محبتِ باری و محبوبِ باری سے مراد

حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن محمد قَسْطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی  فرماتے ہیں:کسی دانا شخص کا قول ہے کہ ایک مَیان میں دو۲تلواریں نہیں رہ سکتیں، اسی طرح ایک دِل میں دو۲مَحبَّتوں کی گنجائش نہیں۔ لہٰذا کسی کا اپنے مَحْبُوب کی طرف مُتَوجّہ ہونا اس بات کو لازِم کر دیتا ہے کہ وہ باقی ہر شے سے منہ موڑ لے، کیونکہ مَحبَّت میں مُنَافقت دُرُسْت نہیں، مگر (مَحبَّتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبَّت کو باقی ہر شے کی
مَحبَّت سے مُقَدّم جاننا لازِم ہے، بلکہ اسکے بغیر تو اِیمان ہی مُکَمَّل نہیں کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبَّت در حقیقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہی مَحبَّت ہے1 اور مَحبَّتِ باری تعالیٰ کے مُتَعَلّق حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل بن  عبداللہ تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مَحبَّت کی عَلامَت قرآنِ کریم سے مَحبَّت ہے اور قرآنِ کریم سے مَحبَّت کی عَلامَت نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبَّت ہے اور حبیبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبَّت کی عَلامَت آپ کی سنتوں سے مَحبَّت ہے۔ جبکہ ان سب کی مَحبَّت کی عَلامَت آخِرَت سے مَحبَّت ہے۔2
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… ماخوذ از المواهب اللدنیه، المقصد السابع، الفصل الاول فی وجوب محبته…الخ، ۲/ ۴۸۲
2 ……… تفسير القرطبی،  پ۳، آل عمران، تحت الآية:۳۱،المجلد الثانی،۴/۴۱