نعت: نگار طیبہ ازل سے ہے تیری آرزو

نگار طیبہ ازل سے ہے تیری آرزو
میرے وجود کا مقصد ہے جستجو تیری
ترا سکوت ہے لطف وکرم کی اک دنیا
نسیم خلد کی جنت ہے گفتگو تیری
نسیم خلد نے مانگی ہے بھیک خوشبو کی
کھلی مدینہ میں جب زلف مشکبو تیری
میری وفات کادن میری عید کا دن ہو
بوقت مرگ جو صورت ہو روبرو تیری
گناہ کرکے بھی امید وار جنت ہوں
سناہے جب سے کہ لطف و کرم ہے خو تیری
کہاں نہیں رخ انور کی جلوہ سامانی 
جہاں میں طلعت زیباسے چار سوتیری
حریم کعبہ میں بھی یاد آئی طیبہ کی 
کہ یادگارحرم میں ہے کوبکو تیری
نہ چھوٹے دامن عبدیت اعظمی ان کا 
اسی سے دونوں جہاں میں ہے آبرو تیری
Exit mobile version