قُوُوْسٌ ہے۔
  یونہی اس بات سے بھی قلب مکانی کا پتہ چلتاہے کہ اگر قلب مکانی کو تسلیم نہ کیاجائے تو اسباب منع صرف کے بغیر اسم کاغیر منصرف ہونالاز م آتاہے ۔جیسے:اَشْیَاءُ کی مثال گذری۔
   قلب کی پہچان کاایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اگر قلب کااعتبار نہ کریں تو شذوذ لازم آئے ۔جیسے : کُلْ، خُذْ، اور مُرْ میں۔
فا ئد ہ (۳):
  جو نون فعل ناقص کے آخر میں واقع ہو اسے حرف جازم کے داخل ہونے پر
حذف کرنا جائزہے ۔جیسے : وَلَمْ اَکُ بَغِیًّا۔ لہذا یہ خلاف قیاس (شاذ)نہیں ہے۔
فا ئد ہ (۴):
  باب افتعال کا فاء کلمہ اگریاء ہو تو اسے تاء سے بدلنا واجب ہوتاہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ہمزہ سے بدل کر نہ آئی ہو ۔اسی لیے اہل صرف نے اِتَّخَذَکو شاذقرار دیا؛ کیونکہ اس میں یاء کو تاء سے بدل دیاگیا ہے ،حالانکہ وہ ہمزہ سے بدلی ہوئی ہے ، اس کو شذوذ سے بچانے کے لیے صاحب علم الصیغہ کے استاد فرماتے ہیں کہ یہ شاذ نہیں ہے ؛ کیونکہ اِتَّخَذَمیں تاء اصلی ہے ، مجرد میں یہ تَخَذَ، یَتْخَذُ ہے ،اَخَذَ یَأْخُذُ نہیں ہے ، اور تَخَذَ کا اَخَذَ کے معنی میں ہونا تفسیر بیضاوی سے واضح ہے ؛لہذا اِتَّخَذَ اِتَّبَعَ کی طرح ہے جو تَبِعَ سے ماخوذ ہے اور اس کی تاء اصلی ہے۔